خدا، درد اور زبان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرب، درد، رنج، ملال کتنے نام ہیں دُکھ کی کیفیات کو بیان کرنے کے لیے۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ کیفیتیں، ناموں اور لفظوں سے ماورأ ہوتی ہیں؟ صوفیانہ مؤقف تو یہ ہے کہ ’دُکھ ، نام ہے ناکام حسرتوں کا۔ نہ دِل میں کوئی تمنّا پالو اور نہ دُکھ ہوگا’۔ لیکن یہ قول اُن تمنّاؤں پہ کیسے صادق آئے گا جو اپنی ماہیت میں فکری اور نوعیت میں آفاقی ہوں؟ یا فکری نہ سہی محض بدنی ہو لیکن ناگزیر ہوں، مثلاً شدید جسمانی درد سے آرام کی خواہش کیونکر مٹائی جاسکتی ہے؟ درد ہوگا تو آرام کی خواہش ناگزیر ہے اور دنیا کی کوئی روحانیت اس سے نجات نہیں دلاسکتی۔ برداشت کرلینا اور اتنا برداشت کرلینا کہ درد کی پرواہ ہی نہ رہے یکسر مختلف بات ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آرام کی خواہش بھی مفقود ہوگئی۔ جبکہ میرا سوال جسمانی درد سے متعلق ہے ہی نہیں۔ میں ’’کرب‘‘ کی بات کررہا ہوں۔

کوئی نام نہیں۔ کوئی لفظ نہیں جو انسان کے دل پر گزرنے والی حالتوں کو ویسا ہی بیان کرسکے، جیسی کہ وہ ہوتی ہے۔ ہرکوئی اپنے ساتھ اکیلا ہے۔ تن ِ تنہا ۔ جس کی بات اور کیفیات کو سمجھنے والا دُور دُور تک کوئی نہیں۔ کیونکہ وہ گونگا ہے۔ سننے والوں کے لیے اُس کا ہر لفظ مہمل اور بے معنی ہے۔ سننے والے اندھے اور بہرے نہیں ہیں، بلکہ کہنے والا گونگا ہے۔ اِسی لیے غم و غصّے کا اظہار گالیوں سے کیا جاتاہے۔ رونا، چیخنا، چلّانا اور ماتم کرنا ان میں سے محض چند کیفیات کا جبلی اظہار ہے۔ ہرغم رُلانے والا تو نہیں ہوتا۔ ہر غصہ گالیاں دینے سے ٹھنڈا بھی نہیں ہوتا۔ جیسے ہرخوشی ناچنے، گانے سے ہی مکمل نہیں ہوتی۔یہ کیفیات کا جہان ہے اور کوئی لفظ نہیں، کسی بھی زبان کا جو اُس وقت مہمل نہ ہوجاتاہو جب آپ اپنی کیفیت اور حالت بیان کرنا چاہتے ہیں۔

دکھ درد کا ہونا نہ ہونا میرا موضوع نہیں ۔ اظہار کا پیرایہ میرا مسئلہ ہے۔ میں سمجھتاہوں انسان گونگا ہے۔اور اس اعتبار سےہم سب بالکل اکیلے ہیں۔ میرے ایک دیرینہ دوست شفیق قمر اذراہِ تفنن کہا کرتے تھے کہ،

’’زبان، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا مافی الضمیر چھپانے کے لیے دی ہے‘‘۔ اور یہ بڑی تلخ حقیقت ہے۔ زبان تو حقیقی کیفیات کا سب سے بڑا پردہ ہے۔ ایک بولنے والے شخص سے کہیں زیادہ ایک گونگے شخص کی کیفیات کو سمجھنا آسان ہے۔ بولنے والا شخص تو قلبی واردات تک کو آلودہ کردیتاہے۔

مجھے یوں لگتاہے کہ جب انسان ویرانے میں ہوتاہے تو اس کے آس پاس کوئی ہوتاہے۔ اس وقت وہ اکیلا نہیں ہوتا، لیکن جب انسان شہر میں ہوتاہے تو اس کے آس پاس سب اکیلے لوگ ہوتے ہیں۔ اکیلے اکیلے رہنے والے تنہا تنہالوگ۔
میرا ایک شعرہے،

شہر میں کتنا ڈر لگتاہے
جنگل اپنا گھر لگتاہے

حالانکہ جنگل والوں نے ہی تو شہر آباد کیے ہیں۔لیکن ان بیچاروں کو کیا پتہ تھا کہ اس طرح ہم بالکل اکیلے ہوجائینگے۔ انہیں پتہ ہوتا تو آج بھی انہیں غاروں میں رہ رہے ہوتے، جن میں ایک ساتھ رہتے تھے اور غم ِ تنہائی سے یکسر آزاد ۔ وہ مردوزن کی جنت تھی ۔ پھر وہ زمین میں بس گئے۔ انہوں نے شہر بسائے پاس پاس رہنے کے لیے اور یوں تحفظ خویش کا جذبہ انہیں ’’مشترکہ مفادات ‘‘سے ایک ایک کرکے علحیدہ کرتا اور انفرادی مفادات کا عادی بناتاچلا گیا۔ صدیوں پر صدیاں بیتتی چلی گئیں اور وہ تنہا سے تنہا ہوتے چلے گئے۔انفرادی مفادات انسانوں کو ایک دوسرے سے دور لے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ ناقابل ِ عبور فاصلے درمیان ہوگئے۔

اور اب تو دو صوفوں پر چار لوگ آمنے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے اتنے دور کہ جیسے نوری سالوں کے فاصلے درمیان ہوں۔ زمانے جدید ہوتے چلے گئے اور تنہائی بڑھتی چلی گئی۔ جنگل میں ہماری یہ جو کیفیت ہوتی ہے کہ کوئی آس پاس ہے ، وہ یہاں شہر میں مل ہی نہیں پاتی ۔ شہر میں بلکہ اپنے گھر میں بھی تنہائی کا احساس قائم رہتاہے لیکن ویرانے میں یہ احساس یکسر فنا ہوجاتاہے۔ کوئی پاس آجاتاہے۔ کوئی بہت قریب سے آواز دیتا اورسنتاہے۔ کوئی دل کھول کر باتیں کرتا اورسنتاہے۔ وہ فکری اور ذہنی آزادی جو ویرانے میں میسرآتی ہے کبھی لوگوں میں نہیں مل سکتی۔ کیونکہ لوگ سب اکیلے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور اور الگ۔
کنج تنہائی میں کون پاس ہوتاہے؟ اس کیفیت میں کتنا قرار ہے ۔ کسی کے آس پاس ہونے کا احساس کتنا طمانیت بخش ہے۔شایدہماری دور کسی جھیل کے کنارے بالکل اکیلے رہنے کی آرزو کبھی پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ہم بے بس ہیں ۔ اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔

ہماری بے بسی نے بے یقینی تھام رکھی ہے
ذرا سا اختیار آتا، تو تم پر اعتبار آتا

کوئی بھی تمنّا کیوں ہو؟ فکری یا جذباتی؟ تمنّا ہی سرے سے جرم ہے تو پھر زندگی خود سب سےبڑی مجرم کہلائے گی۔ہرطرح کا صوفیانہ مؤقف بھی خوشی نہیں دلا سکتا کہ وہ جذب کے جس مقام کا طلبگار ہے وہ معاشرے میں ہو یا جنگل میں انسان سے اس کی بشریت چھین لینا چاہتاہے۔تصوف کی مجاہدانہ یا اسلامی قسم، جسے اقبال کے معذرت خواہانہ انداز میں ہم ’’صحیح قسم کا تصوف‘‘ کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہے؟ وہ بھی تو شہر میں لوگوں کے درمیان رہ کر ترکِ دنیا کی تبلیغ ہے۔ بالفاظ ِ دگر یہ کہ سب کے ساتھ مل جل کر رہو اور روز کے روز سَہو۔جنگلوں میں جاکر مجاہدے کرنے والو! شہروں میں رہ کر مصائب کا سامنا کرکے دکھاؤ! وہ سب کچھ روزانہ نہایت کھلے دل سے سہتے رہو! جو معاشرے نے تمہارے لیے تیار کررکھاہے۔بھوکوں کو کھانا کھلاؤ! سب کے ساتھ میٹھا بول بولو! اپنی جسمانی خواہشات پر قابو پاؤ! روزہ ڈھال ہے اور عبادت خواہشات اور فواحش سے روکتی ہے۔ اس کے برعکس ویدانت یانام نہاد عجمی تصوف کہتاہے کہ دنیا تیاگ دو! سب خواہشات کا گلہ گھونٹ دو! ہوسکے تو خود کو اذیت دو! ملامت کا راستہ اختیار کرو!

پتن جلی ’’یوگا‘‘ کا بانی ہے۔قدیم ہندو صوفی اور فلسفی ہے۔اس کی تھیوری یہ ہے کہ ہمارے دُکھ درد کی وجہ ہمارا احساس درد ہے۔ ہمارا حافظہ اور بہترمستقبل کی اُمید اِس احساس کی پیدائش کے موجب ہیں۔ ہمارے دکھ میں ہونے کی وجہ ، ہمارا مستقبل اور ماضی میں رہنا ہے۔ ماضی کی یادیں اور مستقبل کے سپنے انسان کو دکھی کرتے ہیں۔اس نے دکھ سے نجات کے لیے یہ تجویز کیا ہے کہ حال میں رہا جائے۔ لیکن اس کے بارے میں وہ یہ بھی تسلیم کرتاہے کہ حال میں رہنا کسی کے لیے ازخود ممکن نہیں۔ یہ اکتسابی عمل ہے تاوقتیکہ فرد ذہنی طور پر غبی نہ ہو۔اس لیے پتن جلی یوگا تجویز کرتاہے اور کہتاہے کہ یوگا میں آپ اپنی مرضی سے پوری کوشش کرتے ہوئے خود کو مستقبل کے سپنوں اور ماضی کے خیالات سے باہر نکالنے کی مشق کرتے ہیں۔یوگا کے ذریعے حال کے لمحہ ٔ موجود پر اس قدر توجہ مرکوز کرو! کہ مستبقل کی ٹائم لائن بھی سُکڑ کر زیرو پر آجائے اور ماضی کی بھی۔تب، وہ کہتاہے کہ تم حال میں داخل ہوسکتے ہو۔

لیکن اگر بہتر مستقبل کی اُمید دل سے نکال دی جائے یا ماضی کو یکسر فراموش کردیا جائے تو پیچھے کیا بچتاہے؟ فقط ایک ایسا مجذوب جسے اپنے حال کے سوا کسی چیز کی کچھ خبر نہیں۔ وہ اپنی شناخت تک سے واقف نہیں۔ وہ خوش ہے، یہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسے ماضی کا کوئی غم یاد نہیں اور مستقبل کی کوئی فکر نہیں لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی حالتِ جذب حقیقی مسرت یا اس کا متبادل ہے۔پتن جلی کا نسخہ کہ لمحۂ موجود میں رہنے کی کوشش کرو! کمال لیکن محال ہے۔ مان لیا کہ لمحۂ موجود میں رہنا ہی دُکھ درد سے نجات کا باعث ہے لیکن پھر یہی لمحۂ موجود میں ہروقت کا رہنا کلیۃً مجذوبانہ فعل ہے۔ ایسا انسان جو ہروقت لمحۂ موجود میں، موجود ہو وہ دنیاؤ مافیہا سے اس قدر بے خبرہوجاتاہے کہ اسے ہم قانون سے ماورأ اور مرفوع القلم کہتے ہیں۔

میری دانست میں انسان کا سب سے بڑ المیہ سوسائٹی کا وجود ہے۔وہ سوسائٹی کے بغیر سروائیو نہیں کرسکتا۔ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا، اُسے دوسروں کے ساتھ رہنا پڑتاہے اور یہی ضرورت، تمام ضروریات کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔ تمام ضروریات، یعنی تمام خواہشات اور تمنّائیں۔ گویا معاشرہ ہی دُکھ کی بنیاد ہے۔انسان سمجھتاہے کہ وہ معاشرے میں رہ کر اکیلا نہیں رہیگا۔ اور یہیں سے اس کے دھوکے کی ابتدا ٔ ہوتی ہے۔ میں تو سمجھتاہوں کہ انسان بہت اکیلا ہے۔ اس بیچارے کو اکیلا پن دور کرنے کے لیے سوسائٹی کے دھوکے سے نکلنا چاہیے۔ جنگل میں اس کا اکیلا پن دور ہوسکتاہے۔ کیونکہ فی الاصل مذہب سے لے کر ریاست اور ثقافت سے لے کر خاندان تک بھانت بھانت کے قوانین کی بہتات اور ہزاروں سال کی تہذیب کا بوجھ ہی انسان کا سب سے بڑا دُکھ ہے؟ انسان بنیادی طور پر غمزدہ مخلوق ہے۔ علاقہ اقبالؒ نے اپنے خطبات میں لکھا ہے، ’’موت و حیات کی کشمکش اور قوائے فطرت کے سامنے بے بسی کی وجہ سے اپنے غم کو پیرایۂ اظہار دینے کے لیے انسان نے قصۂ آدم و حوّا کا سہارا لیا‘‘۔ انسان ایک غمزہ مخلوق ہے کیونکہ وہ اپنی حدود اور بے بسی کو سمجھتاہے۔ یہ فطرت کا خودکار نظام ہے ، شاید اس لیے کہ وہ مسلسل اس (غم) سے نکلنے کے لیے تگ و دو کرتا رہے۔

فلسفۂ لذت کے مفکر گرورجنیش المعروف اوشو نے بھی تو ویدانت ہی کا راستہ ذرا مختلف طریقے سے اختیار کیا۔ اس کے ہاں حال میں مست رہنے کا فلسفہ تو وہی رہا لیکن اس مستی کے حصول کو جدید افکار کے ساتھ متوازن کی کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب وہ یہ نہیں کہتا کہ حال میں رہنے کے لیے دنیا اِس طرح ترک کرو کہ کوئی خواہش ہی نہ رہے۔ بلکہ وہ کہتاہے کہ ’’لمحۂ موجود‘‘ کے حصول کا وقت ہی وہی ہے جسے ہم جنسی عمل کے دوران ’’وقتِ انزال‘‘ کہتے ہیں۔ اپنی کتاب ’’کاما ٹُو راما‘‘ میں اُس نے اسی موضوع پر بے شمار دلائل دیے ہیں۔ جن کا انداز سراسر متصوفانہ ہے۔

علامہ اقبالؒ نے اُس جنت کو بھی ’’مفروضہ حالت‘‘ قرار دیاہے جہاں سے ہم نکل کرآئے ہیں۔ اور اس کی وجہ بھی علامہ نے وہی بتائی ہے کہ چونکہ انسان دکھ درد سے مایوس تھا سو اس نے اپنے ماضی کو ایک مفروضہ جنت سے یادگار بنا دیا تاکہ بہتر مستقبل (جنت) کی اُمید میں کم ازکم جینے کے قابل ہوسکے۔

تو نتیجہ کیا نکلا؟ دکھ درد ہے؟ اگر ہے تو اس کا مداوا کیسے ہو؟ اُمید ِ محض سے؟ یا ترکِ دنیا سے؟ ترکِ دنیا کونسا؟ شہر میں رہ کر؟ یا جنگل میں جاکر؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لذتوں کو اختیار کرکے یا لذتوں کو ترک کرکے؟ ماضی اور مستقبل سے بے نیاز ہوکر؟ یا ماضی کے غموں کو سینے سے لگائےآنے والے کل کی سہانی آسوں اور اُمیدوں سے؟

انسان کے غم کا مداوا کسی شئے میں نہیں۔ کیونکہ یہ اپنی اصل میں تنہائی کا غم ہے۔ اس پوری کائنات میں ایک اکیلا ’’میں‘‘۔ میں جو اپنے دل کا حال کسی سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے پاس الفاظ نہیں۔

ہم اپنے حصے کا سارا ثواب جھیلتے ہیں

ہم اپنے حصے کا سارا ثواب جھیلتے ہیں
جو لفظ لکھتےہیں اُس کا حساب جھیلتے ہیں

ابھی بھی حُورو شرابِ طہُور کی خاطر
بہت سے لوگ بہت سا عذاب جھیلتے ہیں

غنی، غنی ہے جو تعبیر بَن برستا ہے
کہ ہم غنی ہیں جو خوابوں کے خواب جھیلتے ہیں

یہ کیسے لوگ ہیں دو پل بھی خوش نہیں رہتے
شراب پیتے ہیں اور پھر شراب جھیلتے ہیں

یہ عہد اور یہ عادت زباں درازی کی
سوال کرتے ہیں لیکن جواب جھیلتے ہیں

جو ڈُوب جاتےہیں صحرا میں آن کر دَریا
سمندروں کی طلب میں سراب جھیلتے ہیں

کچھ اِس لیے بھی کسی بات سے نہیں واقف
ہمارے عہد کے بچے نصاب جھیلتے ہیں

وہ پھول پھول پہ لکھا دکھائی دیتاہے
جو انتظار کا موسم گُلاب جھیلتے ہیں

ادریس آزاد

جذبۂ حب الوطنی اور پاکستانی قوم

میں سمجھتاہوں کہ سکولوں میں دہشت گردی کے خوف سے صبح کی اسمبلی ختم کرنا، جذبۂ حب الوطنی کے خاتمے کی ایک سکیم کے سوا کچھ نہیں۔آپ سوچیں! ہر روز صبح کے وقت، پرائمری سکولوں، مڈل سکولوں ، ہائی سکولوں اور کالجوں اور ڈگری کالجوں میں اسمبلی ہوا کرتی تھی، جس میں’’ لبِ آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری‘‘ اور ’’پاک سرزمین شادباد! کشورِ حسین شادباد!‘‘ بطور دعاکے پڑھاجاتاتھا۔ بچے صبح صبح یہ گیت گاتے اور پھر اپنے تعلیمی دن کا آغاز کیا کرتے۔ اب ذرا سوچیں کہ جس طرح پورے ملک کے ہرسکول میں سے ایک پاکستانی کی تربیت کا یہ عظیم سلسلہ بند کردیا گیا ہے تو اس کے نتائج آنے سالوں میں کس طرح سے ظاہر ہونگے، یعنی بچی کھچی حب الوطنی کا مکمل خاتمہ ممکن ہوجائےگا۔

جذبۂ الوطنی کسی بھی قوم کے قائم رہنے کا واحد اکسیر نسخہ ہوتاہے۔ اس کے سوا کوئی اور نسخہ وجود ہی نہیں رکھتا۔میں نہیں سمجھتاکہ کوئی پاکستانی کبھی اُن پاکستانیوں سے زیادہ خوش نصیب ہوسکتاہے جنہوں نے ستر کی دہائی بقائمی ہوش و حواس گزاری ہے۔انڈیا آج تک ہماری ستّرکی دہائی کی نقول کے سہارے ’’قوم ‘‘بنا پھرتاہے۔ دنیامیں قوم کوئی بھی نہیں۔ اگر کوئی قوم ہے تو وہ ’’امریکی‘‘ قوم ہے اور اگر کوئی قوم تھی تووہ پاکستانی قوم تھی۔ باقی سب تو ایک فیکٹری کے مزدور ہیں۔ نیندر لینڈ کومیں کیسے جنّت مان لوں جہاں تبلیغی جماعت والوں کی طرح محض نقالی کی سنّت کی بنا پر سمجھا جاتاہے کہ بس خوشی حاصل کرلی گئی ہے۔ وائیکنگز کا لباس پہن کر ناچ لیا۔ بچوں کو ہسٹری معلوم ہوگئی۔ ویل اینڈ گُڈ! میں ڈنمارک اور ناروے اور جاپان اور چین اور انڈیا کو کیونکر قوم سمجھوں جہاں زندگی کی کوئی شکل ، زندگی کی شکل نہیں۔ زندہ قوم کس کو کہتے ہیں یہ جاننے کے لیے بھی زندہ ہونا ضروری ہے۔ آج سکنڈے نیویا کے ممالک کی مثال دی جاتی ہے۔ ایسی ہی اقوام کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ’’حد سے زیادہ بڑھا ہوا نظم وضبط بھی کسی قوم کے مُردہ ہونے کی دلیل ہے‘‘ (تشکیل)۔اگر آپ کے آس پاس موجود ہیں تو ستّرکی دہائی والے پاکستانیوں سے پوچھ کر دیکھیں کہ قوم کسے کہتے ہیں۔ بھٹو صاحب کا دور تھا۔ امریکی جنرل اسمبلی میں پاکستانی لیڈر کی قابلیت اور شجاعت کے چرچے تھے۔ دنیا بھر کے تمام سربراہ، آتے تو راستے بھر سوچتے ہوئے آتے کہ پاکستانی قوم کا لیڈر ’’بھٹو‘‘ بھلا اس مرتبہ کیا کہتاہے۔ ساری دنیا کی نظریں پاکستان کی تیز رفتارترقی پر ہوتیں۔ کون سا میدان تھا جس میں یہ قوم بطور قو م کے نہایت تیزی سے آگے نہ بڑھ رہی تھی۔1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کاانعقاد دنیا بھر کے لیے آج تک ایک بہت بڑے تاریخی واقعے کی حیثیت رکھتاہے۔ اسی کی نقل پر یورپین یونین وجود میں آئی اور اسی کی نقل پر دنیا میں کئی دیگر اقوام نے اپنی متعلقہ برادریوں کو پہچاننا شروع کیا۔ میں سمجھتاہوں اگر بھٹو کی اسلامی سربراہی کانفرنس نہ ہوئی ہوتی تو سیموئل پی ہنٹنگٹن کی کتاب’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ بھی نہ لکھی گئی ہوتی۔

