انسان کے ہاتھوں برپا ہونے والا ارتقأ، جہانِ حیرت

اس بات میں اب شک کی کچھ بھی گنجائش نہیں رہی کہ انسان نے ارتقأ کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ابھی سیلیکٹو بریڈنگ کی حیرانیاں کم نہ ہوئی تھیں کہ ٹرانس جینک ریسرچ نے حیاتیات کی دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا۔ ٹرانس جینک ریسرچ نہایت سستی، آسان اور تیزی سے نتائج دینے والی ریسرچ ہے۔ اس لیے یہ گمان کیا جارہاہے کہ آنے والے دوتین عشروں میں ٹرانس جینک ریسرچ کے میدان میں انسان اتنی زیادہ ترقی کرجائے گا کہ شاید ہی سائنس کی کوئی اور شاخ اس ترقی کا مقابلہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک ، مذاہب، اقوام اور عوام نے ٹرانس ہیومنزسوسائٹیز بنا کرابھی سے آنے والے تبدیل شدہ انسان کے استقبال کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ دراصل جب سے ڈی این اے کی کوڈنگ کو پڑھا جاسکنا ممکن ہوا ہے، حیاتیات کی دنیا میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب بجا طور پر کہا جاسکتاہے کہ ارتقأ کا وہ عمل جو ہزاروں سال قدرت کے ہاتھوں میں تھا اب انسانوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ٹرانس جینک ریسرچ کیا ہے؟ یا ٹرانس ہیومنزم کیا ہے ؟ ان موضوعات پر میں پہلے ہی نہایت تفصیلی مضامین لکھ چکاہوں۔ مندرجہ ذیل سطور میں ، میں ٹرانس جینک ریسرچ کی فقط دوتین مثالیں پیش کرنا چاہتاہوں۔

سبزی جیسی غذائیت کا حامل گوشت

’’پاپائے سُور‘‘ (Popeye Pig) ایک اور ٹرانس جینک جانور ہے۔یہ ایسا عجیب و غریب ٹرانس جینک تجربہ ہے جس کی توقع ناممکن کے قریب تھی۔ یعنی ایک پودے اور ایک جانور کو آپس میں ملاکرایک تیسرا جاندار پیدا کرنا۔ ہم جانتے ہیں کہ جانداروں کی اکائی ایک سیل (خلیہ) ہے۔ زندگی اپنی گہری بنیادوں میں سیل کی صورت مکمل طور پر ’’وحدہُ لاشریک‘‘ ہے۔پودوں کا سیل ہو یا جانوروں کا دونوں ہی بنیادی طور پر فقط جینٹک کوڈنگز ہیں۔پاپائے سور ایک ایسا جاندار ہے جو ویسے تو ایک سور(پورک) ہے لیکن اسے پالک کے پودے کے ساتھ ملاپ کے بعد پیدا کیا گیا ہے۔سُور کے انڈے میں پالک کے جینز داخل کرکے پیدا کیا گیا یہ جانور ایک مکمل طور پر صحت مند جاندار ہے جسے کسی قسم کی کوئی جسمانی بیماری یا مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ دنیا کا پہلا جینٹکلی انجنئرڈ ممالیہ جانور ہے جس میں ایک پودے کے ڈی این اے کی پیوند کاری کی گئی ہے۔یہ سُور بنیادی طور پر کم سے کم چکنائی(Fats) والے گوشت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ’’پاپائے سُور‘‘ کو بیک وقت،سبزی خوروں کو گوشت اور گوشت خوروں کو سبزی کی غذائیت فراہم کرنے کے لیے کامیابی کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔جن جاپانی سائنسدانوں نے پاپائے سُور کو پیدا کیا ہے ان کا کہناہے کہ، ’’وہ لوگ جو چربی کی وجہ سے گوشت نہیں کھاتے تھے اب فکرمند ہونا چھوڑ دیں‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی دوسرے جانوروں کو بھی اِس طریقہ پر پیدا کیا جانا شروع کردیا جائے گا۔
طریقہ فقط یہ ہے کہ پالک کے جینز لے کرمادہ سوُر کے جفتی خلیے(یعنی انڈے) میں داخل کردیے جاتے ہیں اور پھر وہ خلیہ ایک مادہ (surrogate)کے رحم میں رکھ کر بارآور کروالیا جاتاہے۔

کِنکی یونیورسٹی (Kinki University) جاپان میں جینٹک انجنئرنگ کے پروفیسرڈاکٹراَکیرا اِریٹنی(Dr. Akira Iritani) کے بقول،

’’کسی ممالیہ جانور اور پودے کے ملاپ کا ، یہ دنیا کا پہلاکامیاب تجربہ ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاپائے سُور مکمل طور پر ایک صحت مند جانور ہے‘‘
ڈاکٹر اَکیرا نے مزید کہا کہ،

’’اِن سُوروں سے حاصل ہونے والا گوشت عام سُوروں کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ صحت بخش ہے۔ اگرچہ ایسا کہنا تو قبل ازوقت ہوگا کہ ان کا گوشت دراصل پالک جتنی ہی غذائیت کا حامل ہے۔یہ وہی پالک ہے جو پاپائے کارٹون کھاتا تھا اور اُس میں اچانک بے پناہ طاقت آجاتی تھی‘‘