ہم آج تک ستّر کی دہائی کی بعض بچی کھچی کمائیاں کھارہے ہیں۔ غالباً آج تک ہاکی کے سب سے زیادہ ورلڈ کپس پاکستان کے پاس ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ستّرکی دہائی کے آغاز میں ہم سے بنگلہ دیش الگ ہوا تھا لیکن اگر مُکتی باہنی کے قاتلوں اور یحیٰ خان کی فوج کی مظالم کے واقعات پیش نہ آئے ہوتے اور بنگلہ دیشن کسی انسانی طریقے سے علحیدہ ہوجاتا تو یہ کوئی بُری بات ہرگز نہ تھی۔ پاکستان کی سرزمین جس طرح سے وجود میں آئی یہ صرف ایک انسان کی شدید ترین غلطی کا نتیجہ تھا۔ قائدِ اعظم نے دانستہ یا نادانستہ اپنی دانائی کااستعمال جس قسم کا پاکستانی جغرافیہ بنانے کے لیے کیا تھا وہ دانائی نہیں تھی۔ قائدِ اعظم کو ایسا پاکستان بنانے سے منع کرنے والوں کی تعداد کم نہ تھی لیکن دلّی اور کلکتہ کو پاکستان میں نہ لینا سے لے کر بنگال کو ایسے طریقے سے لینا کہ بیچ میں پورا ہندوستان پڑتا تھا، کوئی دانشمندانہ فہم ِ جغرافیہ نہیں تھا۔ آپ سوچیں! اِس طرف ہم تھے، ہمارے بعد پورا ہندوستان تھا اور پورا ہندوستان عبور کرنے کے بعد بنگال تھا۔انڈیا کے ساتھ تو ہمیشہ ہماری دشمنی رہتی تھی چنانچہ ہمیں بنگال جانے کے لیے زمینی اور آسمانی دونوں راستے دستیاب نہیں تھے۔ ہم صرف سمندر کے راستے سے اپنے دوسرے حصے کے پاکستان جایا کرتے ہیں۔ ایسے کہاں بنتے ہیں ملک؟ سمندر میں بھی آئے روز ہندوستانی بحری جہازوں سے مُڈھ بھڑ ہوتی اور بنگال تک ہمارا سفر کبھی پُرسکون نہ ہوا کرتاتھا۔ ایسا تھا اکہتر سے پہلے کا پاکستان۔ یہی وجہ تھی کہ ابولکلام سمیت کانگریس کے کئی لیڈروں، علامہ عنایت اللہ المشرقی اور دیگر کئی ماہرین نے پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی کہ یہ دونوں حصے جلد ہی ایک دوسرے جدا ہوجائینگے اور وہی ہوا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ اکہتر میں عملی طور پر نظریہ ٔ پاکستان کی موت واقعہ ہوگئی تھی۔ پاکستان میں اے این پی کے بابا، باچا خان اور انڈیا کی اُس وقت کی سربارہ اندرا گاندھی نے تقسیم کے اگلے دن ہی عین یہی بیان دیا تھا، ’’آج نظریہ پاکستان ختم ہوگیا‘‘۔ نظریہ پاکستان یہ تھا کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور اس کی بنیاد زمینی ٹکڑوں پر نہیں رکھی گئی بلکہ ایک مذہب پر رکھی ہے ۔ بنگالی مسلمان تھے لیکن پاکستان وطن کی بنیاد پر ٹوٹ گیا تو یہ طعنہ دینے والے بالکل بھی غلط نہ کہہ رہے تھے۔

خیر! نظریہ پاکستان کو سمجھنے میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ پہلی قسم الطاف حسین حالی اور اکبر الہ آبادی کو پڑھنے والی نسل ہے جو آج تک اقبال کے نیشنل خیالات کو اپنے انداز میں بیان کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اقبال ’’مذہبی ریاست‘‘ کا خواب دیکھ رہا تھا۔ ان کی اسی ناسمجھی کی وجہ سے سب مخالفین اقبال ، اقبال کو ’’طالبان‘‘ کا اصل بانی سمجھتے ہیں۔ جبکہ اگر کسی نے اقبال کا مضمون ’’قومی زندگی‘‘ پڑھ رکھا ہے تو وہ ضرور یہ مقامات بھی پڑھ چکاہوگا جس میں اقبال نے نہایت، نہایت وضاحت سے بتایا کہ دلّی کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہم مسلمان بے گھر ہوگئے ہیں اور ہمارا حال بالکل یہودیوں جیسا ہوچکاہے جو صدیوں سے بے گھر ہیں۔ ایران کے مسلمان ایرانی مسلمان ہیں، مصر کے مسلمان مصری مسلمان ہیں، شام کے مسلمان شامی مسلمان ہیں لیکن ہم خود کو انڈین مسلمان نہیں کہہ سکتے کہ اب اس ملک کی بڑی آبادی ہندوؤں کی ہے ۔ اقبال کے اسی مضمون میں نہایت وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ ہمیں صرف گھر کی ضرورت ہے جہاں ہم جو اتنی بڑی اقلیت ہیں اپنی اکثریتی رائے کا اظہار کرسکیں، جیسے ایرانی ، مصری، شامی مسلمان کرتے ہیں۔

یہ بالکل ایسی بات ہے جیسے انڈیا سے سِکھوں کا ہمیشہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں الگ ملک بنانے دیا جائے جس کا نام ہوگا ’’خالصتان‘‘۔ سکھ جب بھی ایسا ملک بنائینگے تو کیا وہ ایک مذہبی ریاست ہوگا؟ بالکل بھی نہیں۔ پاکستان کو مذہبی ریاست اور خلفائے راشدین کے نظام کے نعرے دینے والے اپنے وقت میں اقبال سے نفرت کا رشتہ رکھتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کو ہائی جیک کیا اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

میں بتا رہا تھا کہ ستّر کی دہائی کا واحد دُکھ جو ایک لحاظ سے سب سے بڑا صدمہ ہے لیکن دوسرے لحاظ سے بالکل ٹھیک ہوا تھا۔ پاکستان ویسی صورت میں قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ بنگلہ دیشن کو بننا تھا اور بننا چاہیے تھا۔ جونہی یہ معاملہ ختم ہوا۔ پاکستان کے قیدی فوجی واپس گھروں کو لوٹ آئے۔ اِس طرف کے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ترقی کی دوڑ شروع ہوئی ، عین اسی وقت اُس طرف کے پاکستان یعنی بنگلہ دیشن میں شیخ مجیب الرّحمان، بنگال کے سب سے بڑے لیڈر، کی قیادت میں ترقی کی دوڑ شروع ہوگئی۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو بہت تیزی سے پاکستان کا معیارِ زندگی اور فکری رجحان بلند کررہا تھا۔ بھٹو کا شیخ مجیب الرّحمان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ بلکہ بھٹو تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سب سے آگے جانے والوں میں سے تھا۔ کسی بھی ملک کی حالتِ اضطراب دیکھنا ہو تو اس کے کلچرل ایونٹس کو دیکھنا ہوتاہے۔ پورا پاکستان ستّر کی دہائی میں کس قدر کلچرل تھااس کا اندازہ لگانا آج چنداں مشکل نہیں۔آج آپ کے پاس یوٹیوب دستیاب ہے، جائیں اور ستر کی دہائی کی چیزیں دیکھیں۔ آپ رونے بیٹھ جائینگے۔ منور ظریف کی ایک فلم ’’خوشیا‘‘ میں چودہ اگست کا دن اور جشنِ آزادی کی تقریبات دکھائی گئی ہیں۔ بھٹو کے سٹیڈیم میں آنے سے لے کر پورے سٹیڈیم کے ایک ایک کردار کو دیکھیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ فلم خوشیا میں ریکارڈ کیے گئے حقیقی جشنِ آزادی کی اُس تقریب سے بڑھ کر پاکستان میں کبھی جشنِ آزادی منایا جاسکاہے۔ سٹیج پر بھٹو کے سامنے نورجہان خود گارہی ہیں، ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے‘‘۔ نیچے سٹیڈیم میں جو لوگ اونٹ گاڑیوں پر قافلہ در قافلہ گزر رہے ہیں، ان میں ہر شعبہ کے نمائندے موجود ہیں۔ دہقانوں سے لے کر اداکاروں تک سب لوگوں کے قافلے گزر رہے ہیں۔ پنجابی کی فلم ہے،ندیم اور محمدعلی اور وحید مراد کا کیا کام؟ لیکن یہ غالبا واحد فلم ہے جس میں اس وقت کے تمام اداکار دکھائی دیتے ہیں۔ محض جشنِ آزادی کی وجہ سے۔ قدر آور ادکار محمد علی نے آگے آگے پاکستان کا پرچم اُٹھا رکھاہے اور سب اداکار ان کے پیچے پیچے کھلی گاڑیوں پر کھڑے ناچ رہے ہیں، گار ہے ہیں۔ صرف ایک یہ ویڈیو نہیں، آپ ایک سے ایک تقریب دیکھیں گے اور آخر میں میری طرح رو پڑینگے۔

میں نے شروع میں کہا کہ سکولوں سے اسمبلی نکالی گئی گویا پاک سر زمین شاد باد نکالا گیا۔ یہ صرف ایک دو دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے نہیں کیا گیا یہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ صرف اسمبلیوں پر ہی کیوں موقوف ہو؟ کیا آج کوئی ایسا پاکستانی ہے؟ جو اُسی ذوق و شوق سے سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتاہوجس ذوق اور جوش و خروش سے ہمارے دو ر کے لوگ سرکاری ملامت کو اہمیت دیتے تھے؟ اپنے آس پاس نظر تو دوڑائیں، کوئی بھی پاکستانی نہیں چاہتا تھا کہ سرکاری ٹیچر بنے،سب این جی اوز سیکٹر میں جانا چاہتے ہیں۔ایک زمانہ تھا سرکاری نوکری لوگوں کا خواب ہوتا تھا ۔سرکاری نوکری کیا ہوتی ہے؟ اپنی حکومت کی خدمت، اپنے عوام کی خدمت، اپنے لوگوں کی خدمت بطور فردِ قوم۔ اور پرائیویٹ نوکری کیا ہوتی ہے؟ اپنے مالک کی خدمت، کارپوریٹ کلچر کی خدمت، سامراج کی خدمت۔ مجھے تو ایک زمانہ کُشتی کا بھی یاد ہے ، بے نظیر آتیں تو وہ سارے اداروں کو نیشنلائز کردیتیں تاکہ سارے ادارے قومی ہوجائیں۔ نوازشریف آتا تھا اور سارے اداروں کو پھر سے پرائیویٹائز کردیتا تھا تاکہ کوئی ادارہ قومی اثاثہ نہ رہے۔ بڑی بڑی توندوں والے سیٹھ قومی اداروں کے مالک بن جائیں اور جتنا لوٹ سکتے ہیں دوہتھڑ لوٹیں۔ بے نظیر کون تھی؟ اُسی بھٹو کی بیٹی تھا نا جس نے پاکستانی قوم کا سراُونچا کیا تھا؟ سارے شاہدین(گواہ) اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بے نظیر وہ آخری لیڈر تھی جسے پوری قوم کا مشترکہ لیڈر مانا جاتا ہے۔ بلکہ’’ چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بےنظیر‘‘ کے نعرے لگائے جاتے تھے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد ایک بھی قومی لیڈر نہیں بچا۔ کوئی پنجابیوں کا لیڈر ہے ، کوئی مہاجروں کا، کوئی پشتونوں کا ، کوئی سندھیوں کا، کوئی فوجیوں کا نمائندہ ہے تو کوئی ڈائریکٹ کسی اور ملک کا۔

کس کو یاد نہیں کہ بھٹو کے دور میں ہمارے کالجوں میں فلسفہ اور منطق بطور مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ یقین کریں خوشاب جیسے چھوٹے شہر کے کالج میں باقاعدہ فلسفے کا پروفیسر موجود تھا۔ جب میں ایف ایس سی کررہا تھا تو اس وقت آرٹس والوں کے لیے گیارھویں میں منطق کی کتاب جو اردو میں لکھی ہوتی تھی اور بارھویں میں فلسفہ کی کتاب جو اردو میں لکھی ہوتی تھی،پڑھائی جاتی تھی۔ اس وقت کسی دوست طالب علم سے لی ہوئی دونوں کتابیں آج بھی میری لائبریری میں موجود ہیں۔ اور اب پوچھیں اپنے آس پاس بیٹھے نوجوانوں سے کہ کیا فلسفہ کا مضمون کسی بھی کالج میں موجود ہے؟ کالج کیا کسی بھی یونیورسٹی میں موجود ہے؟ کیوں نہیں موجود؟ کیوں کہ فلسفہ اور منطق سے آپ کا ذہن منطقی ہوجاتاہے ، آ پ سوال کرنا سیکھ جاتے ہو۔ تشکیک کا فن آجاتاہے اور یہ بات سامراج کی کٹھ پُتلی ضیاالحق کو کیسے گوارہ ہوسکتی تھی۔ بالکل ایسے جیسے آج سکولوں سے اسمبلیاں ختم کردی گئی ہیں ایسے ہی فلسفہ اور منطق کو نکال کر باہر پھینک دیا گیا تھا۔

کتابیں چھپتی تھیں لو گ پڑھتے تھے۔ ڈائجسٹس، اخبارات، رسائل۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ دور بدل گیا ہے ا ور لوگ کمپیوٹر پر پڑھتے ہیں اس لیے کتابیں نہیں رہیں تو یہ بات ’’بُل شِٹ‘‘ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پوچھیں اپنے ان فرینڈز سے جو مغربی ممالک میں ہوتے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو ہم سے زیادہ انٹرنیٹ موجود ہے پھر وہاں کتابیں آج بھی پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں کیوں شائع ہوتی ہیں۔ ارے وہ لوگ تو ٹرینوں میں سفر کے دوران آج بھی کتابیں پڑھتے نظر آتے ہیں۔ کتاب سے رشتہ کاٹ دیا گیا۔ اور سب کو موبائل تھما کر کہا گیا کہ یہ جدید میڈیا ہے اور آپ کی شدید ضرورت ہے۔ یہیں سے سب علم حاصل کرو!

مملکتِ خدادا پاکستان ضیاالحق کی آمد کے پہلے دن ہی ختم ہوگیا تھا۔ اب جہاں ہم رہتے ہیں یہ کوئی ملک نہیں ہے ۔ یہاں تو ہم اپنے بچوں کو گھر میں ایسے قید رکھتے ہیں جیسے باہر یورینیم گیس پھیل چکی ہو۔ جان بوجھ کر انہیں مصروف رکھنے کے لیے کمپیوٹر پر گیمیں کھیلنے پر لگا دیتے ہیں کہ اللہ کرے بچے گھر سے قدم باہر نہ نکالیں۔ یہ کیسی جگہ ہے؟ جہاں بچے کھیلنے کے لیے گھروں سے نکل ہی نہ سکیں؟ اور سکولوں میں جو امن موجود ہے اُس کی کتنی ہی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں ٹیچروں کی بجائے گدھے جمع کردیے گئے ہیں جو دیوانہ وار ٹیوشنوں کے لیے سکول کے بچوں کے درمیان تفریق کا رشتہ رکھتے اور اخلاقی طور پر انہیں نیچے سے نیچے گراتے چلے جاتے ہیں۔ سکول تو اب ٹیوشنوں کی منڈیاں ہیں۔ نمبروں کی دوڑ ہے لیکن ہر بچہ جومیٹرک میں 1050 نمبر لے کر بھی پاس ہورہاہے، ایٹم کا سٹرکچر تک نہیں جانتا۔ کَکھ نہیں پتہ اِن نام نہاد ٹاپرز کو۔ ککھ بھی۔ ایک بھی بچہ ، ذرا سا بھی سینس نہیں رکھتا کہ اس نے جو پڑھاہے وہ کیا ہے۔ پھر یہ نمبروں کی دوڑ حاجیوں کی دوڑ ہی ہوئی نا۔

ابھی کل چودہ اگست تھی، سارا دن ٹی وی پر ملی نغمے چلتے رہے۔ میں اپنی بیگم سے کہہ رہا تھا کہ اِتنے سالوں میں یہ لوگ ایک بھی نیا ملی نغمہ نہیں لکھ سکے۔ ایک بھی۔ میں پھر دہراتاہوں، ایک بھی نغمہ نہیں لکھ سکے۔ پاس ریاض کھڑا تھا اس نے کہا، ’’دل دل پاکستان لکھا گیا تھا‘‘۔ میں نے کہا اُسے تم ستر کی دہائی کے نغموں کا ہمہ پلہ سمجھتے ہو؟ چالیس سالوں سے جو بھی جشن ِ آزادی آتاہے، ٹی وی پر ستر کی دہائی کے نغمے ہی بجتے سنائی دیتے ہیں۔’’اے وطن پاک وطن! ‘‘، ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے!‘‘، ’’یہ دیس ہمارا ہے، اسے ہم نے سنوارا ہے‘‘، ’’اے وطن کے سجیلے جوانو! میرے نغمے تمہارے لیے ہیں(سکٹیز)۔ وغیرہ۔ آپ نے غور کیوں نہیں کیا؟ ایسا کیوں نہیں ہے کہ کوئی نیا نغمہ گایا جائے؟ اس لیے کہ کوئی نیا نغمہ لکھا ہی نہیں گیا۔کون لکھے؟ کون سا شاعر ہے جو ضیاالحق کے تاریک ترین سکولوں سے نکل کر نہیں آیا۔

ضیاالحق سے پہلے کا پاکستان، ایک رومینٹک پاکستان تھا۔بارش ہوتی تھی تو ایک خاص قسم کی ترنگ ہر دِل میں اُمڈنے لگتی تھی۔ لوگ ساون کے گیت سنتے تھے۔ روایات زندہ تھیں۔ احساسات زند ہ تھے۔ مجھے راشدہ ماہین ملک کی ایک دوست سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام لیلیٰ ہے۔ وہ ناسٹیلجیا کی پیشنٹ ہیں اور آج بھی زیبا اور محمد علی کے دور میں رہ رہی ہیں۔ ان کی باتیں سن کر ، سننے والا بھی رو پڑتاہے۔ ان کے پسندیدہ گانے، ان کے خیالات، ان کے سپنے، سب کچھ آج بھی زندہ ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتیں کہ ان کے آس پاس پاکستان بدل چکاہے۔ بالکل ہی بدل چکاہے۔

ضیاالحق نے صرف اسلام کا ہی بیڑا غرق نہیں کیا۔ پاکستان کو بھی غاروں کے دور میں پہنچایا ہے۔ احمدیوں نے ایک ویڈیو بنائی ہے۔ دیکھنے لائق ہے۔ یوٹیوب پر موجود ہے۔ مجھے اب اس کا لنک ڈھونڈنا پڑیگا۔ اس میں انہوں نے دو پاکستان دکھائے ہیں، ایک ضیاالحق سے پہلے کا پاکستان اور دوسرا ضیاالحق کے بعد کا پاکستان۔ ہر ہر منظر پر آنسو نکل آتے ہیں۔ ضیاالحق سے پہلے کا پاکستان ایک جیتا جاگتا پاکستان تھا۔ ناچتا گاتا پاکستان۔ ایک زندہ قوم کا پاکستان۔اسی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ضیا سے پہلے ، مولوی کا چہرہ تک ٹی وی پر نظر نہیں آتا تھا۔لیکن ضیالحق کے بعد ٹی وی اینکرز تک مولوی بن گئے۔ کیا دورِ حاضر کے پاکستان میں جعلی ڈاکٹر عامر لیاقت سے بڑی کوئی خباثت اور لعنت بھی وجود رکھ سکتی ہے؟

لیکن یہ سب کچھ کیوں ہوگیا؟ پاکستان ویسا کیوں نہ رہا؟ کیا اس کی ذمہ داری صرف ایک شخص یعنی ضیاالحق پر عائد کی جاسکتی ہے؟

کچھ وجوہات تو میرے مندرجہ ذیل مضمون سے آپ کو مل جائینگی ۔ لیکن میری خواہش تھی کہ اس بات کی تفصیل بتاتا کہ امریکہ نے کس طرح افغانستان میں مداخلت کی جس کے نتیجے میں روس نے افغان حکومت کی درخواست پر وہاں اپنی فوج بھیجی اور باقی سب کچھ اس کے بعد ہوا۔ بہرحال سردرست تو یہی مضمون ہی پڑھ لیں جو دراصل طالبان اور وزیرستان کے لوگوں پر لکھا تھا۔ لنک یہ ہے،

https://www.facebook.com/idreesazaad/posts/10203458089599793

ادریس آزاد

7داستان گو……. قسط نمبر

ناول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تختِ جمشید اب دوبارہ آباد تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ اِس پراب جامِ جَم والا جمشید نہیں بلکہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی دو مغنیائیں براجمان تھیں۔قدیم انسانوں کی عظمت و ہیبت کا یہ نمائندہ آج بھی اُتنا ہی بلندوبالا اور وسیع و عریض تھا۔ تختِ جمشید کے سامنے تقریب کے حاضرین گاؤ تکیے لگائے، بیٹھے آپس میں گپیں ماررہے تھے۔ یہ سارا علاقہ ایک مانومینٹ تھا۔550 تا 330 قبل مسیح کے عرصہ میں تختِ جمشید ، ایرانی بادشاہوں کی ایک نسل ’’ہخامنشیوں‘‘ کا سرمائی پایۂ تخت تھا۔ تاریخ میں اِس شہر کو ’’پرسی پولس‘‘ بھی کہا جاتاتھا۔330 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے ’’دارا سوم‘‘ کو شکست دے کر اس شہر کو آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے یہاں اب بھی جلے ہوئے کھنڈرات تھے۔تختِ جمشید اتنا بڑا تھا کہ اس کی نشست پرداریوشِ اعظم کے دور کےمحل ’’قصر ِتاچارہ‘‘ کے کھنڈرات اب بھی موجود تھے۔ قصرِ اَباتانہ کے کھنڈرات بھی تخت کی نشست پر ہی تھے۔ آج کی تقریب تخت کی نشست کے سامنے کے کنارے پر منعقد ہورہی تھی۔ سٹیج پر جو لوگ بیٹھے تھے اُن کے عقب میں دونوں عظیم محلّات کے کھنڈرات آج بھی ا پنے رعب اور طمطراق کا مظاہرہ کررہے تھے۔قدیم محلات میں یوں تو روزانہ ہی چراغاں ہوتا تھا لیکن آج بطور خاص پورا تختِ جمشید پوری طرح روشن تھا۔

سٹیج پر ایک دبیز قالین بچھا تھا جس پر چاروں طرف بہت سے لوگ گاؤ تکیے لگائے حاضرین کے سامنے بیٹھے تھے۔ ابھی تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ سٹیج پر دائیں طرف دو تکیوں کے ساتھ ٹیک لگائے وہ دونوں مغنّیائیں بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔ یہ دونوں جوان العمر خواتین تھی۔ جو’’ بِنادم ‘‘ برادری کی انسان تھیں یعنی جنہیں دوبارہ اُٹھایا گیا تھا۔ یہ دونوں مغنیائیں اپنے وقت کے ایک ملک پاکستان میں ہوگزری تھیں۔ایک مغنیہ نہایت زرق برق لباس میں ملبوس تھی جبکہ دوسری نے بہت سادہ کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ زرق برق لباس والی مغنیہ نے سادہ لباس والی مغنیہ سے مخاطب ہوکر کہا،

’’باجی! میں آپ کی دیوانی تھی۔آپ کی ہرغزل، ہر گیت مجھے زبانی یاد تھا۔ میں نے اپنی داستان تو آپ کو سنائی ہے نا۔ میں تو ایک طوائف تھی اور صرف اپنے گاہکوں کے لیے گاتی اور ناچتی تھی لیکن آپ تو پوری دنیا میں مشہور تھیں ۔میں آپ کی غزلیں گاتی تھی زیادہ تر اور ایک وہ گیت‘‘

زرق برق لباس والی مغنیہ نے ’’وہ گیت‘‘ کہہ کر سادہ لباس والی مغنیہ کی نظروں میں تجسس تلاش کرنے کی کوشش کی تو سادہ لباس والی مغنیہ مسکرا دی اور کہنے لگی،

’’پگلی تم مجھے پہلے بتاچکی ہو۔تم مجھے تقریباً ساری باتیں بتا چکی ہو ۔ بس صرف یہ نہیں بتایا کہ تمہاری موت کیسے واقع ہوئی تھی؟‘‘

سادہ لباس والی مغنیہ نے پھر وہی سوال کردیا جو وہ زرق برق لباس والی مغنیہ سے کئی دن سے کرتی آرہی تھی۔ زرق برق لباس والی مغنیہ نے پھر وہی بات کی،

’’نہیں باجی! آپ کو مجھ سے نفرت ہوجائے گی۔ مجھے ڈر لگتاہے‘‘

’’نفرت ہوجائے گی؟ کیا مطلب؟ یہاں کوئی کسی سے نفرت نہیں کرتا پگلی‘‘

زرق برق لباس والی مغنیہ سوچ میں پڑگئی۔ اس نے سرجھکا لیا۔ کچھ دیر یونہی بیٹھی رہی اور پھر گویا ہمّت کرکے کہنے لگی،

’’باجی! میری موت ایڈز سے ہوئی تھی۔ میں طوائفہ تھی نا تو مجھے ایڈز ہوگیا‘‘

یہ سن کر سادہ لباس والی مغنیہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا،

’’اوہ! ‘‘

لیکن ساتھ ہی سادہ لباس والی مغنیہ نے اِس ڈر سے کہ زرق برق لباس والی مغنیہ اِس ’’اوہ‘‘ سے بھی غمزدہ نہ ہوجائے، فوراکہنا شروع کردیا،

’’کوئی ایڈز سے مرگیا یا قوم اور ملّت کے لیے شہید ہوگیا، آج یہاں سب برابر ہیں۔ اگر کسی بات کی اہمیت ہے تو فقط اِس بات کی کہ آپ کا پرسنٹیج کیا ہے۔ تم میری بہن ہو۔ ہم دونوں خوش قسمت ہیں کہ ہم اب دوبارہ زمین پر ہیں اور اپنے لوگوں میں ہیں‘‘

اتنا کہہ کر سادہ لباس والی مغنیہ چند ثانیے کے لیے خاموش ہوئی ۔ اس دوران وہ بڑی پیار بھری نظروں سے زرق برق لباس والی مغنیہ کی آنکھوں میں جھانکتی رہی۔ ساتھ ہی وہ کچھ سوچ رہی تھی۔ معاً اُس نےسوال کیا،

’’سونیا! یہ بتاؤ! تمہارا نام کس نے لیا؟ مطلب یہاں کے اِدارہ ’’ولسما‘‘ کو کس نے کہا ہوگا کہ تمہیں جگایاجائے؟ کیونکہ تمہیں پتہ ہے نا؟ یہاں کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کا نام لیتاہے۔ پھراس کے بعد ڈی این اے چیک ہوتاہے اورپھر پرسنٹیج اور پر جگا دیا جاتاہے۔تمہارا نام کس نے لیا تھا؟‘‘

یہ بات سنتے ہی زرق برق لباس والی مغنیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس نے ایک ہلکی سی سسکی کے ساتھ صرف اتنا کہا،

’’میرے بھائی نے‘‘

’’بھائی نے؟ تو پھر اِس میں رونے والی کیا بات ہے؟‘‘

’’باجی! میرا بھائی گندگی کے ڈھیر پر مَرا تھا۔ سترہ گھنٹے تک لاش کے نزدیک کوئی نہ گیا تھا۔ وہ ہیروئن پیتا تھا۔ہیروئن کی لَت لگنے سے پہلے پہلے میرا بھائی شہزادہ تھا باجی! شہزادہ۔ یوں سرخ وسفید ،مونچھوں والا جوان کہ دیکھ کر رشک آتا تھا۔ اس نے اپنا سب کچھ پوڈر کے لیے تباہ کردیا تھا۔ نوکری، بیوی ، مکان، ابّا کی ساری کمائی، سب کچھ پوڈر پینے میں خرچ کردیا۔ پھر وہ گلی گلی میں رُل گیا۔ وہ سارا دن گندگی کے ڈھیروں سے چیزیں ڈھونڈتا اور پھر انہیں بیچ کر اپنے لیے ہیروئن کی پُڑیا خریدتا۔ آخری سالوں میں وہ اپنے آپ کو نشے کا اِنجکشن بھی لگانے لگ گیا تھا۔ اور دسمبر کی ایک یخ بستہ رات میں وہ گندگی کے ایک ڈھیر پرمرگیا۔ اگلے دن سہ پہر تک اُس کی لاش کو کسی نے نہ اُٹھایا۔ آج میں حیران ہوتی ہوں۔ جب میری آنکھ کھلی تو وہ میرے سامنے تھا۔وہی سرخ و سفید میرا شہزادہ بھائی اور ہنس رہا تھا۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ سِڈرہ کمیونٹی کے لوگوں نے نہ صرف اُسے جگا دیا بلکہ اس کا پرسنٹیج بھی ساٹھ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ جحمان کے سیّاروں سے بچ گیا۔ اب وہ ایک سیّارے ’’آرمانول‘‘ پر ہوتاہے۔ میں جب چاہوں اس سے مل سکتی ہوں۔ باجی! اُس سے جب پوچھا گیا کہ وہ کسی کو بیدارکرنا چاہتاہے تو اُس نے میرا نام لیا تھا۔ اس لیے مجھے جگا دیا گیا‘‘

اچانک تختِ جمشید کے سامنے قالینوں پر بیٹھے لوگ کھڑے ہونے لگے۔ دونوں مغنیائیں بات کرتے کرتے رُک گئیں۔ لوگ ایسے اُٹھ رہے تھے جیسے کسی کا استقبال کررہے ہوں۔ کوئی آرہا تھا شاید۔ساتھ ہی لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں بھی قدریں بلند ہوگئیں۔ اب قالین پر کھڑے لوگوں نے درمیان سے راستہ چھوڑدیا۔ جہاں سے راستہ چھوڑا گیا۔وہاں نہ جانے کیسے لیکن روشنی کی مقدار آہستہ آہستہ تیز ہوتی چلی گئی۔ شاید کوئی مہمان آرہا تھا۔ لوگوں نے اُسی کے لیے راستہ بنا دیا تھا۔یہ دیکھ کر سٹیج پر بیٹھے لوگ بھی مارے تجسس کے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ کوئی زیادہ خاص مہمان آرہا تھا شاید۔ لوگوں کی آوازوں اورقدرے بلند بھنبھناہٹ سے تو یہی معلوم ہوتاتھا۔ سٹیج پر موجود تمام معزز مہمان اب نہایت تجسس سے اُس راستے کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں سے گزر کر کوئی آنے والا تھا۔
پھر پہلے مقسور لڑکیوں کی ایک قطار نمودار ہوئی۔یہ نہایت ہی حسین دوشیزائیں تھی۔ دونوں مغنیائیں اِن مقسور لڑکیوں کا حسن دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ لڑکیوں نےہاتھوں میں پھولوں کی ٹوکریاں اُٹھا رکھی تھی اور قالین پر بنے اس راستے پر پتیاں نچھاور کرتی چلی جارہی تھی۔ معاً دونوںمغنیاؤں کی نظر پڑی تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہی گئیں کہ وہ بہت سے بچے تھے۔ بہت سے بچے، جو لوگوں کے بیچوں بیچ بنے راستے پر چلتے ہوئے سٹیج کی طرف آرہے تھے۔کچھ بچوں نے ایک جیسی یونیفارمز پہن رکھی تھیں جبکہ باقی بچے نہایت قیمتی لباسوں میں ملبوس تھے۔ لڑکیوں نے سفید فراکیں پہنی ہوئی تھیں جن پر بڑے بڑے رنگین پھول بنے ہوئے تھے۔سب بچے خوب گورے چٹے تھے۔

یکایک، میزبان کی آواز بلند ہوئی۔ یہ آج کی تقریب کا میزبان تھا۔ ایک قدرے پختہ عمر کا مرد، سٹیج پر رکھے پوڈیم کو تھامے آنے والے مہمان بچوں کے بارے میں بتانے لگا،

’’حاضرین ِ کرام! ہمارے درمیان اِس وقت کچھ ننھے فرشتے موجود ہیں۔ یہ بچے جن کا اِ س وقت استقبال کیا جارہا ہے یہاں مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی دن سے باغ میں مقیم ننھے طلبہ و طالبات کی یہ جماعت ہیومین ورژن ون کے بچوں پر مشتمل ہے اور ہماری تقریب کی وجہ سے ان لوگوں نے یہاں آنا اور تقریب میں شامل ہونا ازخود بھی پسند کیا ہے۔ان میں سے جن 132 بچوں کو آپ یونیفارمز میں دیکھ رہے ہیں، یہ 2014 میں دورانِ تعلیم ، اپنے سکول کے اندر ہی شہید کردیے گئے تھے۔ باقی بچوں میں کچھ وہ بچے ہیں جو ڈرون طیّاروں کے حملوں میں مارے گئے۔ کچھ بچے چند دیگر صدیوں سے بھی ہیں، جن کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ ………… ‘‘

اور پھر پروگرام کا میزبان مزید بچوں کا تعارف کروانے لگا لیکن اب مغنیائیں اُس کی مزید بات نہ سُن پاررہی تھیں۔ کیونکہ دونوں پاکستانی خواتین کے لیے یہ بات ہی خاصی چونکا دینے والی تھی کہ اُن کے سامنے وہی شہید بچے اتنے شان و شوکت کے ساتھ کھڑے تھے، جنہیں اپنے وقت میں دہشت گردوں اور زیادہ شدید وائیلنس والے لوگوں نے اِتنی بے دردی سے بھُون ڈالا تھا‘‘

دونوں مغنیاؤں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سٹیج سیکریٹری ابھی تک بول رہا تھا۔ دونوں مغنیاؤں کی توجہ دوبارہ اُس وقت سٹیج سیکریٹری کی جانب مبذول ہوئی جب اُس نے اچانک کہنا شروع کیا،

’’لیجیے! حاضرین کرام! اب وقت ہے نغمہ سننے کا۔ ہماری آج کی تقریب ………… ‘‘

میزبان دونوں مغنیاؤں میں سادہ لباس والی مغنیہ کا نام نہایت اعزازواکرام کے ساتھ پکار رہا تا۔مجمع نے اتنی زور سے تالیاں بجائیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ بچے سامنے کی قطاروں میں سب سے آگے بیٹھ گئے۔ سادہ لباس والی مغنیہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی، آگے بڑھی۔ ایک طرف سازندے نیم دائروی قطار میں قالین پر دھرے ایک اور قالین کے قدرے چھوٹے ٹکڑے پر بیٹھے تھے۔ مغنیہ اُن کے درمیان پہنچ کر رُک گئی۔ اس نے سامنے موجود مجمع کو ہاتھ ہِلایا تو پھر ایک بار تالیوں اور سیٹیوں کا شور بلند ہوا۔ اب مغنیہ قالین پر بیٹھ گئی۔کچھ ہی دیر وہ سازندوں کو ہاتھ کے اِشاروں سے کوئی تیکنیکی معاملات سمجھاتی رہی اور پھر اس نے عادت کے مطابق گلا کھنکھار کر کہا،

’’آج جو غزل میں پیش کرنے جارہی ہوں۔ یہ آج کے ہمارے خاص الخاص مہمانوں، یعنی اِن معصوم فرشتوں کے نام ہے‘‘،
اتنا کہہ کر مغنیہ نے گانا شروع کردیا۔ جونہی مغنیہ نے گانا شروع کیا مجمع پر یکخت سکوت چھا گیا۔ آواز تھی کہ کوئی جنّت کی کوئل بول رہی تھی۔ مغنیہ کی آواز چاروں طرف سے پھوٹنے لگی۔ یوں لگتا تھا کہ پتہ پتہ مغنیہ کی آواز نشر کرنے لگ گیا ہے۔ اس نے جب غزل کا مطلع گایا،

’’اے جذبۂ دِل گر میں چاہوں ہرچیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے‘‘

شعر ختم ہونے کی دیر تھی کہ ماحو ل تالیوں اور واہ واہ کی آوازوں سے گونج اُٹھا۔مغنیہ نے اَنترہ اُٹھایا،

’’اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا، جب سامنے منزل آجائے‘‘

مغنیہ گاتی جارہی تھی اور سیّارۂ زمین تھا کہ اپنے وجود پر فخر کرتا چلا جارہا تھا۔ مغنیہ کی لےَ کے ساتھ ساتھ عجب قسم کی بھینی بھینی خوشبو سے لبریز ہوا چلنے لگی۔ یہ رات کی رانی سے بھی کہیں بڑھ کر مسحور کُن خوشبو تھی۔ یوں لگتا تھا کہ مغنیہ کی لَے نے درختوں کو بھی جھومنے پر مجبور کردیا تھا۔

************

آج دانش اور اُس کی بیوی ایلس، سیّارہ ’’پائرہ‘‘ کی طرف روانہ تھے۔ وہ اس وقت کلاسیکی طرز کی ایک گاڑی جس میں آج تک نیئوکلیئر انجنز چلتے تھے میں ، شیشے کے ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے کوئی مشروب پی رہے تھے۔اُنہوں نےخود اپنی مرضی سے اِسی گاڑی میں سفر کرنا پسند کیا تھا۔ یہاں سے پائرہ کا سفر ساڑھے تین گھنٹے کا تھا۔ دانش اور ایلس ، دونوں کے چہرے پر شدید پریشانی کے آثار تھے اور وہ تیز تیز لہجے میں آپس میں کسی مسئلے پر بحث کررہے تھے۔ایلس نے یکایک پیچھے کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا،

’’بس پھر ٹھیک ہے۔اگر یہ بات ہے تو ہم دونوں کو بھی ’انیتا‘ کے ساتھ ہی نکل جانا چاہیے۔ اب ہمارا یہاں رہنا ٹھیک نہیں دانش‘‘

لیکن دانش اُس کی رائے سے متفق نہ دکھائی دیتا ۔ دانش نے کچھ دیر سوچتی ہوئی نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’’مجھے تو کوئی فرق نہیں نظرآتا۔ یہاں ہو یا وہاں، اگر ہم میں وائلنس ہے تو پھر ہمیں مرنے کے بعد جحمان کے سیّاروں پر جانے سے کوئی نہیں بچاسکتا‘‘

دانش کی بات سے ایلس پھر چِڑ گئی ،

’’دانش ! تم بات کو سمجھ کیوں نہیں رہے۔ دیکھو! لاجک پر غور کرو! اچھا پہلے مجھے یہ بتاؤ! یہ لوگ جب کسی کا وائیلنس ختم کرنے کے لیے اُس کی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو اسے کہاں رکھتےہیں؟‘‘

دانش کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے، پھر بھی اُس نے جواب دیا،

’’جحمان کے سیّاروں پر‘‘

تب ایلس نے پورے جوش سے کہنا شروع کیا،

’’دیکھو! جحمان کے سیّاروں پر اُن لوگوں کی تربیت کیوں جلدی ممکن ہوجاتی ہے؟ کیونکہ وہاں زندگی تلخ ہے۔ اگر ہم یہاں رہ کر اپنا وائیلنس لیول کم کرنا چاہیں گے تو بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔ ہم اِس جنت نما دنیا میں اِن لوگوں کے ساتھ رہتے رہینگے ۔ اور یہ لوگ بھی بطور مہمان ہماری خوب خاطر مدارت کرتے رہینگے۔ لیکن جب ہم مرینگے تو ہمارا وائیلنس لیول وہیں کا وہیں ہوگا کیونکہ ہم نے تلخ زندگی نہ دیکھی ہوگی۔ لیکن اگر ہم زمین پر چلے جائینگے تو وہاں ہمیں تلخ زندگی کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اب تو ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اب ہم خود بھی ہر کام پر اپنے وائیلنس کم کرنے کے مِشن کو اوّل ترجیح دینگے۔ اور جب مرینگے تو ہمارا پرسنٹیج ساٹھ سے اُوپر ہوگا‘‘

دانش اور ایلس اتنی بحث کیوں کررہے تھے؟ یا یہ دونوں یوں اچانک ’’پائرہ‘‘ کیوں جارہے تھے؟ پائرہ تو وہ سیّارہ تھا جہاں بچوں کے لیے تربیت کا سامان تھا۔ جہاں بچے اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے اور ہرطرح کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔خاص طور پر ایسی تعلیم جو اُن کے ڈی این اے میں موجود تحفظِ خویش یعنی غصے کے جینز کو ختم کیے بغیر اُن میں وائیلنس یعنی ’’شَر‘‘ کو کبھی بیدار نہ ہونے دے۔ایسے بچوں کے سیّارے پر دانش اور ایلس کو اچانک کیوں جانا پڑگیا تھا؟

دراصل آج صبح ہی دانش اور ایلس پر ایک بم پھُوٹا تھا۔ واقعہ یوں تھا کہ،

آج صبح جب وہ مہمان خانے میں بیدار ہوئے تو میسج بورڈ پر ان کے لیے ایک پیغام موجود تھا۔ لکھاتھا،

’’خوبصورت جوڑے کی خدمت میں تسلیمات! بیدار ہونے پر رابطہ فرمائیں۔ نائتلون، ‘‘

اور پھر وہ دونوں جب نائتلون سے ملے تو بجائے خوش ہونے کے دانش اور ایلس کے پیروں تلے سے زمین سِرک گئی۔ دانش اور ایلس کو دیکھتے ہی نائتلون نے کہا تھا،

’’بہت مبارک ہو! دانش ! اور ایلس! آپ دونوں ایک خوبصورت بیٹی کے والدین ہیں؟‘‘

دانش اور ایلس کو لگا کہ نائتلون اُن کے ساتھ مذاق کررہا ہے۔ وہ دونوں بُری طرح گھبراکر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔

’’بیٹی؟‘‘
دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔نائتلون اُن کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر ہنس دیا،

’’دانش! ایلس! آپ دونوں پریشان ہوگئے ۔ یہ پریشانی کی بات ہے یا خوشی کہ آپ ایک بچی کے والدین ہیں؟ ‘‘

یہ سن کر ایلس نے قدرے چیختے ہوئے کہا،

’’لیکن یہ کیسے ہوسکتاہے؟ ہم دونوں کی تو کبھی بھی اولاد ہی نہیں ہوئی‘‘

اب نائتلون نے یکلخت ہنسنا بند کردیا ۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے دونوں کی طرف دیکھتارہا۔ پھرکہنے لگا،

’’چالیس دن کی بچی تھی۔ ماں کے پیٹ میں تھی۔ ٹھیک ٹھاک، زندہ سلامت۔ آپ دونوں کو آپ کے ایک افسر ’’پروفسر آبرے‘‘ نے بہت سختی سے حکم دیا تھا کہ بچہ گِرا دیں۔ ناسا نے آپ کے جوڑے اِس لیے بنائے تھے کہ آپ لوگ خلا کے لمبے سفر میں اُداس نہ رہیں۔ آپ دونوں کی شادی، مِشن پر روانگی سے کئی ماہ پہلے ہوگئی تھی۔ پھر آپ دونوں سے بے احتیاطی ہوئی اور جب چالیس دن کی بچی پیٹ میں تھی تو ایلس نے ا،َبارشن کروایاتھا۔آپ کو یہ بات تو ضرور یاد ہوگی۔ آپ کے وقت کے مطابق تو ابھی اِس بات کو چار سال اور کچھ ماہ گزرے ہیں۔ یہ وہی بچی ہے‘‘۔