اس پیداوار کے خلاف کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ ڈاکنٹر ’’وکی رابن سن‘‘ جو رائل سوسائٹی فار دہ پری وینشن آف کُرولٹی ٹُو اینملز‘‘ کے ایک سائنسدان ہیں، نے کہا کہ،
’’اگر لوگ اپنی غذاؤں میں سبزیوں سے فائدہ اُٹھانا چاہتےہیں تو انہیں فقط سبزیاں کھانی چاہییں۔اس ریسرچ کی رپورٹ سے ہم لوگ بے پناہ پریشان ہوگئے ہیں۔یہ مکمل طو ر پر شرمناک عمل ہےاورہم اِن تجربات کے وجود پر سوال اُٹھاتے ہیں‘‘

تیز رفتار اور خودکارعلاج کا قوی امکان

جہاں ٹرانس جینک ریسرچ سے بعض خوفناک ایجادات متوقع ہیں وہیں کچھ نہایت خوشکن کام بھی ہونے جارہے ہیں۔ مثلاً ایک چھوٹی سی پانی کی چھپکلی ہےجسے عام لوگوں کی زبان میں ’’میکسیکن سیلمنڈر‘‘(Mexican Salamander) کہاجاتاہے۔لوگ اِسے گھریلو ایکویریم میں عام مچھلیوں کی طرح پالتےہیں۔ بیالوجی کے ماہرین اِس چھپکلی کو ’’کنگ آف دہ ری جنریشن‘‘ کالقب دیتےہیں۔ یعنی کرۂ ارض پر پائے جانے والے تمام جانداروں میں یہ واحد ایسا جاندار ہے جو بہت ہی مختصر وقت میں اپنی مرمت آپ کرلیتاہے۔ ان چھپکلیوں کو قدرت نے اپنا علاج کرنے کی بے پناہ صلاحیت عطاکی ہے۔ اگر ایک میکسیکن سیلمنڈر کسی حادثے میں آدھی کٹ جائے تو مہینے کے اندر اندر اپنا وجود دوبارہ پیدا کرلیتی ہے۔اس کی ریڑھ کی ہڈی اور کٹی ہوئی ٹانگیں تک ایک مہینے کے اندر اندر دوبارہ اُگ آتی ہیں۔اور تو اور اگر ان کے دماغ کا کچھ حصہ کسی حادثے میں ضائع ہوجائے تو حیرت انگیز طور پر دماغ بھی چند دنوں میں دوبارہ پیدا ہوجاتاہے۔سائنسدان دن رات اِس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح میکسیکن سیلمنڈر سے ایسی ٹرانس جینک ادویات دریافت کرلی جائیں جو انسانوں میں داخل کی جائیں تو وہ بھی اپنے آپ کو اِسی رفتار کے ساتھ خود ہی مرمت کرلیا کریں۔

اِسی طرح ’’شفابخش اونٹنیوں‘‘ کی پیداوار کا کام ہے۔سائنسدان ٹرانس جینک تجربات کے بعد ایسی اونٹنیاں پیدا کرنے والے ہیں جن کا دُودھ انسانوں کے لیے دوائی کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔ان اُونٹنیوں کو کیوریٹوکیملز کا نام دیا گیاہے۔یہ اونٹنیاں فارماسیوٹیکل پروٹینز والا دودھ دیں گی جس کا استعمال باقاعدہ دوائی کے طور پر کیا جاسکے گا۔ان ادویات میں انسولین اور اینٹی کلاٹنگ ایجنٹس(Anti-Clotting Agents) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔یہ دودھ سستا ہونے کی وجہ سے مہنگی ادویات کے دور کا مکمل طور پر خاتمہ کردیگا۔

روشنی خارج کرنے والے جانوروں کی پیداوار

’’بائیولُومِی نَے سینس‘‘ (Bioluminescence) قدرت کا نہایت حیرت انگیز کرشمہ ہے۔’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا اردو ترجمہ غالباً ’’حیاتیاتی نُورانیت‘‘ بنتاہےجو ایک عجیب و غریب اصطلاح ہوگی چنانچہ ہم ’’حیاتیاتی نُورانیت‘‘ کی بجائے’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا لفظ ہی استعمال کرینگے۔ہم بعض جانداروں کو روشنی خارج کرتاہوا دیکھتے ہیں۔مثلاً ہم جانتے ہیں کہ جیلی فِش سے روشنی پھوٹتی ہے۔ جگنو رات کی تاریکی میں جگمگاتا ہے۔کئی قسم کی کھمبیاں روشنی خارج کرتی ہیں۔ سمندر میں بے شمار ایسے چھوٹے چھوٹے جاندارا پائے جاتے ہیں جو نُور خارج کرتے یا نُور کا ہالہ بناتے ہیں۔ایسے تمام جانداروں کو ’’بائیولُومی نَے سینٹ‘‘ کہا جاتاہے۔چنانچہ ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ وہ عمل ہے، جس کی بنا پر جاندار روشنی خارج کرتے ہیں۔یہ جاندار نیلی یا سبز روشنی کی شعاعیں خارج کرتے جو کسی ہالے کی شکل میں پھوٹتی اور بکھرتی ہیں۔ یہ عمل اس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے کہ ایسے جاندار پہلے یکلخت کیلشیم کی کچھ مقدار خارج کرتے ہیں جو فوری طور پر ایک خاص قسم کی پروٹین ’’اِیکورِن‘‘ (Aequorin) سے کیمیائی تعامل کرتی ہے۔اس عمل کے نتیجے میں نیلی روشنی پیدا ہوتی ہے۔یہ نیلے روشنی بعد میں سبز روشنی میں بدل جاتی ہے۔ تب اِسے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘(GFP) کہا جاتاہے۔1961 میں نوبل پرائز ہولڈر، جاپانی سائنسدان ’’اوسامُو شِمومُورا‘‘(Osamu Shimomura) اور اُن کے ساتھیوں نے جیلی فش اور جیلی فش جیسی دیگر انواع سے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ الگ کرکے بیالوجی کی دنیا میں ایک روشن باب کا اضافہ کیا۔ جلد ہی ’’اوسامُو‘‘ اور ان کے ساتھیوں نے یہ بھی جان لیا کہ دوسرے جانداروں میں بھی مصنوعی طریقے سے، یعنی ڈی این اے میں تبدیلی کرکے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ پیدا کی جاسکتی ہے اور دوسرے جانداروں کو بھی روشنی خارج کرنے والا بنایا جاسکتاہے۔