دانش اور ایلس ہکا بکّا رہ گئے۔ اُن کے مُنہ کھلے ، آنکھیں پھٹی، رنگ زرد اور چہروں سے ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ ماحول میں یکدم سنّاٹا چھا گیا۔ کافی دیر تک کسی نے کوئی بات نہ کی۔ بس دانش اور ایلس تھے کہ گویا پَتھر کے بن گئے۔نائتلون کو حیرت ہورہی تھی کہ آخر یہ لوگ اس قدر ڈر کیوں گئے ہیں؟ آخر اِن لوگوں کو یہ سُن کر خوشی کیوں نہیں ہوئی کہ ان کی معصوم بچی، جو بِن کھِلا پھول تھی اور بِن کھلے ہی مرجھا گئی تھی، دوبارہ زندہ کردی گئی۔ وہ اعلیٰ صلاحیتوں کامالک ہیومین ورژن ٹُو ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حیران ہونے سے نہ روک سکا۔آخر اس نے پھر کہا،

دیکھیے! ہم کبھی کسی بچے کا ڈی این اے مٹی میں نہیں رُلنے دیتے۔ پوری سڈرہ کمیونٹی میں سب سے مقدس ہستیاں چھوٹے بچوں کو سمجھا جاتاہے۔کسی کواُٹھایا جائے یہ نہ اُٹھاجائے، یہ سوال صرف بَڑوں کے معاملے میں پیدا ہوتاہے۔ بچے تمام کے تمام اُٹھادیے گئے ہیں۔ آج پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی میں ہر بچے ، بچی کو جگا دیا گیا ہے۔ ہاں! صرف وہ بچے جن کی یاداشت واپس لانے میں ہم ناکام رہے، انہیں نہیں جگایا جاسکا۔لیکن اِس اُمید پر کہ کبھی نہ کبھی سائنس ترقی کریگی ، ہم نے ان کے ڈی این اے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں‘‘

اچانک ایلس پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔دانش بُری طرح گھبراگیا۔ نائتلون بھی سٹپٹا گیا۔ وہ تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ کوئی انسان اِس طرح پھُوٹ پھوٹ کر روسکتاہے۔ نائتلون حیرت بھری نظروں سے ایلس کو دیکھنے لگا۔ اُسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ وہ اِس معاملے کو کیسے سُلجھائے۔ معاً اُسے ایک خیال آیا اور اُس نے کہا،
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اکیسویں صدی میں انسان کن معیارات پر جیتے تھے۔ غالباً مائمل بھی اس بات سے واقف نہیں ہیں۔ ورنہ وہ مجھے ضرور منع کردیتیں کہ یہ پیغام آپ تک نہ پہنچایا جائے۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ آپ جیسے کہیں گے، ویسے ہی کیا جائیگا‘‘

لیکن ایلس کا رونا نہ رُکا ۔ دانش نے نائتلون کی بات سُنی تو اور پریشان ہوگیا۔ وہ ایلس کو دلاسہ دینے کی کوشش کرنے لگا۔ جب دانش ایلس کو دلاسے والےالفاظ بول رہا تھا تو نائتلون ششدر ہوکر اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی سمجھ میں یہ کیفیات بالکل بھی نہیں آرہی تھیں۔ اس نے دِل میں سوچا’’ ہیومین ورژن ٹو ‘‘ کا نالج کتنا محدود ہے۔ اتنی چھوٹی سی بات اور ایسی معمولی سی کیفیات تک ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اسی اثنأ میں ایلس کےحلق سے ایک چیخ بلند ہوئی،

’’ہائے میری بچی!‘‘

اور تب جاکر نائتلون کو سمجھ آئی کہ ایلس پریشانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی بچی کی محبت میں رورہی تھی۔ ایلس ذرا سنبھلی تو دانش نے نائتلون سے کہا کہ وہ اپنی بچی سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر نائتلون بہت خوش ہوا۔ اُس نے فوری طور پر ’’پائرہ‘‘ کے بارے میں بتانا شروع کردیا۔

یہی وجہ تھی کہ اب دانش اور ایلس، پائرہ جارہے تھے۔ اپنی بیٹی سے ملنے۔ انہوں نے نائتلون سے اپنی بیٹی کا نام پوچھا تو نائتلون نے مُسکراتے ہوئے بتایا،

’’چڑیا‘‘

’’چڑیا؟‘‘

ایلس نے چونک کر دہرایا اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔

اب دوران ِ سفر دونوں میاں بیوی اس بات پر پریشان تھے کہ پیٹ کے بچے کو ضائع کروانا یقیناً پرسنٹیج پر اثر انداز ہوگا اور وہ کسی قیمت پر ساٹھ پرسینٹ سے اُوپر پرسنٹیج حاصل نہ کرپائینگے، کیونکہ انہوں نے قتل کیا تھا۔ اگر یہ قتل نہ ہوتا تو سڈرہ کمیونٹی کبھی بھی اس بچی کو دوبارہ پیدا نہ کرتی۔ اسی پریشانی کی وجہ سے وہ دنوں جھگڑرہے تھے اور ایلس کا مؤقف تھا کہ ’’انیتا‘‘ کے ساتھ ہی واپس لوٹ جاناچاہیے۔واپس، اپنی اکیسویں صدی میں۔

****************
جحمان کے چھتیس سیّارے بھی ایک سے بڑھ ایک نمونہ تھے۔ یہ الفا سینٹوری کے دُور دراز حصے میں یکے بعد دیگرے چھتیس مختلف سیّارے تھے۔ ان میں سے ہر ایک سیّارہ ، سیّارہ زمین سے کم ازکم دس گنا بڑا تھا۔نہ جانے کیوں، پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی میں آخری سیّارے کو سیّارہ نمبر دوسوبیالیس کہا جاتاتھا۔ حالانکہ اِس سیّارے کے کئی نام تھے، جیسا کہ کاغذات میں اس کا نام ’’سُویل‘‘ لکھا جاتا تھا۔

اسی طرح سیّارہ نمبر دوسواکتالیس پر ’’سُویل‘‘ سے کم مشکلات تھیں لیکن پھر بھی بہت زیادہ تھیں۔یہاں سویل کی طرح لوگوں کو حکومت کی طرف سے معدنیات نکالنے اور پگھلانے کا کام نہیں سونپا جاتاتھا بلکہ یہاں کے لوگوں کو ’’مِٹی کی مشقت‘‘ کے طریقہ پر تربیت دی جاتی تھی۔یہ ایک خودکار طریقہ تھا۔لوگ مِٹی کی ملکیت کے خبط میں مبتلا ہوجاتے تھےکیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جو کوئی جتنی زیادہ مٹی پر قبضہ جمالیگا وہ اتنی ہی زیادہ آرام دہ زندگی گزارسکے گا۔لوگ مٹی میں رہتے، مٹی کھاتے، مٹی پیٹوں میں بھرلیتے۔اُن کے ایسا سوچنے کی ایک وجہ ہوتی تھی۔ وہ مِٹی میں سڈرہ کمیونٹی کی طرف سے بھیجے گئے چھوٹے چھوٹے دانے دبا تےتو مٹی تنکا تنکا کرکے بہت سی کھانے کی چیزیں انہیں واپس کردیتی تھی۔لوگ مٹی کے لیے آپس میں لڑبھڑتے۔ایک دوسرے کو قتل کردیتے۔ جو کوئی مرجاتاسڈرہ کمیونٹی کی انتظامیہ اسے وہاں سے ہٹا دیتی اور دوبارہ زندہ کرکےباقی ماندہ تربیت کے لیے کسی اور سیّارے پر منتقل کردیا کرتی تھی تاکہ پچھلوں پر یہ راز نہ کھل سکے کہ انسان اصل میں لازوال ہے۔

جوں جوں جحمان کے سیّاروں کا درجہ اُوپر کو اُٹھتا چلا جاتا۔ ان کےلیے سہولیات اور علم بڑھتا جاتا اور اُن پر آہستہ آہستہ راز کھلتے چلے جاتے۔سیّارہ نمبر دو سوچالیس پر اِس سے بھی کم مشکلات تھیں۔ ایسی ہی تدریج اور ایسی ہی ترتیب سے جحمان کے سارے چھتیس سیّاروں کا نظام چلتاتھا۔ یعنی نمبروار مشکلات کم ہوتی چلی جاتی تھیں۔ جوں جوں سیّارے درجے میں نیچے سے اُوپر آتے جاتے، مشکلات کم ہوتی جاتی تھیں۔ایسے ہی تھے جحمان کے سارے سیّارے۔اِن سیّاروں پر ’’پُرش‘‘ آتے لیکن وہ اپنی پہچان چھپا کررکھتے۔ وہ بھی اِن مفلوک الحال، زیرتربیت انسانوں کا سا حلیہ اختیار کرکے رہتے۔

سیّارہ نمبر دوسو پندرہ تک سب انسانوں کو اِس راز سے بے خبر رکھا گیا تھا کہ اب دنیا میں موت نامی کسی شئے کا وجود نہیں رہا۔ البتہ سیّارہ نمبردوسو چودہ، دوسوتیرہ، دوسوبارہ،دوسو گیارہ، دوسودس، دوسونو، دوسو آٹھ، دوسوسات اور دوسوچھ کے لوگ یہ راز جانتے تھے کہ وہ اصل میں دوبارہ زندہ کیے گئے ہیں اور یہاں اُنہیں تربیت کے لیے لایا گیا ہے۔ سب سے کم مشکلات والا سیّارہ ، سیّارہ ’’ آرمانول ‘‘تھا۔’’ آرمانول‘‘ جہاں ڈارون اور ایما نے، جبرالٹ پر وارد ہونے سے پہلے ساڑھے تین سو سال گزارے تھے ایک لحاظ سے مشکل زندگی والا سیّارہ تھا ہی نہیں۔ یہاں مشکل تھی تو بس اتنی سی کہ لوگ اپنی پہلی زندگی کے بعض کاموں اور کارناموں پر ازسرِ نو غور کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیے گئے تھے۔ انہیں کھانے پینے، رہنے سہنے کی ہرسہولت میسر ہوتی لیکن ان کے ذمہ سڈرہ کمیونٹی کی جانب سے، باقاعدہ انہیں بتا کر ایک ہی کام سونپ دیا جاتا تھا کہ وہ لوگ اپنی پہلی زندگی میں کیے گئے کاموں اور کارناموں پر غوروفکر کریں۔چونکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ سڈرہ کمیونٹی کیا ہےا ور اس میں اور بھی سیّارے ہیں جہاں بہت اعلیٰ سطح کی آسائشیں اور بے پناہ عزت و تکریم ہے تو ایسی خبریں سن کر اُن لوگوں کے دِلوں میں حسرتیں جاگ جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں پتہ ہوتا کہ اُن کا کام ہے اپنے ’’کیے‘‘ پر غور کرنا۔

جب ڈارون اور ایما یہاں رہ رہے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں پر بار بار غور کیا۔پہلے پہل تو انہیں اپنے کسی بھی کام میں کوئی نقص نظر نہ آیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ڈارون پر کھلنے لگا کہ اُس نے اپنی تحقیق سے جو نتائج اخذ کیے تھے وہ بالآخر دو عظیم جنگوں کا باعث کیوں بن گئے تھے؟ یقیناً اُس کے نتائج میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ پھر ساڑھے تین سو سال تک اس بات پر غور کرنے کے بعد اب وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اگر اس نے تمکن فی الارض کا نتیجہ اخذ نہ کیا ہوتا تو ’’نسلی بنیادوں‘‘ پر انسانوں میں اتنی بڑی جنگیں کبھی نہ ہوتیں۔سیّارہ آرمانول پر موجود ’’مددگارپارمش‘‘ ڈارون اور ایما کی ہرطرح سے مدد کیا کرتے تھے۔ آرمانول کا تمام عرصہ ڈارون اکثر کسی نہ کسی پرانے پارمش کے پاس نظر آتا تھا۔ وہ ہر ہر سوال کا جواب چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اُن دنوں تاریخ کامطالعہ سب سے زیادہ کیا کرتا تھا۔

سیّارہ آرمانول کے دنوں کی بات ہے ، ایک دن ڈارون گھر آیا تو وہ بہت اُداس تھا۔ ایما کے پوچھے بغیر اس نے خود بتانا شروع کردیا،

’’ ایما! تمہیں پتہ ہے؟ آج سے پندرہ سوسال پہلے، یعنی اکیسویں صدی کے آواخر میں سائنسدان ’’ ٹرانس جینک ریسرچ ‘‘کے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ اس دَور میں نہایت عجیب و غریب تجربے کیے گئے۔ انسان طاقت کے حصول کے لیے پاگل ہوگئے تھے۔ جانوروں کے ڈین این اے سے مختلف خصلتیں لے کر انسانوں میں ڈالی جارہی تھیں اور بغیر کسی اخلاقی ضابطے کے نئی نئی مخلوقات پیدا کی جارہی تھیں۔ایسے انسانوں کو سائنسدان ’’ہیومین اینیمل کائمرا‘‘ کہتے جبکہ انسانوں کو ’’ٹرانس ہیومینز‘‘ کہا جاتا تھا۔اِن نئی نئی مخلوقات نے سیّارۂ زمین کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔ قریب تھا کہ سیّارہ زمین تباہ و برباد ہوجاتا، جب انہیں ٹرانس ہیومینز میں سے ہی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوگئے جو صرف جسمانی خصلتوں میں اعلیٰ نہیں تھے بلکہ انسانیت کے لیے اُن کے دِل میں درد تھا۔ انہی لوگوں نے سڈرہ کمیونٹی کی بنیاد رکھی۔ میرے دِل میں آج کمیونٹی کے لیے بے پناہ عزت پیدا ہوگئی ہے۔ میں اِن لوگوں کے کو سلام پیش کرتاہوں‘‘۔

بس پھر کیا تھا، کچھ ہی دن بعد سڈرہ کمیونٹی کے خودکار نظام یعنی ’’عادّین‘‘ کے نظام کو خود بخود پتہ چل گیا کہ اب ایما اور ڈارون اِس قابل ہوچکے ہیں کہ اُنہیں سیّارہ آرمانول سے بلا کر جبرالٹ پر رکھا جائے۔

مائمل کے ساتھ ڈارون کی پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب ڈارون اور ایما کو سیّارہ جبرالٹ پر لایا گیا۔ تب سے وہ دونوں میاں بیوی یہیں مقیم تھے۔ ڈارون اب تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنے پرانے شوق یعنی زندگی اور اُس کی ماہیت پر غوروفکر میں پھر سے ملوث ہوگیا۔اب تو ایما بھی اس کے ساتھ برابر کام کرواتی تھی۔مائمل اب ڈارون کی بہت اچھی دوست تھی۔ وہ کبھی کبھار ڈارون سے ملنے آتی یا ڈارون اور ایما کواپنے پاس بلوالیا کرتی تھی۔ ڈارون اپنی موجودہ زندگی سے بے پناہ خوش تھا۔ اُسے وہ سب کچھ مل چکا تھا جو اُس کی تمنّا تھی۔

گزشتہ دنوں ڈارون سے ملنے، سینئر طلبہ کی ایک ٹیم آئی اور انہوں نے ڈارون سے بے شمار سوالات کیے۔ وہ بڑے جوش و خروش سے ایک ایک کے سوال کا جواب دیتا رہا۔ آخر ایک طالب علم نے ڈارون سے پوچھا،

’’رُوح کیا چیز ہے؟ آپ نے زندگی کا اتنا مطالعہ کیا کہ آپ کی معلومات سُن کر حیرت ہوتی ہے۔ آپ کو تو ضرور علم ہوگا کہ رُوح کسے کہتے ہیں، کیونکہ رُوح زندگی کی اساس ہے نا؟ آپ جانتے ہیں کہ سڈرہ کمیونٹی تو ڈی این اے کو استعمال کرسکتی ہے۔ ڈی این اے تو ایک لینگوئج ہے، ایک کوڈ ہے۔ سیل میں موجود زندگی جسے ہم پروٹوپلازم کہتے ہیں، پیدا کرنا تو سڈرہ کمیونٹی کے سائنسدانوں کے لیے کبھی بھی ممکن نہیں ہوسکا۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ رُوح سیل میں موجود ہوتی ہے۔ لیکن رُوح کیا ہوتی ہے۔ یہ سوال ہے مسٹر ڈارون؟ اور آپ سے یہ سوال میں نے اس لیے کیا کہ آپ نے تمام عمر زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔ نہایت گہرا مطالعہ‘‘

اتنا کہہ نوجوان خاموش ہوگیا۔ طلبہ کی پوری ٹیم اب ڈارون کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈارون نے ہنستے ہوئے جواب دیا،

’’آپ نے خود تو نام لیا رُوح کا ابھی یعنی پروٹوپلازم۔ مجھ سے پوچھیں گے تو میں یہی بتاسکونگا۔ آپ ایک سبز شاخ کو درخت سے کاٹ کر پھینک دیں۔جب تک وہ سبز رہیگی، تب تک دوبارہ لگائی جاسکتی ہے اور درخت دوبارہ پیدا ہوسکتاہے کیونکہ اُس میں پروٹوپلازم موجود رہتاہے۔ جونہی اس میں سے پروٹوپلازم نکل جائیگا تو گویا اس کی رُوح نکل جائے گی ۔ اب وہ شاخ نہیں رہیگی۔ اب وہ لکڑی بن جائے گی۔ آپ پوری کاسمو پولیٹن سوسائٹی میں ایک جاندار بھی ایسا نہیں بتا سکتے جو پروٹوپلاز کے بغیر زندہ رہ سکتاہو۔ تو پھر رُوح کیا ہوئی؟ یہی پروٹوپلازم نا؟ جو اصل میں ہم نے ہزاروں بار مادی شکل میں دیکھا ہوا ہے‘‘

……………..

Qist 8……..

داستان گو…….. قسط 6

ناول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بڑے زوروں کی بارش ہورہی تھی۔ پروفیسر ولسن اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے، باہر کا دلکش منظر دیکھنے میں مگن تھا۔ مہمان خانے کی عمارت گھنے درختوں میں گھِری ہوئی تھی۔ گرج چمک تو تھی لیکن طوفان نہیں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ درختوں نے بھی مزاحمت کی بجائے نہانا شروع کردیا۔ مہمان خانے کے سامنے کا پورا جنگل جَل تھَل ہوگیا تھا۔ طوفانی ہوا نہ ہونے کی وجہ سےبارش کا پانی جبرالٹ کی زمین پر عمودی دھاروں کی شکل میں گررہاتھا۔ ولسن نے کھڑکی سے ہی آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان گھنے، سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ جن میں پل پل بعد بجلیاں چمک رہی تھیں اور جب بھی بجلی زیادہ شدت سے چمکتی چند سیکنڈز بعد زور سے بادلوں کے گرجنے کی آواز سنائی دیتی۔ مہمان خانے کی طرف آنے والے راستے کا منظر دِل موہ لینے والا تھا۔ کشادہ سڑک کے دونوں کناروں پر شیشم کی نسل کے گھنے پیڑوں کی سیدھی قطاریں ، جو اوپر سے اِس طرح آپس میں ملی ہوئی تھیں کہ نیچے ساری سڑک پوری طرح ڈھک گئی تھی، بارش کے پانی کو گویا کسی چھلنی کی طرح نِتار رہے تھے۔ صدردروازے پرکسی گلدستے کی شکل کا’’ رھوڈیم‘‘ کا درخت جو بڑے بڑے رنگین پھولوں سے لدا ہوا تھابارش کے حضور اپنے حسین پھولوں کی پَتیوں کا نذرانہ پیش کررہاتھا۔ تیز بارش کی وجہ سے بہتے ہوئے پانی پر رھوڈیم کے پھول کنول بن کر تیر رہے تھے۔

پروفیسر ولسن مسحور ہوگیا۔ سن رسیدہ پروفیسر کے دِل میں گدگدی سی ہونے لگی۔ جوانی کی حسین لیکن اُداس یادیں دل میں کہیں جاگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ پروفیسر سوچنے لگا کہ وہ کتنا رومان پسند ہوا کرتاتھا۔ شباب کے دن اور پھر ’’کولوراڈوسٹیٹ‘‘ کا ایک شاداب گاؤں، جہاں پروفیسر کے لڑکپن کی محبت نے پہلی انگڑائی لی تھی۔ اُس لڑکی سے وہ پہلی بار چرچ میں ملا تھا۔ اُس دن بھی بارش تھی۔ وہ دونوں دُور دُور سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر جاتےہوئے ’پیٹریشا‘ نے اُس کی طرف مسکراہٹ بھی اُچھالی تھی۔ وہ کتناخوش ہوا تھا۔ سارا دن جھومتا رہاتھا۔ پروفیسر ولسن کے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔ پیٹریشا اور وہ سکول سے واپسی پر ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہوئے گھروں کو آتے تھے اور روز کتنی باتیں کرتے تھے۔ اکثر پیٹریشا اپنا ٹفن کھول کر کھانے کی کوئی چیز ولسن کو دیتے ہوئے کہتی ، ’’یہ میں نے تمہارے لیے رکھ لیاتھا‘‘۔ پروفیسر کے دِل کو دھکا سا لگا۔ کہاں گئے وہ دن؟ وہ یکلخت اُداس ہوگیا۔