بعدازاں ایڈز (Aids) کا علاج دریافت کرنے میں مشغول سائنسدانوں نے بعض خاص مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ کا استعمال شروع کیا۔اور یوں کسی سیل یا اس کے کسی انفرادی جینز کا مشاہدہ کرنےکے لیے گرین فلوراسینٹ پروٹین کا استعمال عام ہوگیا۔شروع شروع میں ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ ٹیگز (Tags) کااستعمال یک خلوی جانداروں میں شروع کیا گیا۔ یہ گویا سیل کے اندر مختلف اجزأ کو نشان زدہ کرنے کے لیے روشنی کا استعمال کیا جارہا تھا۔ ایک طرح سے سیل جیسی باریک شئے کے اندر کی تاریکیوں کو ختم کرنے کے لیے جاندار ٹارچوں سے مدد لی گئی جو سیل کے اندر موجود باریک سے باریک اجزأ کو بھی اب روشن کرکے دکھارہی تھیں۔
ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا استعمال بھی ترقی کرتا چلا گیا اور فی زمانہ سائنسدانوں نے ایسی بلّیاں پیدا کرلی ہیں جو رات کی تاریکی میں روشن ہوجاتی ہیں۔اوراب سائنسدانوں نے نہ صرف روشن ہونے والی بلّیاں بلکہ گرین فلوراسینٹ پروٹین کے ذریعے روشنی خارج کرنے والے کُتے، چوہے اور سُور بھی پیدا کرلیے ہیں۔

ادریس آزاد

اندھیرے میں رستہ روشن کرنے والی بلّیاں

’’بائیولُومِی نَے سینس‘‘ (Bioluminescence) قدرت کا نہایت حیرت انگیز کرشمہ ہے۔’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا اردو ترجمہ غالباً ’’حیاتیاتی نُورانیت‘‘ بنتاہےجو ایک عجیب و غریب اصطلاح ہوگی چنانچہ ہم ’’حیاتیاتی نُورانیت‘‘ کی بجائے’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا لفظ ہی استعمال کرینگے۔ہم بعض جانداروں کو روشنی خارج کرتاہوا دیکھتے ہیں۔مثلاً ہم جانتے ہیں کہ جیلی فِش سے روشنی پھوٹتی ہے۔ جگنو رات کی تاریکی میں جگمگاتا ہے۔کئی قسم کی کھمبیاں روشنی خارج کرتی ہیں۔ سمندر میں بے شمار ایسے چھوٹے چھوٹے جاندارا پائے جاتے ہیں جو نُور خارج کرتے یا نُور کا ہالہ بناتے ہیں۔ایسے تمام جانداروں کو ’’بائیولُومی نَے سینٹ‘‘ کہا جاتاہے۔چنانچہ ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ وہ عمل ہے، جس کی بنا پر جاندار روشنی خارج کرتے ہیں۔یہ جاندار نیلی یا سبز روشنی کی شعاعیں خارج کرتے جو کسی ہالے کی شکل میں پھوٹتی اور بکھرتی ہیں۔ یہ عمل اس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے کہ ایسے جاندار پہلے یکلخت کیلشیم کی کچھ مقدار خارج کرتے ہیں جو فوری طور پر ایک خاص قسم کی پروٹین ’’اِیکورِن‘‘ (Aequorin) سے کیمیائی تعامل کرتی ہے۔اس عمل کے نتیجے میں نیلی روشنی پیدا ہوتی ہے۔یہ نیلے روشنی بعد میں سبز روشنی میں بدل جاتی ہے۔ تب اِسے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘(GFP) کہا جاتاہے۔1961 میں نوبل پرائز ہولڈر، جاپانی سائنسدان ’’اوسامُو شِمومُورا‘‘(Osamu Shimomura) اور اُن کے ساتھیوں نے جیلی فش اور جیلی فش جیسی دیگر انواع سے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ الگ کرکے بیالوجی کی دنیا میں ایک روشن باب کا اضافہ کیا۔ جلد ہی ’’اوسامُو‘‘ اور ان کے ساتھیوں نے یہ بھی جان لیا کہ دوسرے جانداروں میں بھی مصنوعی طریقے سے، یعنی ڈی این اے میں تبدیلی کرکے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ پیدا کی جاسکتی ہے اور دوسرے جانداروں کو بھی روشنی خارج کرنے والا بنایا جاسکتاہے۔

بعدازاں ایڈز (Aids) کا علاج دریافت کرنے میں مشغول سائنسدانوں نے بعض خاص مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے ’’گرین فلوراسینٹ پروٹین‘‘ کا استعمال شروع کیا۔اور یوں کسی سیل یا اس کے کسی انفرادی جینز کا مشاہدہ کرنےکے لیے گرین فلوراسینٹ پروٹین کا استعمال عام ہوگیا۔شروع شروع میں ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ ٹیگز (Tags) کااستعمال یک خلوی جانداروں میں کیا گیا۔ یہ گویا سیل کے اندر مختلف اجزأ کو نشان زدہ کرنے کے لیے روشنی کا استعمال کیا جارہا تھا۔ ایک طرح سے سیل جیسی باریک شئے کے اندر کی تاریکیوں کو ختم کرنے کے لیے جاندار ٹارچوں سے مدد لی گئی جو سیل کے اندر موجود باریک سے باریک اجزأ کو بھی اب روشن کرکے دکھارہی تھیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ’’بائیولُومی نَے سینس‘‘ کا استعمال بھی ترقی کرتا چلا گیا اور سائنسدانوں نے ایسی بلّیاں پیدا کرلیں جو رات کی تاریکی میں روشن ہوجاتی ہیں۔ نہ صرف روشن ہونے والی بلّیاں بلکہ گرین فلوراسینٹ پروٹین کے ذریعے روشنی خارج کرنے والے کُتے، چوہے اور سُور بھی پیدا کرلیے گئے ہیں۔

غرض بائیولُومی نیسنس کے استعمال سے اب ایسے پالتو جانور پیدا کیے جاسکتے ہیں جو رات کو اپنے مالک کے آگے آگے چلیں اور اس کے لیے راستہ روشن کریں۔ ٹرانس جینک ریسرچ طوفانی رفتار سے جاری و ساری ہے اور سالوں، مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں قیامت خیز قسم کی جاندار ایجادات سامنے آرہی ہیں۔

ادریس آزاد

انگارے

تعلق تلخ ہو تو بھولنا آسان ہوتاہے
وہ پھولوں سا ملائم پیار
جو دل گدگداتا تھا
وہ کیسا تتلیوں جیسا تعلق تھا؟
کہ جیسے عکس کا شیشے سے
اور شیشے کا سورج کی شعاعوں سے
شعاع ِ مہر کا برگ و ثمر سے
اور ثمر کا مئے سے رشتہ ہے

کچھ ایسا ہی تعلق تھا
ہمارے درمیاں
وہم و گماں آتے تو تھے
موہوم ہوتے تھے
پھر اس کے بعد وہ موہوم سائے
سرسرائے
جس طرح کھیتوں کی سُوکھی گھاس میں
سانپوں کے بچے سرسراتے ہیں
وہ بچے پل چکےہیں
اور ان کے پھن نکل آئے ہیں
وہ پھنکارتے ہیں اب

تعلق وہ جو سورج کی طرح
پرجوش ہوتا تھا
وہ انگارے نہیں تھے آگ تھی
اس میں کسی آتش کدے جیسا تقدس تھا
یہ تخمینوں کی زد میں
ظن کی سُوکھی کوکھ میں رکھے
یہ انگارے
یہ انگارے سلگتے ہیں
اور ان پہ اشک گرجائیں
تو تیزابی دھواں اُٹھتاہے
اور تکلیف ہوتی ہے

ادریس آزاد

پوسٹ ماڈرنزم، ایک متبادل مہابیانیہ

سارے کا سارا پوسٹ ماڈرنزم، مذہبی اخلاق اور مارکسزم کے خلاف سامراج کا متبادل بیانیہ ہے بایں ہمہ عہدِ عاضر کے ادیبوں، دانشوروں اور ماہرین ِ جدلیات کے منہ میں دھرا ہوا ہے۔ جب آئن سٹائن جو یہودی تھا امریکہ میں مستقل پناہ حاصل کرلیتاہے تو اپنے وقت کی جدید فزکس بھی نازی فاشزم کے خلاف دلائل دینے سے باز نہیں آتی۔ آئن سٹائن نے جب فزکس کا یہ قانون معلوم کرلیا کہ

’’کائنات میں کوئی شئے مطلق نہیں اور ہر شئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے‘‘

تو اُس نے اس سے اگلا نتیجہ یوں اخذکیا،

’’چونکہ کائنات میں کوئی شئے مطلق نہیں اور ہرشئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے چنانچہ کائنات میں کوئی شئے اہم نہیں۔ نہ کوئی فرد، نہ کوئی قوم اور نہ ہی کوئی ملک‘‘

بنظرغائر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ آئن سٹائن کو خود تسلیم نہیں تھا۔ بطورنسل پرست یہودی وہ خود بھی تو ایک طرح سے فاشسٹ ہی تھا۔ لیکن اِس کے باوجود نازی ہٹلر کو نیچا دکھانے کی اُس کی شدید آرزُو ایسے نتائج کی طرف اُس کی رہنمائی کررہی تھی۔ حالانکہ فزکس کا قانون سادہ تھا اور اس سے دو بیانات اخذ ہوتے ہیں۔ گویا فزکس کی یہ آیت متشابہہ آیت تھی اور اس کے ایک سے زیادہ یعنی دو معنی نکل رہے تھے۔ مثلاً دوسرا معنیٰ یہ بھی تو ہوسکتا تھا،

’’چونکہ کائنات کی کوئی شئے مطلق نہیں اور ہر شئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے اس لیے کائنات کی ہرشئے اہم ہے۔ کسی ایک ذرّے کا بھی جو اپنا ذاتی زمان و مکاں ہے وہ کسی دوسرے ذرّے کا نہیں ہے فلہذا ہر فرد، ہر قوم اور ہر ملک نہایت اہم ہے‘‘