معاً ولسن کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ پیٹریشا کو بھی شاید جگادیا گیا ہو۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔اور پھر اس کی سوچوں کی گاڑی کسی ایک سٹیشن پر نہ رُکی۔ اس نے اپنے سب دوستوں اور قریبی رشتوں کو ایک ایک کرکے یاد کیا اور سوچنے لگا کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی تو ضرور جاگ گیاہوگا۔ یہ خیال پروفیسر کو پہلے نہیں آیا تھا۔ اِس خیال کے آتے ہی ولسن کا دِل تیزی سے دھڑکنے لگا۔’’کیا اُسے معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ کہاں سے پتہ چلے گا؟ یقیناً ’وِلسما‘ سے پتہ چلے گا۔ میں ضرور پتہ کرونگا‘‘۔ بارش نے آج بوڑھے پروفیسر کو جذباتی کردیا تھا۔ وہ بارش کی موسیقی، پانی کی اٹھکیلیاں، پیڑوں کے رنگ اور اپنی رومانی یادوں کی مَستی میں کھویا کہیں بہت دُور نکل گیا تھا کہ اُسے اپنے عقب میں آہٹ سنائی دی۔ اس نے مُڑ کر دیکھا تو کمرے میں انیتا کھڑی تھی۔

اَنیتا بنیادی طور پر ہندوستانی لڑکی تھی لیکن اُس کے ماتا پتا اَنیتا کی پیدائش سے بھی بہت پہلے کے امریکہ ہوتے تھے اور شاید پہلی بار ہیں ملے تھے چنانچہ اَنیتا اب امریکن نیشنل ہی تھی۔ لیکن اُس کے ہندوستانی خال وخد اور سانولی رنگت، چیخ چیخ کر اُس کے ہندوستانی ہونے کا راز کھول دیا کرتی تھی۔ پروفیسر نے نوٹ کیا تھا کہ وہ لوگ جب سے یہاں آئے تھے، سب سے زیادہ اُداس انیتا ہی رہتی تھی۔ پروفیسر نے اُسے اپنے کمرے میں دیکھا تو کھڑکی سے ہٹ آیا۔

’’اَنیتا! ‘‘

’’پروفیسر!‘‘

پروفیسر نے انیتا کو اور انیتا نے پروفیسر کو نام لے کر پکارا اور پھر پروفیسر نے خفیف سا ہنستے ہوئےکہا،

آؤ آؤ بیٹا! تم اتنی زیادہ اُداس رہنے لگی ہو کہ تمہیں دیکھ کر ہم سب بھی اُداس ہوجاتے ہیں۔کیا تم خوش نہیں ہو؟ تم نے دیکھا؟ یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے‘‘

’’پروفیسر! خوبصورت ہے۔ بہت خوبصورت ہے۔ لیکن آپ تو جانتے ہوں گے۔ منظر ہو یا موسم ، ان کی ساری خوبصورتی کا تعلق تو مَن اور مُوڈ کے ساتھ ہوتا ہے نا؟ میرا دِل ہی جب اُداس ہے تو میں اِن موسموں اور اِن بارشوں کو کیسے انجوائے کروں؟‘‘

پروفیسر نے دانتوں تلے ہونٹ دبا اور قدرے سرجھکا کر، جھانکنے کے سے انداز میں انیتا کی طرف دیکھا اور اُس کے منہ سے نکلا،

’’ہمممم‘‘

پھر کچھ دیر بعد پروفیسر نے انیتا سے پوچھا،

’’تم خاص طور پر کس وجہ سے اُداس ہو؟ کیاتم خوش نہیں ہو کہ ہم زندہ اور ثابت و سالم کسی آباد سیّارے پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں؟‘‘ زمین سے تو ہم بہت دُور تھے۔ اینڈورمیڈا پروجیکٹ کے بارے میں تو ناسا نے اپنے اعدادوشمار میں پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ پروجیکٹ کی واپسی کے چانسز کم ہیں۔ ہم اگر راستے میں مر، وَر گئے ہوتے تو؟‘‘

پروفیسر نے خاصی معقول دلیل سے انیتا کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن انیتا نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا،

’’نہیں! میرے دِل کو یقین تھا کہ ہم لوگ ضرور زمین پر واپس پہنچے گے۔ میں تو اپنے ماتا پِتا اور سب گھروالوں کو اپنے خوابوں میں روز ملتی تھی۔ میں تو اپنی نانو کو بھی خواب میں کئی بار ملی تھی۔ میرا دل مطمئن تھا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ لوگ ہمیں یہاں لے آئینگے‘‘

پروفیسر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انیتا کی طرف دیکھا،

’’کمال ہے۔ کیا تم یہ بات تسلیم کرنے لیے تیار نہیں ہو کہ ہم ’’وارم ہول‘‘ سے گزرے ہیں؟ سوچو! اگر ہم زمین پر جاتے تو کیا ہوتا؟ تم نے سُنا نہیں اِس وقت زمین پر کوئی خلائی ادارہ ہی نہیں ہے سِرے سے۔ ہم لینڈ کیسے کرتے؟ اور فرض کرلو! ہم کسی نہ کسی طرح اُتر بھی جاتے تو کیا تم اپنی فیملی سے مل پاتیں؟ انیتا ہوش میں آؤ بیٹا! ہم مستقبل میں پندرہ سوسال آگے آچکے ہیں‘‘

اَنیتا نے کسی قدر منہ بسورتے ہوئے پروفیسر کی بات سُنی اور جیسے لاجواب سی ہوگئی۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے کہا،

’’اِسی لیے میں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے‘‘

اب پروفیسر بہت بری طرح چونکا۔

’’کیا؟ …. تم گریوٹی بس میں سفر کروگی؟ مطلب تم اکیسویں صدی میں واپس جانا چاہتی ہو؟‘‘

’’یس پروفیسر! مجھے واپس جانا ہے‘‘

پروفیسر ولسن خاموش ہوگیا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ وہ واپس کھڑکی طرف مُڑا تو انیتا بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کھڑکی پاس آگئی۔ پروفیسر دوبارہ بارش کو دیکھنے لگا۔ لیکن انیتا منتظر تھی کہ پروفیسر کوئی بات کرےگا۔ وہ بھی خاموشی سے باہر دیکھنے لگی۔

’’آج تو خوب مینہہ پڑرہاہے‘‘

انیتا نے پروفیسر کو بولنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا۔ پروفیسر نے ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لی اور انیتا کی طرف دیکھے بغیر کہنے لگا،

’’دیکھو! انیتا! میں تو بوڑھا ہوچکاہوں اور جلد مرجاؤنگا۔ اب چونکہ ہم سب جان گئے ہیں کہ انسان کا مستقبل کیسا ہوگا۔ تو میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ میں اکیسوی صدی میں بھی مرتا تو بھی جب بیدار کیا جاتا تو مجھے ذرا بھی پتہ نہ چلتا کہ کتنا وقت گزر گیاہے۔ اب یہاں بھی جب مرونگا تو ایسا ہی ہوگا۔ رہ گئی بات میری پرسنٹیج کی تو میں اپنی زندگی گزار چکا۔ میرے اعمال نے میری شخصیت بنا دی ہے۔ میں یہاں مروں یا وہاں مروں ، میرا پرسنٹیج لگ بھگ ایک جیسا ہی ہوگا۔ وہاں میرا کوئی نہیں رہا۔ والدین، بہن بھائی، محبتیں، بیوی، بچے، سب کے سب اُڑ گئے۔ کچھ مرگئے اورکچھ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن مجھے اس بات کا یقین ہونے لگا ہے کہ وہ لوگ یہاں ہونگے۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی تو یہاں ضرور ہوگا۔ کیا پتہ میری بیوی یہیں ہو۔ کیا پتہ میرے والدین یہیں ہوں‘‘

اتنا کہہ کر کچھ دیر کے لیے پروفیسر خاموش ہوگیا۔ انیتا منتظر تھی کہ پروفیسر مزید بات کریگا۔ چندثانیے بعد پروفیسر نے پھر بولنا شروع کیا،

’’لیکن تمہارا معاملہ مختلف ہے۔ تم ابھی جوان ہو۔ تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تم اکیسویں صدی کے امریکہ میں واپس لوٹ جانا چاہتی ہو‘‘

پروفیسر کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ خودکلامی کررہاہو۔ انیتا اس کی بات دھیان سے سُن رہی تھی۔اب کی بارپروفیسر چپ ہوا تو انیتا کہنے لگی،

’’ایک اور وجہ بھی ہے پروفیسر آپ جانتے ہیں۔ میرے اور ڈاکٹر چینگ کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ اب نہیں رہا۔ ناسا نے ہماری شادیاں تو کروادی تھی کہ سالہاسال خلا میں اکیلا نہ رہا جائے اور ہر مرد کے ساتھ ایک عورت اور ہرعورت کے ساتھ ایک مرد ہو۔ دانش اور ایلس کی شادی ٹھیک ہوئی۔ ڈاکٹر بوسٹن اورڈاکٹر کیمیلا تو پہلے سے ہی شادی شدہ تھے ۔ لیکن میرا اور چینگ کا رشتہ بے جوڑ تھا۔ ہمارے اس لمبے سفر نے مجھے اتنا اُداس اور نڈھال کردیا تھا اور پھر چینگ کے ساتھ نباہ بھی نہ ہوسکا۔ میں نے شِپ میں دِن کس طرح گزارے ، یہ میں ہی جانتی ہوں۔ میں گھر جانے کے سپنے دیکھتی آرہی تھی کہ ہم یہاں ٹریپ ہوگئے۔ نیچرلی مجھے اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ مجھے اب بھی گھر جانے کو جی چاہتاہے۔ اور اِس بار میں واپس گئی تو امریکہ میں بھی نہ رہونگی۔ اب تو میں نے فیوچر دیکھ لیا ہے۔ میں انڈیا واپس چلی جاؤنگی۔ میں اپنے لوگوں میں مرنا چاہتی ہوں‘‘

انیتا کے منہ سے ’’مرنے ‘‘ کی بات سُن کر پروفیسر کو بہت عجیب لگا۔ کیایہ لڑکی سڈرہ کمیونٹی کے وجود پر یقین نہیں رکھتی؟ ہممم ضرور انیتا کچھ اور سمجھتی ہے۔ بالآخر پروفیسر نے کہا،

’’ٹھیک ہے۔ اِن لوگوں نے ہمیں ہماری مرضی پر چھوڑ دیا ہے۔ تم اگر واپس جانا چاہتی ہو تو اپنا اختیار اور اپنی مرضی استعمال کرو! میں تو یہیں رہونگا۔ بلکہ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ میں ’ولسما‘ کے ریکارڈ سے معلوم کرونگا ۔ کیا میری ماں کو جگایا جاچکاہے؟ اور اگر نہیں جگایا جاچکا تو میں درخواست کرونگا کہ میری ماں کو جگایا جائے۔ میں اور لوگوں کو بھی جگاؤنگا۔ دوستوں کو بھی۔ بیوی کو بھی۔ تمہیں میں نے اپنی بیوی کی باتیں بتائی ہیں نا؟ ہم ایک خوشحال فیملی تھی، لیکن صرف اُس وقت تک جب تک بچے چھوٹے تھے اور میری بیوی زندہ تھی۔ میری بیوی کی موت کےساتھ ہی بچے میرے ہاتھ سے نکل گئے‘‘

اتنا کہہ کر پروفیسر اچانک چپ ہوگیا جیسے کسی سوچ نے اس کا دامن پکڑلیا ہو۔ پھر وہ خوکلامی کے سے انداز میں بولا،

’’نہیں! کسی کو بھی نہیں۔ میں سب سے پہلے، ’پیٹریشا‘ کو جگاؤنگا‘‘

انیتا ، خاموش کھڑی ، کھڑکی سے باہر شیشم کے بھیگے ہوئے درختوں کا منظر دیکھ رہی تھی۔ مہمان خانے کی عمارت کے پہلو میں تالاب بارش سے لبریز ہوکر چھلک پڑا تھا۔ اب تالاب کی سطح پر تیرتے پھول پانی کے ساتھ باہر آرہے تھے۔

**********

آج آئیسوان کو سیّارہ بعثان پر آئے ہوئے تیسرا دن تھا۔ وہ اُس وقت ڈاکٹر ہارون کی فائل پر جُھکا، نہ جانے کاغذ کے اِن پرانے ٹکڑوں میں کیا ڈھونڈ رہاتھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

’’ہم اندر آسکتے ہیں سر؟‘‘

یہ ماریہ اور شارق تھے۔آئیسوان نے سراُٹھا کر اُن کی طرف دیکھا اور فائل بند کرتےہوئے، ہلکی سی مُسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،

’’آؤ! آؤ! میں تم دونوں سے خود ملنے کے لیے آنے والا تھا۔ کیسا ہے شارق؟ شارق کیسے ہوتم میاں؟‘‘

’’جسمانی حالت ہمیشہ سے بہتر۔ لیکن ذہنی حالت بہت خراب ہے سر!‘‘

شارق نے الجھن زدہ چہرے کے ساتھ جواب دیا تو آئیسوان نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا،

’’میں سمجھ سکتاہوں۔ اگرچہ میں محسوس نہیں کرسکتا لیکن میں نے اپنے ہاتھوں سے ہزاروں انسانوں کو جگایا ہے۔ میں نے زمین، مریخ، مُشتری اور ٹائٹن سے انسانی ڈی این اے ڈھونڈے ہیں۔ میری عمر اِسی کام میں گزری ہے ، اس لیے ہر بار جب تم لوگوں کو اُٹھاتاہوں تو سب کا یہی حال ہوتاہے۔ کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ہم فرشتے ہیں، ہاہاہاہاہا‘‘

یہ کہتے ہوئے آئیسوان نے زوردار قہقہ لگایا لیکن وہ مسلسل بول رہا تھا۔ ماریہ اور شارق ہونقوں کی طرح آئیسوان کا مُنہ تکے جارہے تھے۔ وہ کہہ رہاتھا،

’’تمہارے زمانے کے لوگ عجیب و غریب ہیں۔ نہایت عجیب۔ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں سب ہی عجیب تھے۔ ہر شخص کا پہلا جملہ ہمیشہ حیران کردینے والا ہوتا ہے۔ ہاہاہاہا۔ میں تمہیں بتاتاہوں۔ آج سے لگ بھگ سوسال پہلے میں نے بیسویں صدی کے ایک پولیس مین کو جگایا۔ اس نے جونہی آنکھ کھولی، تو اس کے منہ سے سب سے پہلا جملہ کیا برآمد ہوا؟ ………. اس نے آنکھ کھولتےہی سب سے پہلے اتنی موٹی تازی گالی دی۔ ہاہاہاہا۔ وہ اپنی موت کے وقت جس مجرم کے ساتھ لڑرہاتھا اُس نے آنکھ کھلتےہی سب سے پہلے لڑائی کے اُسی سلسلے کو بحال کیا اور وہیں سے بات شروع کی جہاں ختم ہوئی تھی‘‘

آئیسوان کی بات سن کر ماریہ ہنس دی لیکن شارق ابھی تک پریشان ہی تھا۔ آئیسوان نے شارق کی پریشان آنکھوں میں شرارت بھرے انداز سے جھانکا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا،

’’شارق! ہم مصنوعی طور پر تمہیں خوش رکھنے پر قادر ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ ہم تمہارے ہارمونز کو کنٹرول کرسکتےہیں۔ یہ معمولی سی بات ہے۔ خوشی، غم، غصہ، اُداسی وغیرہ یہ سب جذبات خالص جسمانی ہیں۔ سارا کیمیل ری ایکشن ہے۔ تم بھی جانتے ہوگے، ان کا سارا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔ یہ اصلی اور حقیقی جذبات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تمہیں مصنوعی طور پر خوش رکھ سکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ تم لوگ وقت کے ساتھ جان جاؤگے کہ ہم حتی المقدور انسانوں کو زیادہ سے زیادہ نیچرل انداز میں جینے کا موقع دیتے ہیں۔ زندگی وہی ہے جو نیچرل ہے۔ مصنوعی زندگی بھی کوئی زندگی ہے‘‘

اتنا کہہ کر و ہ کسی تبصرے کے انتظار میں ماریہ اور شارق کی طرف دیکھنے لگا۔ ماریہ کے ذہن میں ایک سوال آیا تھا۔ سو اس نے پوچھا،

’’سر! ابھی آپ نے بتایا کہ آپ نے ایک پولیس والے کو جگایا تو اس کے منہ سے گالی برآمد ہوئی اور یہ کہ وہ مرنے سے پہلے کسی سے لڑرہاتھا۔ سر! ایسے لوگوں کے ساتھ آپ کیا کرتے ہیں؟ مجھے کسی نے بتایا کہ سڈرہ کمیونٹی میں لڑنے بھڑنے والے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘

’’ارے نہیں! جگہ سب کے لیے ہے۔ بس کچھ لوگوں کو ہم چند دن تربیت کے عمل سے گزارنے کے لیے کہیں اور سیٹل کرتے ہیں۔ ابھی میں نے بتایا نا کہ ہم انسانوں کو زیادہ سے زیادہ نیچرل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو مشق کرنا ہوتی ہے بس۔ تھوڑی سی مشق۔ اصل میں بات کیا ہے پتہ ہے؟ تم لوگوں کا جو زمانہ ہےیا موت پر قابوپانے سے پہلے کا جتنا بھی زمانہ ہے، اُس دور میں انسان صرف ’’سروائیول‘‘ کے لیے جیتے تھےاس لیے وہ اشیائے خوردونوش اور توانائی کے ذرائع کے لیے آپس میں لڑپڑتے تھے۔ وہ اپنی جگہ سچے تھے۔ اُس وقت ایک ہی سیّارہ تھا۔ ارتھ یعنی زمین۔ اب تو ہمارے پاس توانائی کے ذرائع لامختتم ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی فراوانی ہے۔ ہم ہر دولت سے مالامال ہیں۔ آپ کو سوائے ’جحمان‘ کے چھتیس سیّاروں کے ، کہیں نہ کوئی ہسپتال نظرآئے گا ، نہ تھانہ، نہ کچہری، نہ بازار ، نہ مارکیٹ۔ یہاں بزنس نامی کوئی شئے نہیں۔ میں تو تاریخ پڑھتاہوں تو حیران رہ جاتاہوں۔ تمہارے زمانے میں بزنس باقاعدہ ایک فن تھا۔ بڑی بڑی ڈگریاں دی جاتی تھیں۔ سی اے، آئی سی ایم اے، ایم بی اے، وغیرہ وغیرہ۔ تم لوگ یقین کروگے؟ سڈرہ کمیونٹی کے ایک مؤرخ نے ’’بزنس کی تاریخ‘‘ پر ایک کتاب لکھی ہے اور اِن ڈگریوں کو جھوٹ، مکروفریب، بے ایمانی اور فراڈ کی تعلیم قرار دیاہے۔ ہمارے لوگ تو ان ناموں سے بھی واقف نہیں جو اس بھلے انسان نے استعمال کیے ہیں‘‘

ماریہ اور شارق کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ جبکہ آئیسوان نے اچانک موضوع بدلتے ہوئے کہا،

’’اچھاچلو! باتیں تو ہم کرتے ہی رہینگے۔ پہلے ذرا کام کی بات کرلیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ آپ لوگوں کو کیوں جگایا گیاہے؟‘‘

ماریہ اور شارق اچانک چونکے بلکہ دونوں کا دِل ایک بار دھک سے رہ گیا۔ یکلخت ان کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگے اور وہ پریشان ہوگئے۔ ماریہ نے کسی قدر سہمے ہوئے لہجے میں جواب دیا،

’’نہیں سر!‘‘

’’ہممم! سنو! ہم ڈاکٹر ہارون کو جگانا چاہتے ہیں‘‘

ڈاکٹر ہارون کا نام آئیسوان کے منہ سے سنتےہی ماریہ اور شارق بہت بری طرح سے چونکے۔ انہیں کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ آئیسوان کی بات کا کیا جواب دیں۔ وہ کسی قدر بے چینی اور اضطراب کے ساتھ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگ گئے۔ تب آئیسوان نے دوبارہ کہا،

’’اور آپ دونوں اِس کام میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ میں پہلے ایک بات آپ کو سمجھا دوں۔ صدیوں پرانی بات ہے جب شروع شروع میں انسانوں کو جگایا جانے لگا تو یہ فیصلہ ٹھیک سے نہیں ہوپارہا تھا کہ کس کو جگایا جائے اور کس کو نہ جگایا جائے۔ کہیں سے ڈی این اے ڈھونڈنا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ زمین کی مٹی کے ہر ہر ذرّے میں جانداروں کے ڈی این اے ہیں یہاں تک کہ جن مذاہب کے لوگ اپنے مُردوں کو جَلا دیتے ہیں، ان مُردوں کے ڈی این اے بھی دستیاب ہیں۔ آپ تو جانتےہیں کہ ڈی این اے ذرا سا تھوکنے یا ناخن کاٹنے، یا بال گرنے سے بھی زمین میں محفوظ ہوجاتاہے۔ یہ ہمارے عادّین کے کمپیوٹرز کی ایک کلک کا کام ہے۔ سارے کے سارے ڈی این اے ہماری سکرینوں پر یوں جگمگانے لگتے ہیں جیسے بلب ہوں۔ میرا مطلب ہے کہ ہمیں ایک کلک سے پتہ چل جاتاہے کہ زمین پر کہاں کہاں کتنے ڈی این اے پڑےہیں۔ کس جانور کا کون سا ڈی این اے ہے اور ہم جب چاہیں اُنہیں اُٹھا سکتے ہیں۔ اگر کوئی ڈی این اے فاسل بن چکاہے یعنی ہزاروں لاکھوں سال پرانا ہے، تب بھی ہم اسے جگاسکتےہیں۔ آپ لوگ فاسلز کے علم سے تو واقف ہیں نا؟‘‘

آئیسوان نے بات کرتے کرتے ، رُک کر ، اچانک اُن سے سوال کردیا اور جواب کے انتظار میں ان دونوں کی طرف دیکھنے لگا۔ شارق اور ماریہ دونوں نے اثبات میں سرہلایا۔ تب آئیسوان نے دوبارہ کہنا شروع کیا،

’’فاسل پتھر کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ فاسل لوہے کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ فاسل بھُربھُری مٹی کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ مختصر بات کروں تو اگر تم لوگوں کے فاسلز مٹی کے ساتھ مل چکے ہیں، پتھر بن چکے ہیں یا لوہا بن چکے ہیں، ہم پھر بھی اُن میں سے ڈی این اے نکال سکتے ہیں اور انہیں پھر سے زندہ کرسکتے ہیں۔ خیر! تو میں بات کررہا تھا کہ کوئی ایک ، اَکیلا ڈی این اے بھی ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ اب شروع شروع کے ادوار میں صورتحال کیا ہوتی تھی؟
یہ سوال کہ کیا سب کے سب لوگوں کو جگا دیا جائے؟ کیا صرف تاریخ میں موجود فقط مشہور لوگوں کو جگایا جائے؟ کیا صرف ان لوگوں کو جگایا جائے جن کا اخلاق اچھا تھا اور اُن لوگوں کو چھوڑ دیا جائے جو لڑائی بھڑائی کرتے تھے؟ یہ وہ سوال تھے جن کی وجہ سے صدیوں تک ہمارے ماہرین میں مباحثے ہوتے رہے۔ اسے ہمارے طالب علم ’’بڑی ڈیبیٹ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ بہت طویل مدت بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہم ابتدائی دور کے چند لوگوں کو جگا دیں اور ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ آپ جس جس کو جگانا چاہتے ہیں، اس کا نام لیں اور ہم اُنہیں اُٹھادینگے۔ تب کیا ہوا ہے کہ جب شروع شروع کے چند اچھے لوگ بیدار ہوئے تو انہیں اپنی پہلی زندگی اور دوستوں اور رشتہ داروں کی بہت یاد آتی تھی، سو لوگوں نے نام بتانے شروع کردیے اور ہم ہر اُس شخص کو جگانے لگ گئے جو اخلاق کا اچھا ہوتا تھا اور پہلے سے بیدار ہوجانے والے لوگوں میں سے کسی نہ کسی کا رشتہ دار یا دوست ہوتا تھا۔ یوں ہم نے اب تک جتنے لوگ جگائے ہیں ان میں سے نناوے فیصد تعداد اُن لوگوں کی ہے ’’جن کا کوئی تھا‘‘۔ مطلب جن کا کسی نہ کسی جاگے ہوئے شخص نے نام لیا اور ہمیں کہا کہ اُسے اُٹھایا جائے۔

ایسا کرنے میں ہمیں ایک آسانی ہوتی تھی۔ ایک تو سارے انسانوں کو ایک ساتھ نہ جگانا پڑتاتھا۔ اور ہم تسلی میں تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سارے ہی اس طریقے سے خود بخود بیدار جائینگے۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ جب ہم کسی ایسے شخص کی یاداشت واپس لانا چاہتے تھے جو زیادہ پرانے دور کا ہوتا اور اس کی یاداشت کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہوتا تھا تو ہم روشنی کے ’’اِٹینگلڈ پارٹیکلز‘‘ کی مددسے ایسے لوگوں کی سوانح حیات کی ویڈیوز بنالیتے تھے۔ اب یہ ویڈیوز بنانا تب ہی ممکن ہوپاتاہے جب اُس شخص کو جاننے والا کوئی موجود ہو۔ ہم ڈی این اے سے ٹھیک ٹھیک تاریخوں اور مقامات کےاندازے نہیں لگاسکتے۔ لیکن اگر کوئی جاننے والا موجود ہو تو ہم ایسا کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو اس لیے بیدار کیا گیا ہے کہ آپ ہمیں ٹھیک ٹھیک وقت اور مقامات بتائینگے اور ہم دُور سے ہی اُس عہد کی ویڈیو بنالینگے جس میں ڈاکٹر ہارون ہوگزرے۔ کوئی ایک واقعہ ہی کافی ہوگا۔ مثلاً آپ کوئی ایک تاریخ بتائینگے کہ فُلاں فُلاں دن آپ لوگ ڈاکٹر ہارون کے ساتھ کہاں موجود تھے‘‘۔

آئیسوان نے نہایت تفصیل سے اپنا مدعا سمجھایا۔ اِسی کام کے لیے تو وہ بعثان آیا ہوا تھا۔ اپنی بات مکمل کرکے وہ ان دونوں کی طرف سے کوئی جواب یا سوال سننے کا انتظارکرنے لگا۔ ماریہ اور شارق دونوں خاموش تھے۔ آئیسوان بھی صبر کےساتھ ان کا انتظار کرنے لگا۔ اچانک ماریہ نے قدرے جذباتی لہجے میں کہا،

’’میں چودہ اگست 2010 کے روز سارا دن ڈاکٹرہارون کے گھر تھی‘‘

’’اوہ! دیٹس گُڈ! اور ڈاکٹرہارون کا گھر کہاں تھا؟‘‘

ماریہ نے یہ سوال سُنا تو پگلا سی گئی،

’’ہیں؟؟……. گھر کہاں تھا؟ کراچی میں، فیز سکس، سی ویو‘‘

ماریہ کے انداز اور ماریہ کے جواب پر آئیسوان کا قہقہہ نکل گیا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا،

’’نہیں، ایسے نہیں۔ مجھے کورآرڈی نیٹس چاہییں‘‘

اب شارق پہلی بار بولا،

’’کوآرڈی نیٹس ؟ وہ ہم کیسے بتاسکتے ہیں؟ یہ تو ناممکن سی بات ہے‘‘

ساتھ ہی ماریہ نے بھی زور زور سے سرہلایا۔ لیکن اچانک ماریہ نے ایک مختلف سوال کردیا،

’’کیا ہم سے پہلے آپ نے ڈاکٹر ہارون کے کسی رشتہ دار کو نہیں جگایا؟‘‘

’’نہیں۔ و ہ ہمارے لیے ممکن تو تھا لیکن سِڈرہ کے قانون کی رُ وسے ہم پابند تھے۔ ان میں سے کسی کا پرسنٹیج ساٹھ نہیں تھا‘‘

ماریہ اور شارق کو پرسنٹیج والی بات بالکل بھی سمجھ نہ آئی۔ ماریہ نے الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا،

’’پرسنٹیج کیا ہوتاہے؟

آئیسوان جانتا تھا کہ ابھی ماریہ بھی اُس مخصوص تربیتی کورس سے نہیں گزری جس کے بعد جگائے جانے والوں کو اُن کے پرسنٹیج یعنی پہلی زندگی میں کیے گئے اعمال کا حساب کتاب بتایا جاتاتھا۔ چنانچہ آئیسوان نے صرف اتناجواب دیا،

’’’پرسنٹیج‘ ہمارے ایک بہت بڑے ادارے کا نام ہے۔ اس کی بابت آپ بہت جلد جان جائینگے‘‘

تب شارق نے ایک سوال کردیا،

’’آپ ڈاکٹر ہارون کو جگانا ہی کیوں چاہتے ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ جب اُن سے پہلے اُن کا کوئی ’’اپنا‘‘ بیدار ہی نہیں تھا تو پھر کس نے اُن کا نام تجویز کیا؟ ابھی آپ نے بتایا نا کہ کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا دوست ہی نام تجویز کرتاہے تو آپ لوگوں کو جگاتے ہیں‘‘

آئیسوان کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی ۔ اس نے قدرے جوش سے جواب دیا،

’’یہ پرسنٹیج کا جو سارا نظام ہے۔ یہ انسانی اعمال کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ کون کتنا وائیلنٹ تھا۔ کون کتنا نرم مزاج اور تحمل والا تھا۔ کون کتناجذباتی تھا۔ کون کتنا اطمینانِ قلب کا مالک تھا۔ کئی صدیوں تک ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا ہی دشوار عمل تھا کہ آخر کیسے طے کیا جائے کہ کون سی بات بُری ہے اور کون سی بات اچھی ہے۔ قدیم علوم، قدیم نظریات اور افکار’ کے اوس‘(Chaos) سے بھرے ہوئے ہیں۔ الفاظ بے معنی ہوا کرتے تھے اوراصطلاحات لایعنی۔ تب ہمارے عادّین نے سینکڑوں سال کی محنت سے ایک نظام وضح کیا ۔ اسی نظام کو فالو کرتےہوئے آج تک ولسما نے سب کو بیدار کیا ہے۔ لیکن آج سے اَسّی سال پہلے ہمارے علم میں آیا کہ ڈاکٹر ہارون کے دماغ میں انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک بالکل مختلف تھیسز موجود تھا۔ انہوں نے جستہ جستہ اپنے نوٹس جہاں کہیں لکھے تھے ہمیں مل گئے۔ جب ہمارے ماہرین نے اُن کا مطالعہ کیا تو حیران رہ گئے ۔ ڈاکٹرہارون کا وہ تھیسز اگرچہ کبھی شائع تو نہ ہوسکا اور ان کےساتھ ہی دفن ہوگیا۔ لیکن اس تھیسز سے جو قانون اخذ ہوتاتھا اس کے متن تک ہماری رسائی ہوگئی…………..‘‘

ماریہ آئیسوان کی بات جوں جوں سنتی جارہی تھی اس کی آنکھیں پھیلتی چلی جارہی تھیں۔ اچانک اُس نے آئیسوان کی بات کاٹ دی اورجھٹ سے کہنے لگی،

’’اور وہ قانون یہ تھا، ٹیمپرامنٹ اِز اِنْوَرْسلی پروپوشنل ٹو فلَکس، یعنی ’صبر اور جذبات آپس میں بالعکس متناسب ہیں‘‘

آئیسوان کی آنکھوں میں شدید قسم کی چمک نمودار ہوئی۔ وہ یکلخت بے پناہ خوش ہوا اور کرسی میں ذرا آگے ہوکر بیٹھ گیا اور قدرے اونچی آواز میں بولا،

’’ایگزیکٹلی ایگزیکٹلی۔ بالکل یہی ۔ بالکل یہی قانون ڈاکٹر ہارون نے تقریباً اخذ کرلیا تھا۔ آپ دونوں ڈاکٹر ہارون کے سائیکالوجی کی سٹوڈینٹس تھے۔ یقیناً انہوں نے اپنی کلاسوں میں اس کا ذکر کیا ہوگا۔ ویل ڈن! تو کیا آپ کو وہ سب ریاضیاتی فارمولے بھی آتے ہیں جن کی بنیاد پر ڈاکٹر نے یہ قانون اخذ کیا تھا؟‘‘

اب ماریہ سٹپٹا گئی۔ وہ اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئی۔ اس نے شارق کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھا اورپھر مایوس ہوکر دوبارہ آئیسوان کی طرف دیکھا اور پھر نفی میں سرہلادیا۔

………………………………

Qist 7……..

داستان گو…….. قسط 5

ناول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماریہ نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھردروازہ کھولنے کے لیے اُٹھنے لگی تو شارق نے ماریہ کا ہاتھ پکڑلیا،
’’ماریہ! کیا کررہی ہو؟ ‘‘

ماریہ ابھی تک شارق کو دوبارہ اُٹھائے جانے سے متعلق کوئی بات بھی نہیں سمجھا پائی تھی۔ ابھی ابھی تو وہ بیدار ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کی ہدایت تھی کہ اُسے فوری طور پر بالکل نہ بتایا جائے کہ وہ مَر کر دوبارہ زندہ کیا گیا ہے کیونکہ ابھی اس کے اعصاب کمزور ہیں اور کوئی بھی ’’شاک‘‘ اُسے ذہنی طور پر نقصان پہنچا سکتاہے۔ ماریہ اُس کے ساتھ اِدھر اُدھر کی عام سی باتیں کرتی رہی تھی، جیسا کہ …………….جیسا کہ ہمیں کالج کب سے جاناہے۔ اگلے سمسٹر میں کون کون سے مضمون لینے ہیں وغیرہ۔ ماریہ اور شارق آج سے پندرہ سوسال پہلے، اپنے کالج میں سائیکالوجی کے سٹوڈینٹس تھے۔ماریہ، شارق کے ساتھ فقط کالج اور نئے سمسٹر کی باتیں کرتی رہی۔ ڈاکٹرہارون کی باتیں کرتی رہی۔ اپنے کلاس فیلوز کی باتیں کرتی رہی۔ شارق ان باتوں کی وجہ سے بار بار ماریہ کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگ جاتا تھا کہ آخر ماریہ اپنے بھائی اور بھابھی کی وجہ سے پریشان کیوں نہیں ہورہی۔ ماریہ اِتنے سنگین واقعہ کو سیریس کیوں نہیں لے رہی۔ آخر ماریہ کی بھابھی نے اُن دونوں کو زہر دے کر مارنے کی کوشش تھی۔ یہی وجہ تھی کہ شارق بے پناہ حیران تھا۔ اس نے ایک بار کہہ بھی دیا،

’’ماریہ! تم کیا کررہی ہو؟ یہ سب آخر کیا ہورہاہے؟ یہ کون سی جگہ ہے؟ کس کا گھر ہے؟ ہم لوگ یہاں کیوں ہیں؟ کیا تمہارے بھائی اور بھابھی نے ہمیں قید کررکھاہے؟ ماریہ! مجھے قسم سے بے ہوش ہونے سے پہلےکی ساری باتیں اچھی طرح یاد ہیں۔ میں نے ابھی دُودھ کا گلاس رکھا بھی نہیں تھا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہوا تھااور پھر مجھے خون کی قے آئی تھی۔ خون کی اُلٹی کے بعد ہی میں بے ہوش گیا۔ مجھے کچھ یاد نہیں بعد میں کیا ہوتارہا۔ ماریہ! یہ کمرہ کسی ہسپتال کا کمرہ نہیں ہے۔ اتنا تو مجھے اندازہ ہورہاہے۔ تم بتاتی کیوں نہیں؟ ہم ہیں کہاں آخر؟‘‘

تب ماریہ خود کو بہت بے بس سا محسوس کرنے لگی۔ ڈاکٹرز کی ہدایت تھی کہ شارق کو ابھی کچھ نہ بتایا جائے اور شارق کے سوالات ایسےتھے کہ ماریہ کو ہر ہر بات پر رونا آرہا تھا۔ جب سے شارق بیدار ہوا تھا ابھی تک ایک بار بھی ماریہ کی آنکھیں خشک نہ ہوئی تھیں۔ وہ سوچتے ہوئے ڈر رہی تھی کہ جب شارق سنے گا کہ وہ آج پندرہ سوسال بعد دوبارہ زندہ کیاگیاہے اور یہ دنیا بالکل ہی مختلف دنیا ہے، تب شارق کا کیا حال ہوگا۔ آخر اُس نےشارق کا ذہن بدلنے کے لیے کہا،

’’شارق! ہم ڈاکٹر ہارون کے گھر میں ہیں‘‘

’’ڈاکٹرہارون کے گھر میں؟ اچھا؟ اوہ تھینکس گاڈ، تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ شکرہے تم مجھے یہاں لے آئی ہو۔ ڈاکٹرہارون سے زیادہ ہمارا کوئی خیر خواہ نہیں ماریہ! تھینکس گاڈ‘‘

ماریہ یہی بات کررہی تھی جب کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ ماریہ کا ہاتھ شارق نے پکڑا اور جب کہا کہ، ’’ماریہ کیا کررہی ہو؟‘‘ تو ماریہ نے بہت اُداس نظروں سے شارق کی طرف دیکھا اور پھر اُسے کہا،

’’شارق! کچھ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرہارون ہونگے یا کوئی ملازم ہوگا۔ تم فکر نہ کرو‘‘

اب ماریہ نے آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ سامنے آئیسوان کھڑا تھا۔ آئیسوان سات گھنٹے کا طویل سفر کرکے سیّارہ جبرالٹ سے سیّارہ بعثان تک آیاتھا۔ آئیسوان کا اصل کام ’’ولسما‘‘ میں اُس ادھیڑ عمر شخص کا کیس دیکھنا تھا جو کئی سال سے یاداشت کے مسئلہ کی وجہ سے جگایا نہیں جاسکاتھا۔ لگ بھگ اسّی سال کی تگ و دو کے بعد اب ’’ولسما‘‘ نے مائمل سے درخواست کی تھی کہ اُس شخص کی یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ٹائم مشین استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئیسوان اِس شعبہ کا انجارچ تھا۔ اور آئیسوان ہمیشہ ایسے ہر کیس کا، خود جاکر مطالعہ کرنے کا عادی تھا۔ آج بھی وہ اِسی کیس کے لیے یہاں وارد ہوا تھا۔ وہ کچھ ہی دیر پہلے یہاں پہنچاتھا۔ یہاں پہنچتے ہی اُس نے سب سے پہلے ماریہ اور شارق کو دیکھنا چاہا۔ کیونکہ یہ جوڑا بھی آئیسوان کی اجازت سے جگایا گیا تھا۔ دراصل وہ ادھیڑ عمر آدمی جس کے کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے آج آئیسوان سیّارہ بعثان پر آیاتھا فی الحقیقت ایک اہم شخص تھا۔ سڈرہ کمیونٹی کے بڑے سائنسدانوں کو آج سے اَسّی سال قبل زمین سے اس شخص کا ڈی این اے ملا تھا اور تب سے یہ لوگ اُسے جگانے کی ہرممکن کوشش کررہے تھے لیکن مسلسل ناکامی کا سامنا تھا۔ آئیسوان نے ماریہ کو دیکھا تو مسکرا دیا۔

’’نئی زندگی مبارک ہو ماریہ!‘‘

ماریہ نے آئیسوان کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس لیے وہ اُسے نہ پہنچانتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ معتبر شخص ضرور ’ولسما‘ کا ہی کوئی بڑاآفیسر ہوگا۔ ماریہ نے دروازہ پورا کھول دیا۔ آئیسوان اندر آیا اور اس نے شارق کو دیکھتے ہی کہا،

’’کیسے ہو شارق میاں! کھل گئی آنکھ؟ کیسا محسوس کررہے ہو؟‘‘

شارق کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ شخص کون ہے لیکن پھر بھی آئیسوان کی شخصیت میں موجود جادُو اور حُسن نے شارق کو متاثر کیا۔ شارق نے اپنے چہرے پر مُسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا،

’’فائن! بہت بہتر محسوس کررہاہوں۔ تھینک یُو سر!‘‘

’’ہممم گڈ! تم آرام کرو شارق! میں دوبارہ آؤنگا۔ اور ہاں آرام سے یہ مُراد نہیں کہ بستر پر لیٹے رہو۔ باہر نکلو! گھومو پھرو! تم چل پھر سکتے ہو یار!‘‘

آئیسوان کا لہجہ اِن لوگوں کے ساتھ اتنا فرینک تھا کہ ماریہ اور شارق دونوں حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ دراصل سڈرہ کمیونٹی کا سارا نظام چلانے والے ہیومین ورژن ٹُو کے لوگ، سب کے سب اخلاق کی بلندیوں پر فائز تھے۔ یہ لوگ کوئی بھی اضافی تکلف نہ کرتے تھے۔ محبت اور خلوص ان کے چہروں پر ہمہ وقت ثبت رہتا تھا۔ اور آئیسوان تو پھر آئیسوان تھا۔ اس کی شخصیت، اس کا لب ولہجہ ، اس کے شوق، سب کچھ ہی نرالا اور خوبصورت تھا۔ آئیسوان کو ماضی کے لوگوں کے ساتھ بے پناہ دلچسپی تھی۔ وہ گزشتہ کتنی صدیوں سے صرف ایک ہی شعبے کے ساتھ منسلک تھااور اب تو پوری سڈرہ کمیونٹی میں اسے ’’معاد‘‘ یعنی پرانے لوگوں کو زندہ کرنےپر سب سے بڑی اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ آئیسوان کمرے سے واپس جانے لگا۔ جاتے جاتے وہ کسی خیال کے تحت رُکا اور اُس نے ماریہ سے مخاطب ہوکر قدرے آہستہ آواز میں سوال کیا،

’’عادّین آئے تھے؟‘‘

ماریہ لگ بھگ ایک ماہ پہلے جگائی گئی تھی اور اب تک بہت سی باتوں سے واقف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عادین کون ہیں۔ عادّین ماریہ کے پاس بھی آئے تھے۔ چنانچہ ماریہ نے فوراً جواب دیا،

’’نہیں ابھی تو نہیں آئے۔ میں تو یہی سمجھی تھی کہ آپ ’عادّین‘ میں سے ہی ہیں‘‘

آئیسوان نے ماریہ کی بات سن کر مُسکراتے ہوئے کہا،

’’توبہ کرو! مجھے کوئی شوق نہیں عادّین بننے کا۔ بہت بور کام ہے۔ پتہ نہیں یہ لوگ کیسے کرلیتےہیں۔ خیر آئینگے۔ اچھا اب میں چلتاہوں‘‘