لیکن اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ہم ایک نظر یہ دیکھ لیں کہ متبادل بیانیہ کیا ہے؟ مثلاً گریوٹی یعنی کششِ ثقل ایک مظہرِ قدرت ہے۔ ہم بغیر سائنس پڑھے جانتے ہیں کہ چیزیں زمین پر گِرتی ہیں۔ نیوٹن نے اس مظہرِ قدرت کو ٹھیک ٹھیک ریاضی کے ذریعے متعدد طریقوں سے دیکھا، پرکھا، جانچا ، بے شمار اُصول وضع کیے، کئی قوانین دریافت کیے اور جدید میکانیات کی بنیاد رکھی جو آج تک قائم دائم ہے۔ نیوٹن کے تمام قوانین اور کشش ثقل آج تک آپس میں انہی اُصولوں کے پابند ہیں جو فطرت میں موجود تھے اور نیوٹن نے دریافت کرکے اپنی قوتِ بیان کے ذریعے انسانوں کو بتائے۔ نیوٹن نے جو کچھ بتایا تھا وہ نیوٹن کا بیان تھا۔ اُسی گریوٹی کو جب آئن سٹائن بیان کرتاہے تو قوانین سب وہی کے وہی رہتے ہیں، سائنس تمام کی تمام وہی رہتی ہے جبکہ کششِ ثقل سے متعلق بیان بالکل بدل جاتاہے۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آئن سٹائن کی سپسٹائم فیبرک سے پتہ چلا کہ آسمان چیزوں کو نیچے کی طرف دھکیلتاہے۔ قوانین وہی رہے بیان بدل گیا۔ آئن سٹائن نے گویا کششِ ثقل کا متبادل بیانیہ پیش کیا نہ کہ کوئی نیا بیان۔

جب حقیقت وہی رہے اور بیان بدل جائے تو اس سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ دیکھاجائے تو بظاہر کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ مثلا اُوپر دی گئی دونوں مثالوں کو نمبروار دیکھیں، آپ کو کوئی خاص فرق نظر نہیں آئےگا،

مثال نمبر۱ کی صورت نمبر ایک،

’’چونکہ کائنات میں کوئی شئے مطلق نہیں اور ہرشئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے چنانچہ کائنات میں کوئی شئے اہم نہیں۔ نہ کوئی فرد، نہ کوئی قوم اور نہ ہی کوئی ملک‘‘

مثال نمبر۱ کی صورت نمبردو،

’’چونکہ کائنات کی کوئی شئے مطلق نہیں اور ہر شئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے اس لیے کائنات کی ہرشئے اہم ہے۔ کسی ایک ذرّے کا بھی جو اپنا ذاتی زمان و مکاں ہے وہ کسی دوسرے ذرّے کا نہیں ہے فلہذا ہر فرد، ہر قوم اور ہر ملک نہایت اہم ہے‘‘

مثال نمبر۲ کی صورت نمبر۱

’’زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے‘‘

مثال نمبر۲ کی صورت نمبر۲
’’آسمان چیزوں کو نیچے کی طرف دکھیلتاہے‘‘

ان مثالوں میں صاف نظر آرہاہے کہ یہ دراصل کان کو الٹے ہاتھ سے پکڑنے والی بات ہے۔ یعنی بات الٹا کرکےکی جائے تو اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اب انہی مثالوں کے اثرات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں۔

پہلی مثال میں آئن سٹائن نے جب فرد بایں ہمہ قوم کی اہمیت کو ختم کردیا تو یکایک پوری دنیائے علوم پر مایوسی کی ایک لہر چھا گئی۔ کچھ بھی تو اہم نہیں ہے۔ انسان نہ اس کی زندگی۔ قوم کے لیے جان دینا بھی اہم نہیں۔ کسی بڑے مقصد کا روگ پالنا بھی اہم نہیں۔ کچھ بھی اہم نہیں۔ یہ ایک مایوس اندازِ نگاہ ہے۔ اس کے برعکس متبادل بیانیے میں جو فی الاصل علامہ اقبال نے تشکیل میں اختیار کیا، ایک اُمید ہے۔ چونکہ ہرشئے اہم ہے سو ہر قوم اہم ہے اور ہر قوم اہم ہے تو ہر ملک اہم ہے۔ یہ ایک جیتی جاگتی دنیا کی طرف لے جانے والا اندازِ نگاہ ہے۔ اول الذکر نتیجہ فرد کو تنہا، مایوس اور اداس کردینے والا اور ثانی الذکر نتیجہ فرد کو اجتماع کی لڑی میں پرو دینے والا بیانیہ ہے۔ اب اگر ہم گزشتہ صدی کی تاریخ پر نظر کریں تو ہم نے دیکھا کہ آئن سٹائن کے نتیجہ نے جو کہ فقط ایک بیانیہ تھا دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ پوری کی پوری پوسٹ ماڈرن فکر اسی بیان کا بیانیہ ہے اور مارکسزم کا متبادل بیانیہ۔

دوسری مثال کے تاریخی اثرات بھی ایسے ہی ہیں۔ نیوٹن کی کششِ ثقل کا متبادل بیانیہ پیش کرنے کے نیتجے میں مادیت کا بُت تو ٹوٹ گیا لیکن توانائی کا بت کھڑا ہوگیا۔ مادے کی مطلقیت توانائی کی مطلقیت میں بدل گئی۔ یہ وہی فرق ہے جو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا فرق ہے۔ مادہ تو ٹھوس تھا یا مائع تھا یا گیس تھا لیکن توانائی کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ فی الحقیقت کیا ہے۔ کیا یہ پارٹکل ہے یا یہ موج ہے؟ یہ دراصل دونوں ہے۔ توانائی دونوں شکلوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیک وقت پارٹیکل بھی ہے اور موج بھی۔ سو نتیجہ یہ نکلا کہ کہ ’’کے اوس‘‘ ہے۔ حتمیت کا کوئی وجود نہیں۔ کسی بات، کسی شئے، کسی جوہر کو حتمی کہنا ناممکن ہے۔

حالانکہ آئن سٹائن کی کششِ ثقل، نیوٹن کی کششِ ثقل کے متبادل بیانیے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر نیوٹن کی سائنس میں کچھ اضافے ہوئے ہیں تو وہ آئن سٹائن سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ آئن سٹائن نے فقط بہت سے لوگوں کے نتائج کو لے کر فلسفیانہ تفکر اور تکشف فرمایا ہے۔ وہی، سیف والی بات کہ، سیف اندازِ بیاں بات بدل دیتاہے۔ مثلاً اگر علامہ اقبال کا متبادل بیانیہ قبول کیا گیا ہوتا اور آئن سٹائن کا رد کردیا گیا ہوتا تو منظر کیا ہوسکتاتھا،

’’چونکہ کائنات کی کوئی شئے مطلق نہیں اور ہر شئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے اس لیے کائنات کی ہرشئے اہم ہے۔ کسی ایک ذرّے کا بھی جو اپنا ذاتی زمان و مکاں ہے وہ کسی دوسرے ذرّے کا نہیں ہے فلہذا ہر فرد، ہر قوم اور ہر ملک نہایت اہم ہے‘‘

مجھے پتہ ہے علامہ اقبال کا نام آگیا ہے۔ اتنا کافی ہے۔ اب بعض لوگ اِس مضمون کی منطق کو نظر انداز کرکے اِس ساری کی ساری فکری عمارت کے خلاف ایسی تیسی پھیر دینگے۔ خدارا متن کی طرف توجہ رکھیے! علامہ اقبال نے اضافیت سے جو نتیجہ اخذ کیا وہ گزشتہ صدی کی تیس کی دہائی کا واقعہ ہے اور اس لیے ایسا کہنا قطعاً بعید از خیال نہیں کہ اقبال یا اگر کسی اور نے بھی ایسا متبادل بیان دیا تھا تو اس کا بیان فی الاصل انسانیت کے حق میں زیادہ مفید ہوتا۔ ممکن ہے دوسری جنگِ عظیم نہ ہوئی ہوتی۔ اور اگر ہوئی ہوتی تو ممکن ہے کم نقصان ہوا ہوتا۔ دوسری جنگِ عظیم میں چھ کروڑ انسان ہلاک ہوئے۔ اتنا بڑا سارے کا سارا نقصان کیا فقط اس مِس اِنٹرپریٹیشن کی وجہ سے نہیں ہوا کہ،

’’چونکہ کائنات میں کوئی شئے مطلق نہیں اور ہرشئے دوسری شئے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے چنانچہ کائنات میں کوئی شئے اہم نہیں۔ نہ کوئی فرد، نہ کوئی قوم اور نہ ہی کوئی ملک‘‘

اور رونا تو یہ ہے کہ اس نتیجہ کو دنیا کے اکیڈمیا کی منطقی آنکھوں پر بطور عینک چڑھانے والی ہستی یعنی آئن سٹائن خود اصل کا لاتی مناتی یعنی فاشسٹ تھا اور آخر دم تک نسل پرست یہودی رہا۔

الغرض میں نے جو شروع میں کہا کہ سارے کا سارا پوسٹ ماڈرنزم، مارکسزم کے خلاف سامراج کا متبادل بیانیہ ہے تو میرا ایسا ہی کچھ مدعا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہیگل کے ڈائلیکٹکس بنیادی طور پر دو متخالف اجزأ یا عناصر کے ایک ساتھ مشاہدہ کا نام ہیں۔ رات کے مقابلے میں دن۔ روشنی کے مقابلے میں اندھیرا۔ تپش کے مقابلے میں ٹھنڈک۔ یہ سب ہیگل کے متضاد عناصر ہیں۔ یہ سب تھیسز اور اینٹی تھیسز ہیں۔ ہمیشہ کسی شئے کو دیکھنے کے لیے اسے دو متخالف حصوں میں تقسیم کرکے دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ہے ہیگل کی منطق۔ ہیگل نے اس منطق سے ایک نتیجہ اخذ کیا۔ وہ نتیجہ یہ تھا کہ کائنات پر جس حقیقت کا غلبہ ہے وہ محض تصور یعنی آئیڈیا کی شکل میں موجود ہوسکتی ہے۔ ہیگل کے بعد ہیگل کے ہی ڈائیلکٹس کا استعمال کرتے ہوئے کارل مارکس نے اس کے برعکس نتیجہ اخذکیا اور کہا کہ کائنات پر جس حقیقت کا غلبہ ہے وہ خالص مادی ہے۔ یعنی مارکس کا بیان ایک لحاظ سے ہیگل کا متبادل بیانیہ تھا۔ پوسٹ ماڈرنزم کے پاس بھی ہتھیار وہی پرانا ہے۔ یعنی جدلیات کا استعمال کرنا اور نتائج اخذ کرنا لیکن پوسٹ ماڈرنزم کے نتائج مارکس کی طرح کے اشتراکیت پسند نہیں ہیں۔ پوسٹ ماڈرنزم کے نتائج پوری طرح کیپٹالسٹ طرزِ فکر کے نمائندہ ہیں۔ یعنی یہ بھی فقط متبادل بیانیہ ہے۔ اب وہی ماہر ِ جدلیات سامراج کی زبان بول سکتاہے جو کبھی اپنی جدلیات کا ساتھ دیتے ہوئے مارکسسٹ ہوجایا کرتاتھا۔ جدلیات بہت جابر اور مضبوط قسم کا ہتھیار ہے۔ اکیڈمیا کے نزدیک ہمیشہ اُسی منطق کی اہمیت ہوتی ہے جو اپنے عہد کی تمام منطقوں پر عقلی لحاظ سے برتر ہو۔ پوسٹ ماڈرنزم سامراجی قوتوں کی جانب سے اُنڈیلا گیا ایسا مشروب ہے جسے پینے کے بعد ماہرین ِ جدلیات ایسے ایسے اجزائے کائنات کو متضاد شکلوں میں دیکھنے لگ جاتے ہیں جو کبھی متضاد تھے ہی نہیں۔