یہ کہہ کر آئیسوان کمرے سے نکل گیا۔اور ماریہ نے کمرے کا دروازہ دوبارہ بند کردیا۔ وہ عادّین کو دیکھ چکی تھی۔ یہ تین افراد کی ایک ٹیم کو کہا جاتاتھا۔ جو سڈرہ میں بڑی کلاسوں کی ریاضی کے طلبہ ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی ریاضی دان سڈرہ کے کسی بڑے اور اہم ادارے میں جانے لگتا تو اسے پہلے کئی سال تک عادّین کے ساتھ کام کرنا پڑتاتھا۔ عادّین دراصل تحقیق کے لوگ ہوتے تھے۔ جب بھی کسی شخص کو جگایا جاتا تو عادّین کی ایک ٹیم اُسے ملنے کے لیے آتی اور اس سے چند سوالات کرتی۔ ان سوالات کی تفصیلی رپورٹ ’ولسما‘ ، ’پالما‘ اور سڈرہ کے دیگر بڑے بڑے اداروں کو بھیجی جاتی ، جہاں یہ معلومات بعض مخصوص قسم کی تحقیقات میں کام آتیں۔ جب ماریہ کو جگایا گیا تھا تو پہلے دن ہی عادّین کی ٹیم آئی تھی۔ ان لوگوں نے ایک سوال ماریہ سے بار بار پوچھا تھا،

’’آپ کو کیا لگتاہے؟ آپ کتنا عرصہ سوئی رہیں؟‘‘

ماریہ ’’سوئی رہیں‘‘ کے الفاظ پر حیران تو ہوئی لیکن اس نے جواب دیا تھا کہ،

’’یہی کوئی ایک یا دودن‘‘

عادّین کی طرف سے پوچھے گئے سوالا ت کا خیال آیاتو نہ جانے کیوں ماریہ نے شارق سے خود بھی وہی سوال کردیا،

’’شارق! تمہیں کیا لگتاہے کہ تم کتنا وقت سوتے رہے ہو؟‘‘

’’ہاں؟ کتنا وقت؟ ہممم………….. مجھے تو لگتاہے کہ میں بس چند لمحوں کے لیے بے ہوش ہوا تھا‘‘

ماریہ سوچنے لگی کہ اُس کے اور شارق کے جواب میں فرق ہے۔ ماریہ نے ایک یا دودن کہا تھا۔ جبکہ شارق نے چند لمحے بتائے ہیں۔ وہ مختلف باتیں سوچنے لگی۔ ابھی انہیں یہاں کے طور طریقوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ اس نے ابھی تک پرسنٹیج کا ذکر تک نہیں سنا تھا اور نہ ہی یہ بات کہ اگر پرسنٹیج مختلف ہو تو دوبارہ زندہ کیے جانے والے لوگوں کو مختلف سیّاروں پر سیٹل کیا جاتاہے۔ وہ کچھ بھی تو نہ جانتی تھی۔

اچانک شارق نے بستر پر اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا،

’’ماریہ! ابھی جو ڈاکٹر آیا تھا، وہ تو کہہ رہا تھا کہ مجھے چلنا پھرنا چاہیے۔ کیا ہم دونوں تھوڑی دیر کے لیے کسی کھلی جاسکتے ہیں؟‘‘

ماریہ چونک سی گئی۔ اور ساتھ ہی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

’’بالکل! چلو! باہر چلتے ہیں‘‘۔

******

دانش ایک کھلے میدان میں چٹیل زمین پر لیٹاآسمان کی طرف دیکھ رہاتھا۔اُس کے نیچے سبزہ نہیں تھا۔ خالص مِٹی تھی۔آج وہ ٹہلتاٹہلتا اِس طرف نکل آیا تھا۔ اُنہیں اپنی سپیش شپ کو چھوڑے اورجبرالٹ پر لینڈ کیے آج چودہ دن گزر گئے تھے۔ اس دوران انہیں شوریٰ کے فیصلے سے آگاہ کردیا گیاتھا۔ قافلے کے ہررکن کے پاس الگ الگ فائل پہنچی تھی۔ سب نے پہلے اکیلے اکیلے اور پھر ایک میٹنگ کی شکل میں اُن تمام نکات پر خوب بحث کی تھی۔ پروفیسر ولسن سمیت کسی کو سڈرہ کی شُوریٰ کے کسی فیصلے سے کوئی شکو ہ نہیں تھا۔ سب خوش تھے۔ بلکہ بہت زیادہ خوش تھے۔ کیونکہ ڈرافٹ میں اُن کے دِل کی ہرخواہش کو پورا کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی واپس اکیسویں صدی میں لوٹ جانا چاہتا تو اُسے ’’گریوٹی بس‘‘ فراہم کرنا بھی سڈرہ کی شوریٰ نے خود پر فرض قراردے دیا تھا۔ دانش کو اب بہت زیادہ لگنے لگا تھا کہ وہ لوگ کسی طرح ’’اگلے جہان‘‘ میں آپہنچے ہیں۔ وہ جتنا سوچتا جاتا تھا اُسے ہر ہر شئے میں ایک ہی حقیقت دکھائی دیتی تھی، کہ یہ اگلاجہان ہے۔ کچھ سوالات اس کے ذہن میں ایسے تھے جن کی وجہ سے اس کا اعتماد متزلزل رہتا۔

آج وہ چلتا چلتا اِتنی دُور نکل آیا تھا کہ آخر ایک جگہ تقریباً جنگل ختم ہوگیا۔ یہ چٹیل میدان تھا۔ تاحدِ نگاہ میدان ہی میدان۔ زمین ہموار تھی ۔ مِٹی کا رنگ، بالکل دانش کے اپنے سیّارہ زمین کی مٹی کے رنگ جیسا تھا۔ دانش کو یہاں آنا بہت بھلا لگا۔ اتنے سبزے، اتنے پھولوں، اتنے درختوں میں ایسی جگہ جہاں نہ سبزہ، نہ پھول، نہ درخت تھے، اُسے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ ایک خاموشی سی خاموشی تھی۔ ایک سُنسانی سی سُنسانی تھی۔ وہ بے خوف زمین پر لیٹ گیا اور اب وہ دُور آسمانوں میں دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنے گھر، سیّارہ زمین کو ڈھونڈنا چاہتاتھا، لیکن الفاسینٹوری کی تیز روشنی میں آسمان پر کیا نظرآتا۔ ہاں البتہ اُسے اس بات کا یقین تھا کہ رات کے آسمان میں زمین کو ڈھونڈا جاسکتاہوگا۔ اس کا ذہن مسلسل مصروف تھا۔ آج تو وہ اپنی بیوی ایلس کو بھی مہمان خانے میں ہی چھوڑآیا۔ وہ کچھ وقت اپنے ساتھ بالکل اکیلے گزارنا چاہتاتھا۔ قافلے کا ہررکن اپنی اپنی جگہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے عمل میں مصروف تھا۔ سب کے سامنے سارے نکات تھے۔ اب ہرکسی نے فیصلہ خود کرنا تھا۔ ڈاکٹربوسٹن اور ڈاکٹرکیمیلا نے تو پہلے دن ہی اپنا فیصلہ سنادیاتھا کہ وہ سڈرہ کمیونٹی میں ہی قیام کرینگے اور فزکس کے لیے کام کرینگے۔ لیکن باقی لوگ ابھی تک کسی فیصلہ پر نہ پہنچ پائے تھے۔ یہاں رہنے کا فیصلہ کیا جائے یا واپس جانے کا؟ یہاں رہنے کا فیصلہ کیا جائے تو ’’رینوویشن‘‘ کو قبول کیا جائے یا اپنی پہلی زندگی کو پورا ہونے دیا جائے؟اپنی پہلی زندگی کو پورا ہونے دیا گیا تو پھرایک بار موت کا ذائقہ بھی چکھنا ہوگا اور جگانے سے پہلے ہماری پرسنٹیج بھی آخری مرتبہ نوٹ کی جائے گی۔ اگر دوبارہ جگائے جانے سے پہلے ہماری پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوئی تو؟

اس طرح کے سوال تھے جو سب کے ذہنوں میں تھے۔ یہ لوگ بیک وقت پریشان بھی تھے اور خوش بھی۔ ہرکوئی فی الحقیقت شدید قسم کی سنسنی کا شکار تھا۔ دانش نے آخر آسمان کی طرف دیکھنا بند کردیا اور زمین پر لیٹے لیٹے کروٹ بدل لی۔پھر وہ ایک کہنی کے بل ذرا سا اُٹھ کر بیٹھ گیا اور مِٹی پر انگلیوں سے مختلف لکیریں لگاتے ہوئے بظاہر کھیلنے لگا۔ فی الحقیقت وہ گہری سوچ میں گم تھا۔معاً دانش کو زمین پر اپنے سامنے چوکور سی روشنی نظرآئی۔ ساتھ اردو میں لکھی تحریر،

’’دانش! اگر آپ کی تنہائی میں خلل نہ ہو تو میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ مائمل‘‘

دانش بُری طرح چونک گیا۔ اس نے فوراً آسمان کی طرف دیکھا۔ یقیناً یہ میسج کسی سیٹلائیٹ کے ذریعے دانش تک پہنچ رہاتھا۔ آسمان پر دانش کو کچھ دکھائی نہ دیا لیکن اُسے یقین تھا کہ مائمل کا میسج ، اس ویرانے میں اُس تک کسی سیٹلائیٹ کے ذریعے ہی بھیجا جارہاتھا۔ وہ یکلخت اُٹھ کر بیٹھ گیا۔اُسے کچھ سمجھ نہ آئی کہ میسج کا ریپلائی کس طرح کرے۔ اس نے روشنی کے اس چوکھٹے کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔میسج کے آخر میں ایک قدرے بڑا سا دائرہ چمک رہا تھا۔ دانش نے کچھ سوچے سمجھے بغیر اُس دائرے کے درمیان اُنگلی رکھ دی۔اگلے لمحے روشن چوکھٹا غائب ہوگیا ۔ ابھی دانش اِس عجیب و غریب مظہر کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ دُور سے اُسے کوئی نہایت تیز رفتار اور بے آواز سواری آتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس نے پلک بھی نہ جھپکی ہوگی کہ مائمل اُس کے پاس تھی۔دانش کو مائمل تو نظرآگئی لیکن کوئی گاڑی نظر نہ آئی۔ حالانکہ وہ جب دُور سے آتا ہوا دیکھ رہا تھا تو اسے تیزرفتار سواری نظر آئی تھی۔ وہ ابھی حیرت سے اس جگہ کے آس پاس نظر دوڑا رہا تھا جہاں مائمل کھڑی مسکرارہی تھی کہ مائمل نے اُسے مخاطب کیا،

’’ارے بھئی! میں عام سی سواری میں آئی ہوں۔ یہ تو تمہاری زمانے کی چیز ہے۔ میں ’’آپٹکل کلوک‘‘ (optical cloak) میں آئی ہوں۔ میری گاڑی نظر نہیں آرہی تو یہ’نینووائرز‘ کا کمال ہے۔ فزکس کا کمال ہے۔ ہاں ہم نے یہ ضرور کیا کہ اس گاڑی کی رفتار بے پناہ تیز کردی۔ سو یہ کوئی جادُو نہیں دانش!‘‘

دانش جوفوراً اُٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا ہونقوں کی طرح مائمل کا منہ تکنے لگا۔ اس کے پاس جیسے الفاظ نہیں تھے کہ وہ جواب میں کچھ کہے۔ کچھ دیر مائمل اسے اِسی حال میں دیکھتی رہی اور پھر ہنس پڑی،

’’اچھا! بیٹھو تو سہی! ‘‘

مائمل نے اتنا کہا اور بڑی بے تکلفی سے وہیں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی، جہاں کچھ دیر پہلے دانش بیٹھاتھا۔ دانش بھی جھٹ سے زمین پر بیٹھ گیا۔اب وہ قدرے سنبھل چکا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ دِل سے ایسا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا کہ اُسے سب کچھ جادُوئی سا دکھائی دے۔وہ اِس دنیا کو طلسم ِ ہوشربا یا جہانِ آخرت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ اِسی بات کو سوچ کر اُسے اُداسی ہوتی تھی۔ اس پر مستزاد اِس دنیا کی ہر بات ہی نرالی اور حیران کردینے والی تھی۔ مائمل جو کافی دیر قدرے سنجیدگی کے ساتھ اس کی طرف دیکھتی رہی، کہنے لگی،

’’دانش! زندگی ایک تسلسل کا نام ہے۔اس تسلسل میں اگر کبھی تعطل آئے تو دوطرح سے آتا ہے۔ نمبرایک، کہ آپ کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ جسے آپ لوگ مرجانا کہتے ہیں۔ نمبردو، آپ کھلی آنکھوں کے ساتھ زمان و مکاں میں جَست بھرجاتے ہیں۔ جمپ کرجاتے ہیں۔ آپ لوگوں کے ساتھ دوسری طرز کا تعطل پیش آیا ہے۔ دونوں طرح کے تعطل میں ، تعطل کا دورانیہ بہت مختصر ہوتاہے۔ مرجانے والے شخص کو جب ہم دوبارہ زندہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے حساب دانوں کو بتاتا ہے کہ بس پل دو پل کے لیے ہی اس کی آنکھ بند ہوئی تھی۔ اور آپ لوگ بھی جب کسی وارم ہول سے گزرے ہو تو پل دو پل میں ہی گزرے ہولیکن اس سے آپ کے وقت میں اور باقی لوگوں کے وقت میں اتنا بڑا فرق آگیاہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک سینئر سائنسدان ہو اور آپ تو خوب سمجھتے ہو کہ امکانات کی دنیا لامختتم ہے۔ یعنی کبھی نہ ختم ہونے والی‘‘

دانش گویا مسحور تھا۔ مائمل کی آواز میں تاثیر ہی کچھ ایسی تھی۔ دانش کی حیرانی ایک میٹھی سی کیفیت میں بدل گئی۔ وہ اپنے خون میں سرشاری سی محسوس کرنے لگا۔مائمل کی بات بھی اتنی معقول تھی کہ وہ فقط اثبات میں سرہلانے کےسوا اور کچھ نہ کہہ سکا۔ تب مائمل نے دوبارہ کہنا شروع کیا،

’’دانش! آپ کیا سمجھتے ہو کہ ہم لوگ تم لوگوں سے مختلف ہیں؟‘‘

دانش کے لیے یہ سوال غیر متوقع تھا۔وہ پہلے چونکا پھر کسی قدر مسکراتے ہوئےاس نے فقط اتنا کہا،

’’ہاں‘‘

مائمل بھی مسکرادی اور اس نے دوبارہ پوچھا،

’’کیسے؟‘‘

’’آپ لوگ خود کو ہیومین ورژن ٹُو اور ہمیں ہیومین ورژن ون کہتے ہو ۔ ظاہر ہے ’ہیومین ورژن ون‘کم تر اور ’ہیومین ورژن ٹو ‘برترہے‘‘

مائمل نے دانش کی بات سنتے ہی کہا،

’’عجیب بات ہے۔ ہم ہیومین ورژن ون کو برتر سمجھتے ہیں اورآپ ہیومین ورژن ٹُوکو برترسمجھ رہے ہو‘‘

اب حیران ہونے کی باری دانش کی تھی۔ اس کی پیشانی پر الجھن والی سلوٹ نمودار ہوتی دیکھ کر مائمل نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا،

’’اچھاآپ سنیے! میں سمجھاتی ہوں۔ سڈرہ کمیونٹی میں پانچ قسم کے انسان پائے جاتے ہیں، نمبرایک، ’’پُرش‘‘، نمبر دو’’بِنادم‘‘ نمبرتین، ’’پارمش‘‘ نمبرچار’’مقسور‘‘ اور نمبر پانچ ’’بشر‘‘۔اب یہ پانچوں کون لوگ ہیں؟ یہ بھی سمجھ لیجیے!

نمبرایک: سڈرہ کمیونٹی میں سب سے افضل درجے کے انسانوں کو ’پُرش‘ کہاجاتاہے۔یہ لوگ اپنی مرضی سے اُن سیّاروں کی طرف جانے اور کئی کئی صدیوں تک وہاں رہنے کے لیے تیّار ہوجاتے ہیں، جن سیّاروں پر ہم نے وائیلنس والے انسانوں کو سیٹل کیا ہے۔وائیلنس والے انسان دوسوبیالیس میں سے چھتیس سیّاروں پر آباد ہیں، اِن چھتیس سیّاروں کو جحمان (Jehman) زُون کہا جاتاہے۔ پُرشوں کو اُن لوگوں کی خدمت اور تربیت کے لیے یہاں سے جحمان بھیجاجاتاہے۔ ہم میں سے جو لوگ پُرش ہیں اُن کی ہمّت اورجذبہ قابلِ رشک ہے۔ اس لیے سڈرہ کمیونٹی میں انہیں سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔

’’پُرش‘‘ کیوں سب سے خوش قسمت سمجھے جاتے ہیں ؟ کیونکہ وہ بہادر ہیں۔ وہ اپنی خوشی اور اپنی مرضی سے جحمان(Jehman) کے سیّاروں پر رہنا منتخب کرتے ہیں۔ یہ لوگ ، اُن انسانوں کی خدمت پر مامُور ہیں جو دُکھ درد کی زندگی محض اس لیے گزار رہے ہیں کہ جلد از جلد ان میں وائیلنس اور تشدد کا عنصر ختم ہوجائے۔ تمام ’’پُرش‘‘ اُن کی خدمت کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں اور سڈرہ کمیونٹی کی خوبصورتیوں اور بہاروں کو قربان کرکے وہاں کی تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں۔ تمام پرش حقیقتِ حال سے آگاہ ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں یہیں سے بھیجا جاتاہے ۔ اس لیے وہ ہمارے دوست ہیں۔ میرے اپنے دوستوں میں کئی پُرش شامل ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پُرش دونوں نسلوں کے لوگ ہوسکتے ہیں۔ یعنی ہیومین ورژن ون اور ہیومین ورژن ٹُو، دونوں میں سے پُرش سامنے آسکتے ہیں۔ کئی ہیومین ورژن وَن کے لوگ بھی جو پُرش ہیں میرے دوست ہیں۔ایک تمہارے مُلک اور تمہارے زمانہ کا شخص بھی پُرش ہے اور میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اس کا نام عبدالستار ہے۔

خیر! دوسرے نمبرپر خوش قسمت انسان وہ ہیں جنہیں عام طور پر ’’ہیومین ورژن وَن‘‘ کہا جاتاہے ۔ جنہیں ہمارے سائنسدان موت کے وقفے سے بیدار کردیتے ہیں اور خاص بات یہ کہ اُن کا پرسنٹیج ساٹھ سے زیادہ ہوتاہے۔ ہمارے اکیڈمیا میں انہیں ’’ہیومین ورژن وَن‘‘ نہیں لکھا جاتا بلکہ ’’بِنادم‘‘ لکھا جاتاہے۔ انہیں سڈرہ کمیونٹی کے اَسّی کے قریب، مختلف سیّاروں پر درجہ بدرجہ سیٹل کیا جاتاہے۔ چھتیس اور اسّی کتنے ہوگئے ؟‘‘

مائمل نے بات کرتے کرتے اچانک دانش سے سوال کردیا، دانش کے منہ سے بے اختیار نکلا،

’’ایک سو سولہ‘‘

مائمل مسکرائی اور دانش جھینب گیا۔ مائمل نے پھر کہنا شروع کیا،

’’یوں ایک سو سولہ(116) سیّارے صرف قدیم دور کے انسانوں کے لیے وقف ہیں۔ باقی ایک سوچھبیس (126)سیّاروں میں سے ایک سو اَٹھارہ (118) سیّارے سدرہ کمیونٹی کے مختلف دفاتر،کاموں اور منصوبوں کے لیے وقف ہیں۔ جیسا کہ پائرہ یا بعثان، یا یہی سیّارہ جبرالٹ وغیرہ۔ اور آخر میں بچ جاتے ہیں آٹھ سیّارے، جنہیں ہم لوگ ’’سُوریازون‘‘ کہتے ہیں۔ سُوریا زُون میں قدیم سیّارہ ’’زمین‘‘ سب سے افضل سمجھا جاتاہے۔ باقی مریخ، مشتری ، ٹائٹن وغیرہ اُن میں شامل ہیں۔ تو دوسرے نمبر پر جن انسانوں کو خوش قسمت سمجھا جاتاہے وہ بِنادم ہیں اورسڈرہ کمیونٹی کے اَسّی بڑے سیّاروں پر مقیم ہیں۔ لیکن بِنادم کی سب سے بڑی آبادی سیّارہ ’’شَرَبْری‘‘ پر آباد ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ کچھ بھی نہیں کرتے۔ کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ یہ بہت ہی بڑا سیّارہ ہے۔ میلوں تک باغات ہی باغات ہیں۔اس سیّارے پر دنیا کی ہرسہولت اور آسانی فراہم کی گئی ہے۔ بِنادم دوسرے نمبر پر خوش نصیب انسان ہیں۔

تیسرے نمبر پر جن انسانوں کو سب سے خوش نصیب سمجھا جاتاہے انہیں ہم ’’پارمش‘‘ کہتے ہیں۔ یہ لوگ ہیومین ورژن ٹُو ہیں۔ میں خود بھی ایک پارمش انسان ہوں۔ پارمش کے ذمہ پوری سڈرہ کمیونٹی کا انتظام و انصرام ہے۔ ہمارا کام ہے صرف اور صرف اَمن اور شانتی کے لیے صبح شام تگ و دور کرتے رہنا اور ہم اس کام میں بے پناہ خوش ہیں۔ پارمش تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔ ایک کھرب انسانوں کی ہماری کمیونٹی میں چالیس کروڑ سے زیادہ پارمش ہیں۔