کیا عورت اور مرد ایک دوسرے کے متضاد عناصر ہیں؟

قطعاً نہیں۔

لیکن پوسٹ ماڈرن ماہرین ِ جدلیات نے ان دونوں عناصر کو ایک دوسرے کے متضاد رکھ کر لاکھوں نتائج اخذ کیے ہیں۔ عورت کی آزادی کی بات بھی ہوگئی اور سامراجی قوتوں کو مسائل کا سامنا بھی نہ کرنا پڑا۔ یہاں آپ کو اشتراکیت کا شائبہ تک نظر نہ آئے گا۔ یعنی سارے کا سارا کھیل متبادل بیانیوں کا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔

بہت مشہور بات ہے کہ پوسٹ ماڈرنزم نے مہابیانیے کا خاتمہ کردیا۔ مہابیانیہ قران اور بائیبل جیسی کتابوں کو ہی نہیں کہتے تمام پرانی قدریں، اصول، دنیا کو چلانے کے طریقے اور ڈھنگ، سب کے سب کا خاتمہ مہابیانیے کا ہی خاتمہ کہلاتاہے۔ آپ پکاسُو کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے پینٹگنز بنائیں تو کہا جائیگا کہ یہ کلیشے شکار ہے۔کلیشے کا خاتمہ۔ ٹیبوز کا خاتمہ۔ یہ ایک طرح سے جدید طرز کی بُت شکنی ہے۔ یعنی پوسٹ ماڈرنزم نے بت توڑ دیے ہیں۔ اقبال تک ہم سمجھتے تھے کہ اشتراکیت بُت شکن ہے۔ لیکن سب سے بڑا بت شکن تو پوسٹ ماڈرنزم نکلا۔ اس نے سب بُت توڑ کررکھ دیے۔ مذاہب کے بت، عقائد کے بت، بزرگوں کی اقدار، خاندان کے نام نہاد اُصول، قومیں، نسلیں، مستقل تصورات، سب کچھ ختم۔

کیونکہ پوسٹ ماڈرنزم کے بقول سچائی اِن میں سے کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ شر کا وجود ہے نہ خیر کا۔ مہابیانیے کے خاتمے کے ساتھ ہی خیروشرکےتمام تصورات کا خاتمہ ہوجانا بھی لازمی امر تھا۔ چنانچہ یہی ہوا۔پوسٹ ماڈرنزم کی شمشیر نے جن جن بُتوں کو توڑا میں اُن میں ’’تصورِ خیروشر‘‘ سرفہرست ہے۔ پوسٹ ماڈرن دنیا نے یہ نیا خیال قبول کرلیا کہ نیکی اور بدی کی تعریف ممکن نہیں۔ اچھائی اور برائی کا کوئی پیمانہ نہیں۔کوئی عمل اچھا یا بُرا نہیں ہوتا۔ اخلاقیات کی ہزارہاسالہ ، عظیم عمارت جو اَب بُری طرح بوسیدہ ہوچکی تھی پوسٹ ماڈرنزم کی ضرب نہ سہہ سکی اور مشرق و مغرب اپنے آباؤاجداد کی اقدار کو خیرباد کہہ کرعقلِ جدید کی سب سے خوبصورت جنت یعنی جدلیات کے نتائج پر لبیک کہنے کے لیے بے تاب ہوگئے۔پوسٹ ماڈرن افکار نے اکیڈمیا سے یہ تسلیم کروالیا کہ عقل تضادات کے درمیان فرق کرنے کی ماہر ہے۔ دو متخالف عناصر کےدرمیان فیصلہ ریاضیاتی بزرگی کا حامل ہے۔مثلاً اگر پوسٹ ماڈرنزم نے کہا کہ عورت اور مرد میں بطور انسان کچھ فرق نہیں تو کیا غلط کہا؟ ایک بُت ہی تو توڑا۔ لیکن یہ بت توڑنے کے لیے پوسٹ ماڈرنزم کو عورت اور مرد دو مخالف طبقوں کے طور پر تصور کرنا پڑے۔ اگر عورت اور مرد کو دو متخالف طبقات سمجھا جائے تو کیا یہ فیصلہ ریاضیاتی صداقت کا حامل نہیں؟ عورت اور مرد دو متخالف عناصر ہیں اور تاریخِ انسانی کے دو خاموش مخالف دھڑے۔ چنانچہ یہ طبقاتی فرق ختم ہونا چاہیے۔ ایسے متضاد اجزأ کی موجودگی میں نتیجہ اخذ کرنا کونسا مشکل ہے کہ عورت اور مرد دونوں بطور انسان برابر ہیں؟ دونوں باشعورانسان ہیں۔ ایک ہی طریقے سے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہی طریقے سے بڑے ہوتے ہیں۔ ایک ہی طریقے سے مرتے ہیں۔ ایک جیسی غذائیں کھاتے ہیں۔ مل کر بچے پیدا کرتے ہیں۔ ایسی کون سی منطق ہے جو عورت اور مرد کے مابین فرق پیدا کرنے میں عقلِ جدید کو قائل کرسکے؟