چوتھے نمبر پر ’’مقسور‘‘ آتے ہیں۔ یہ نہ تو ’ہیومین ورژن وَن‘ ہیں اور نہ ہی ’ہیومین ورژن ٹُو‘ ہیں۔ یہ وہ بچے یا بچیاں ہیں جن کا ڈی این اے کبھی پہلے کہیں موجود ہی نہیں تھا۔ نہ سڈرہ سوسائٹی سے پہلے اور نہ ہی بعد میں ۔ ان بچیوں اور بچوں کے ڈی این اے کا پورا کوڈ ہماری یونیورسٹیوں کے سکالرز لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے مقسور آبادی کے بچوں اور بچیوں کی شکل وصورت کا کام مکمل ہوتاہے۔ یہ کام بھی ہماری یونیورسٹیوں کے طلبہ کرتے ہیں۔ان طلبہ کو ہم اپنی زبان میں ’’جونیئرز ‘‘ کہتے ہیں۔ جونیئرز کے بنائے تھری ڈی گرافکس کے انسانی خاکوں اور ڈیزائنوں کو کمپیوٹر پروگرامرز کے پاس بھیجا جاتاہے۔ کمپیوٹر پروگرامرز بھی ہمارے یونیورسٹی سطح کے سکالرز ہوتے ہیں۔ یہاں وہ اُس مقسور بچے یا بچی کے ایک ایک مسام کی پروگرامنگ کرتے اور ان کا ڈی این اے، خود سے لکھتے ہیں۔ عام طور پر یہ ہمارے سکالرز کے تھیسز اور مقالہ جات کے طور پر لکھے گئے ڈی این اے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نت نئے انداز کے ڈی این اے لکھے جاتے ہیں۔جب کوڈنگ کا کام پورا ہوجاتاہے تو مقالہ کیمسٹری کے شبعہ جات میں چلا جاتاہے اور ڈی این اے کے مطابق مالیکیولز تیار کیے جاتے ہیں۔ آخر میں بیالوجی کا شعبہ اِن ڈی این ایز کو کسی پروٹوپلازم کے ذریعے بطور انسان کے پیدا کردیتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی پہلے سے کوئی یاداشت نہیں ہوتی۔ ان میں سے بعض مقالہ جات کے تحت پیدا ہونے والے بچوں کو شیشے کی ٹیوبز میں ہی بڑا کیا جاتاہے، کیونکہ ایسا کرنا عموماً خودمقالہ کا حصہ ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جب آنکھ کھولتے ہیں تو اگرچہ عالم شباب میں ہوتے ہیں لیکن ان کا تجربہ اُسی دن آغازہوتاہے، یعنی آنکھ کھولنے کے دن ۔ اپنی پیدائش کے بعد سے ان کی انفرادی شناخت کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے اور پھر یہ بچے ایک دن ترقی کرتے کرتے ’پارمش‘ بن جاتے ہیں یا پارمشوں کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ یعنی سڈرہ کمیونٹی کا نظام چلانے والے خدمتگار۔

اور آخری یعنی پانچویں قسم کا تو آپ نے خود ہی اندازہ لگالیا ہوگا۔یعنی بَشر، یہ وہ لوگ ہیں جو درجہ بدرجہ جحمان (Jehman) کے چھتیس سیّاروں پر آباد کیے گئے ہیں۔ جس بشر کا وائیلنس لیول جتنا کم ہے وہ اُتنے کم تکلیف دہ جحمان سیّارے پر ہے۔ لیکن ایک بات سب میں مشترک ہے کہ وہ سڈرہ کمیونٹی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ نہ ہی انہیں یہ معلوم ہے کہ وہ جب مرجاتے ہیں تو ہم اُنہیں دوبارہ زندہ کردیتے ہیں۔ ہمارا اکیڈمیا اُن کو وائیلنس والے انسان نہیں کہتا بلکہ ہم اُنہیں بشرکہہ کر پکارتے ہیں۔

ایسے تمام سیّاروں کوجہاں وائیلنس والے انسانوں کو رکھا جاتاہے، ہماری زبان میں’’جحمان‘‘ (Jehman)کہا جاتاہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا سڈرہ کمیونٹی کے دوسوبیالیس سیّاروں میں چھتیس سیّارے ’’جحمان‘‘ زُون کا حصہ ہیں۔ جحمان میں صرف ان لوگوں کو سیٹل کیا جاتاہے جن کا پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوتاہے اور ہم انہیں بشر کہہ کر پکارتے ہیں۔ پرسنٹیج کے اور بھی درجات ہیں۔ ساٹھ سے کم۔ پچاس سے کم۔ چالیس سے کم۔ تیس سے کم۔ بیس سے کم۔ دس سے کم وغیرہ۔ اور اِسی لحاظ سے ’’جحمان ‘‘ کے چھتیس سیّاروں کے بھی درجات ہیں۔ مثلاً سیّارہ نمبر دوسوبیالیس جہاں ہمیں ابھی پوری سیٹلمنٹ تعمیر کرنی ہےاور جہاں نہ تو فضا میں آکسیجن ہے اور نہ ہی کوئی پانی۔ وہاں ہم ابھی پہاڑوں کے نیچے سے معدنیات نکال رہے ہیں۔ پھر سیّارے کی سطح پر موجود پرانے طرز کی فیکٹریوں میں ہم زندگی کے لیے ضروری اجزأ تیار کررہے ہیں۔ جیسا کہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور درختوں کے اگانے کا نظام اور تمام تر تعمیرات وغیرہ۔ لیکن سڈرہ کمیونٹی یہ کام ایک خودکار طریقے سے انجام دیتی ہے۔ سب سے کم پرسنٹیج والے لوگوں کو ایسے ہی سیّاروں پر بھیج دیا جاتاہے۔ جحمان کے کسی سیّارے پر لوگوں کو یہ علم نہیں کہ سڈرہ کوئی کمیونٹی ہے یا سڈرہ کمیونٹی کے سائنسدانوں نے موت پر قابو پالیاہے۔ چنانچہ وہاں موجود انسان کانوں سے معدنیات نکالتے ہیں۔ اُن کے منہ پر ماسک چڑھا اور کمر پر لوہے کا ایک بھاری بھرکم گیس سلنڈرجما ہوتاہے، جس میں آکسیجن ہوتی ہے۔وہاں ہم صرف اُن انسانوں کو رکھتے ہیں جن کی تربیت بہت طویل اور بہت مشکل ہوتی ہے۔ سیّارہ نمبر دو سوبیالیس، دوسواکتالیس، دوسوچالیس وغیرہ ابھی تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ وہاں پہاڑوں سے لوہا نکال کر پگھلایا جاتاہے۔وہاں لوہا پگھلانے کی فلک بوس بھٹیاں ہیں اور ہمہ وقت کام جاری رہتاہے۔ وہاں پہلے پرانے طرز کی بڑی بڑی مشینیریاں بنا ئی جاتی ہیں اور پھر اسی طرح بتدریج سیّارے کی تعمیر کا کام جاری رہتاہے۔اِن سیّاروں پر لوگ تکلیف میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ تکلیف ان کا ’’جبر‘‘ ہے۔ اُن کا جبر، اُن کے ’صبر‘ کا خالق بن جاتاہے۔ جب تک یہ لوگ وائیلنس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ، وہیں رہتے ہیں، جب یہ لوگ صبر یعنی ٹیمپرامنٹ کو قابُو کرنے کے ماہر ہوجاتے ہیں، انہیں جحمان کے سیّاروں سے نجات مل جاتی ہے۔ جحمان کے سیّاروں پر وہ مشکلات جھیلتے ہیں اورمرجاتے ہیں۔ وہ آپس میں لڑتے، جھگڑتے ہیں تو اُن کاصبر کا پیمانہ ہمارے سامنے آتاہے۔ ہم اُن میں سے ہر ایک بشر کا پورا پورا حساب رکھتے ہیں۔

سو یہ تھیں تمام انسانوں کی اقسام۔ اب آپ بتاؤ کہ آپ برترہو یا میں؟

اس سے پہلے کہ دانش ، مائمل کو کوئی جواب دیتا۔ مائمل نے ایک دم کہا،

’’صرف ایک منٹ! آئیسوان کوئی ضروری بات کرنا چاہتاہے‘‘

اتنا کہہ کر مائمل نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب وہ چشم تصور میں دیکھ رہی تھی۔آئیسوان جو سیّارہ بعثان پر تھا مائمل کو بتا نے لگا کہ،

’’ڈاکٹرہارون کا معاملہ سوائے ٹائم مشین کے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ بہرحال ایک آخری کوشش کے طور پر میں نے اُن کے دو طالب علموں کو جگادیا ہے۔ان کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی ساٹھ سے اُوپر پرسنٹیج کا نہیں تھا ۔ مجبوری تھی۔ یہ لڑکی ہے ماریہ اور لڑکا ہے شارق۔ یہ 2011 میں مارے گئے۔ دونوں ہی ڈاکٹر کے بہت قریب تھے‘‘۔

مائمل نے سنجیدگی سے آئیسوان کی بات سُنی اور پھر بات ختم کرنے کے انداز میں کہا،

’’بہت اچھا کیا۔ ڈاکٹر ہارون کا جگایا جانا بے حد ضروری ہے۔ اکیڈمیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ آخر’’اعمال‘‘ کی ریاضیاتی تھیوری پیش کرتے وقت ان کے ذہن میں کیا تھا۔ جب تک وہ بیدار نہیں ہوتے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ڈاکٹرہارون کی یاداشت ہی مل جاتی تو ہم پرسنٹیج کے نظام کو اور بہتر بناسکتے تھے۔ خیر! آئیسوان ! آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے‘‘

اتنا کہہ کر مائمل نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں بولی تھی، اسلیے اس کی بات، دانش نے نہ سنی تھی۔مائمل نے آنکھیں کھولتےہی کہا،

’’اچھا تو میں آپ کو بتارہی تھی کہ ……………….‘‘

اور پھر مائمل دانش کو سڈرہ کمیونٹی کے سیّاروں، انسانوں، نظام اور تحقیقات کے متعلق بتاتی چلی گئی۔

********
یہ سیّارہ ٔ زمین تھا۔ نیلے سمندر میں خشکی کے سبزوشاداب ٹکڑے کسی مصوّر کا شاہکار معلوم ہوتے تھے۔ زمین کے سفید برفیلے قطبین جن پرہزاروں پینگوئنز دوڑتے پھرتے تھے، دُور خلا سے یُوں دکھائی دیتے جیسے زمین کوئی پَری ہو اور قطبین اُس کے سفید پَر ۔زمین،سڈرہ کمیونٹی کے دوسوبیالیس سیّاروں میں سب سے پُرفضا مقام تھی۔ یہاں سب کچھ فطری تھا۔ زمین کے مدار میں دُور دُور تک کسی شٹل یا سیٹلائٹ کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ نہ ہی زمین پر اب کوئی سپیس ایلی ویٹر تھا۔ سب ہٹادیے گئے تھے۔
زمین کے ایک علاقہ ’’باختر‘‘ میں اِس وقت کئی لوگ جمع تھے۔ یہ ایک روشن دن تھا۔باختر برونز ایج میں ایک ملک ایران کا مشرقی حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں بہت زیادہ قدیم تہذیبوں کے آثار ابھی تک موجود تھے۔ اِن آثار میں، تختِ جمشید، کعبۂ زرتشت، مرقدِ کورش ، قصراباتانہ اور قصرتاچارا سرفہرست تھے۔اِن آثار کا علاقہ الگ کردیاگیا تھا۔ ہرطرف سبزہ اُگا دیا گیا تھا۔ ترشے ہوئے انواع واقسام کے پھل دار درختوں میں ڈھکے یہ آثارِ قدیمہ سڈرہ کمیونٹی کے طالب علموں کے تجسس کا سامان تھے۔ آثار سے قدرے فاصلے پر ایک بہت بڑا، میلوں تک پھیلا ہوا باغ تھا۔آج اِسی باغ میں بہت سے لوگ جمع تھے۔

یہ لوگ زرتشت سے ملنے آئے تھے۔ زرتشت آج سے پینتالیس (4500) سو سال پہلے اِسی علاقے میں ہوگزرا تھا۔ ساتھ موجود آثارِ قدیمہ اِسی زرتشت کی یادگاریں تھیں۔ جس جگہ کا نام کعبۂ زرتشت تھا، یہاں زرتشت اپنے دور میں عبادت کیا کرتاتھا۔آج سے ساڑھے چار ہزار سال پہلے زرتشت کو ماننے والے اسی کعبہ میں آگ کی پوجا کیا کرتےتھے۔دوسرے آثار میں، تختِ جمشید تھا۔ یہ ایک قدیم دور کے ایک ایرانی بادشاہ کا تخت تھا۔ پاس ہی مرقدِ کورش تھا۔ یہ ایک قبر تھی۔ اگرچہ کورش کا جسم آج پینتالیس سوسال بعد بھی اسی قبر میں دفن تھا لیکن آج سے دوسوسال پہلے کورش کا ڈی این اے نکال کر اُسے دوبارہ پیدا کردیا گیا تھا۔

آج کی تقریب میں اپنے زمانے سے صرف زرتشت ہی نہیں تھا بلکہ کورش بھی موجود تھا۔کورش کو تاریخ میں سائرس کے نام سے بھی یاد کیا جاتاتھا اور سلطان سکندر ذوالقرنین کے نام سے بھی۔ زمین کی اس تقریب میں زیادہ تر تعداد بِنادم کی ہی تھی۔ البتہ خدّام میں کچھ پارمش اور کچھ مقسور بھی دکھائی دے رہے تھے۔اِس وقت بہت سے لوگ زرتشت کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ یہ سب قدیم دور کے انسان تھے۔ زمین کی مختلف صدیوں میں سے اُٹھائے گئے مختلف ادوار کے انسان۔ آج یہاں زمین کے ہر علاقے سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ باغ میں ہرطرف اُجلی اور زرق برق پوشاکوں میں ملبوس پرانے زمانے کے انسان نئی زندگیوں کے ساتھ موجود تھے۔ زرتشت ایک نوجوان آدمی تھا۔ ایک ایسا نوجوان جس کی آنکھوں میں بلا کا تدبر اور لہجے میں بے پناہ نفاست تھی۔ زرتشت اپنے گرد گھیرا ڈالے لوگوں سے مخاطب تھا۔ وہ کہہ رہا تھا،

آج کی تقریب میں نے اپنے دو خاص مہمانوں کے اعزاز میں منعقد کی ہے۔آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ گزشتہ دنوں سڈرہ کمیونٹی نے دو مغنّیاؤں کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ زمین پر بھیجا۔آج کی اِس تقریب کی مہمانانِ خصوصی یہی دونوں عظیم مغنیائیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن دونوں مغنیاؤں کا تعلق ، ہِند کے ایک علاقہ ’’پاکستان‘‘ سے ہے۔اس محفل میں ملک پاکستان کی چند اور ہستیاں بھی بطور خاص مدعو کی گئی ہیں۔آپ احباب جانتے ہیں کہ جب بھی ہمارا کوئی پرانا زمینی ساتھی واپس زمین پرآتاہے تو ہم ان کے اعزاز میں مختلف تقریبات منقعد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایسی ہی ایک تقریب ہے‘‘

زرتشت کی بات ختم ہوئی توکسی کی آواز آئی،

’’اُن مغنیاؤں کے نام بھی بتادیجے آقا! ہم بھی اپنے دور میں پاکستان کے شہری تھے اور ہم میں سے ابھی تک بعض لوگوں کو اُن عظیم ہستیوں کا نام معلوم نہیں‘‘

زرتشت کے چہرے پر شوخ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے جواب دیا،

’’کوئی بات نہیں۔ آج شام کو آپ ان سے ملنے والے ہیں۔ خود ہی دیکھ کر پہچانیے گا اور ہمیں بھی تعارف کروائیے گا‘‘

سب لوگ ہنسنے لگے۔

اب بڑے باغ کے ساتھ ملحق آثارقدیمہ والے علاقہ میں بھی ہلچل شروع ہوگئی۔ خدّام زمین پر قالین بچھارہے تھے۔ رنگارنگ کے اُونچے اور گھنے پیڑوں پر پھدکتے پرندے بھی گویا آج کی تقریب میں شامل تھے۔ جونہی خدّام نے قالین بچھایا، رنگین کبوتروں کی ایک ڈار قالین پرآکراٹھکیلیاں کرنے لگ گئی۔ تختِ جمشید پر بھی نہایت عمدہ قالین بچھا دیا گیا تھا۔جوں جوں شام نزدیک آتی جارہی تھی لوگ تختِ جمشید کے سامنے جمع ہوتے جارہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں شہد سے کشید کی گئی عمدہ شراب کا جام تھا تو کسی کے ہاتھ میں شیریں اور لذیذ مشروب کا۔ یہاں تک کہ سُورج غروب ہونے کو آگیا۔ باغ اور تختِ جمشید کے درمیان ، انسانی ہتھیلی سے مشابہہ شفاف پانی کی ایک جھیل تھی۔غروب ہوتا ہوا سُورج جھیل میں جھلملا رہا تھا۔ بہت سی سُرمئی پشت والی مرغابیان پانی کی سطح پر اُچھلتی پھر رہی تھیں۔ سُورج جب دُور میدانوں میں اُترنے لگا تو سُورج کا رنگ کسی یاقوت کی طرح لال ہوگیا۔ جھیل کی سطح پر کچھ دیر کے لیے لال رنگ یوں چمکتا رہا جیسے شیشے کے گلاس میں سُرخ رنگ کی شراب ۔ جھیل کا پانی ہوا کے جھونکوں سے تھرتھراتا تو جھیل کا یاقوت بھی تھرتھرانے لگتا۔

جھیل کے کنارے کالے راج ہنسوں کے کئی جوڑے اپنی لمبی چونچوں سے اپنی پشتیں کھجا رہے تھے۔ کسی کسی وقت کوئی مچھلی پانی میں اچھلتی تو اس کا رنگ بھی لال دکھائی پڑتا۔ جھیل کا یاقوتی منظر دیکھنے کے لیے کچھ لوگ وہیں رُک گئے۔ جونہی سورج غروب ہوا باغ کی طرف سے ایک خاص قسم کی تازہ ہواچلنے لگی۔ ہوا میں جانے کیا گھُلا تھا کہ ہر جھونکے کے ساتھ تازگی اور توانائی کا احساس بڑھاتی چلی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں درختوں کی شاخوں سے ہلکی سی موسیقی کی آواز برآمد ہونے لگی۔ جوں جوں سُورج جھُکتا چلا جارہا تھا، پیڑ خود بخود روشن ہوتے چلے جارہے تھے۔ کوئی بلب، کوئی قممہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا لیکن پھر بھی روشنی تھی کہ گہری شام کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ سُورج ڈوب گیا اور پورا باغ روشن ہوگیا۔ موسیقی کی آواز ابھی تک اُبھر رہی تھی۔ اب جھیل کے کنارے کھڑے لوگ ایک ایک کرکے تختِ جمشید کے سامنے جمع ہونے لگے۔ البتہ ابھی بھی دو لوگ جھیل کے کنارے کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ یہ دونوں کون تھے؟

دونوں باپ بیٹے کی زمین پر یہ پہلی ملاقات تھی۔ یہ رستم اور سحراب تھے۔ رستم اور سحراب،ایران میں، زرتشت کے زمانہ سے بھی پہلے ہوگزرے تھے۔ دونوں باپ بیٹا خاصے جذباتی تھےکیونکہ آج وہ ہزاروں سال بعد دوبارہ مل رہے تھے۔ سحراب باربار جذباتی ہوکررستم کو گلے سے لگالیتا اور دونوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتیں۔ قدیم ایرانی تاریخ حماسۂ ملی کے مطابق اِن دونوں باپ بیٹے کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا پڑاتھا۔ رستم اور سحراب ، دونوں اپنے وقت کے مایہ ناز پہلوان تھے۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں باپ بیٹا دو مخالف فوجوں کی طرف سے آمنے سامنے آگئےتھے۔اور دونوں کے درمیان مبارزت ہوئی تھی۔معاً سحراب نے کہا،

’’بیٹا! تم نے جب مجھے گِرا لیا تھا تو میرا دوبارہ اُٹھنے کو دِل ہی نہ کیا۔ تم جب چار سال کے بچے ہوا کرتے تھے اور میرے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے، مجھے اُس وقت، وہی سماں یاد آگیا تھا۔ میں نے اُٹھنا چاہا بھی تو نہ اُٹھ سکا۔ میری آنکھوں کے سامنے سے تمہارے بچپن کے مناظر ہٹ ہی نہیں رہے تھے‘‘

یہ بات کہتے ہوئے سحراب گلوگیر ہوگیاتھا۔ رستم نے بھی ایک سسکی لی اور پھر لمبی سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر تک دونوں باپ بیٹا خاموش رہے پھر رستم نے کہا،

’’بابا! چلیے! تختِ جمشید کی طرف چلیے! تھوڑی دیر میں تقریب شروع ہونے والی ہے‘‘

اور وہ دونوں جھیل کے کنارے سے تختِ جمشید کی طرف چل پڑے۔آج اپنے وقت کے ایک ملک پاکستان کی دو مغنیاؤں کے فن کا مظاہرہ دیکھنے کا دن تھا۔ سب لوگ بے تاب تھے اور مغنیاؤں کے نمودار ہونے سے کافی پہلے ہی تختِ جمشید کے سامنے بچھا قالین لوگوں سے بھر گیا۔ قالین پر بے شمار تکیے لگا دیے گئے تھے ۔ لوگ تکیوں کے ساتھ کہنیاں ٹکا کر بیٹھ گئے اور ٹولی در ٹولی باتیں کرنے لگے۔

……………………..

Qist 6………