لیکن پوسٹ ماڈرن فکر نے روزِ اوّل سےعورت اور مرد کو دو متخالف ہستیاں شمار ہی کیوں کیا؟ دو ایسے متضاد عناصر جن کے درمیان جدال کی صورت پیدا کرکے نتائج حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ ایسا فرق ہی کیوں کیاگیا؟ تاریخی اعتبار سے عورت اور مرد کو دو متخالف دھڑے کہہ کر ان کے درمیان فرضی دشمنی کا جو منظر تصور کیا گیا اس کی شہادت کہاں ہے؟ غرض پوسٹ ماڈرن طرزِفکر میں جو سب سے بڑی قباحت موجود ہے وہ اس بات کا تعین نہ کرسکنے کی نااہلی کہ آیا دو متضاد عناصر فی الواقعہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟ البتہ بعض تصورات جہاں بظاہر بجا معلوم ہوتا ہے کہ پوسٹ ماڈرنزم کا طرزِ فکر درست ہے ، و ہ ہے، ’’مسئلہ خیروشر‘‘۔ایک تو خیروشر ایک دوسرے کے عین متخالف واقع ہیں ، دوسرے خیروشر کے مختلف تصورات کی موجودگی میں پوسٹ ماڈرنزم کی طرزِ فکر کا مقبول ہوجانا قدرتی امر تھا۔چنانچہ پوسٹ ماڈرنزم نے تصورخیروشر کو بیخ وبن سے ہلا کررکھ دیا۔ آج اگر دنیا کے کئی ممالک میں ’’گے میرج‘‘ یعنی مردوں کی مردوں سے شادی کا عمل یا ’’لِزبیَن میرج‘‘ یعنی عورتوں کی عورتوں سے شادی کا عمل رواج پارہاہے تو اس کے بنیادی اسباب میں پوسٹ ماڈرن طرزِ فکر کا دخل ہے۔ یہاں بھی مردوزن کی متخالف تفریق اس نئی طرز کی عائلی اخلاقیات کا باعث بنی ہے۔

ہیگل کی جدلیات کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ہمارا ذہن اس وقت تک کسی بھی شئے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا جب تک اس شئے کا مکمل طور پر متضاد سامنے موجود نہ ہو۔جب تک اسےدو متضاد قطبین کی صورت تقسیم نہ کیا جاسکے کسی شئے کے بارے میں رائے دینا ناممکن ہے۔اگر تھیسز حرارت ہے تو اینٹی تھیسز ٹھنڈک ہے۔ہیگل کے مطابق حرارت کا کوئی تصور نہیں جب تک ٹھنڈک کا تصور نہ ہو۔ چنانچہ پوسٹ ماڈرنزم نے جدلیات کے اِس طریقہ کار کو اکیڈمیا کی پسندیدہ منطق شمار کرتے ہوئے ہرکہیں اختیار کرنا شروع کردیا۔ لیکن چالاکی یہ دکھائی کہ بعض ایسے اجزأ کو بھی، جو ایک دوسرے کے فی الحقیقت متخالف نہیں تھے، متضاد اور متخالف کرکے پیش کردیا۔ جب کوئی سے بھی دو اجزأ کو پہلے ہی سے متضاد تسلیم کرلیا جائے گا تو ان کے مابین بھی ہزارہا پہلو ایسے ہونگے جو خود بخود اجاگر ہوکر یہ ثابت کرنے لگیں گے کہ فی الواقعہ یہ اجزأ ایک دوسرے سے متصادم تھے۔

سچائی یہ ہے کہ تمام کا تمام مسئلہ باقاعدہ ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ایک کانفلکٹ پیدا کیاجاسکےجو کبھی حل کرنا ممکن نہ ہو یہاں تک کہ کوئی طاقت جب تک بیچ میں نہ پڑے کانفلکٹ حل نہ کیا جاسکے۔ ابارشن کا مسئلہ، گے میرج کا مسئلہ، اوزون کا مسئلہ، میڈیا کا مسئلہ، یہ سب کانفلکٹس ہیں اور فی الاصل مصنوعی تضادات ہیں تاکہ سنتھسز کی گنجائش ہمیشہ باقی رہے۔

مضمون لمبے سے لمباہوتاجارہاہے، خیر! پوسٹ ماڈرنزم ایک ایسی مبہم اصطلاح ہے جس کی تشریح کو یونہی گلی میں پھینک دیا گیا ہے تاکہ جس کا جی چاہےجو مرضی معانی نکالتا رہے۔ پوسٹ ماڈرنزم کی اصطلاح کبھی کسی پر پوری طرح کھل نہیں پاتی۔اصل میں پوسٹ ماڈرنزم کسی فلسفے کا نام تو ہے نہیں ، یہ فقط ایک طریقِ کار ہے۔ ایک اندازِ نظر۔ چیزوں کو دیکھنے کا ایک خاص سلیقہ۔ بنیادی طور پر پوسٹ ماڈرنزم ’’ماڈرنزم کی تنقید‘‘ جو فی الاصل ’’سٹرکچر پر تنقید ‘‘ ہے، پہلے سے بنے ہوئے پر تنقید ہے اوراسی لیے اِسے پوسٹ سٹرکچرلزم بھی کہتے ہیں۔

اس سے بھی آسان الفاظ میں کہا جائے تو ’’پوسٹ ماڈرنزم ایک طرزِ فکر ہے جو ہراُس عنصر کا تنقیدی جائزہ لیتاہےجسے حقیقی سمجھ لیا گیاہو‘‘۔ لیکن پھر ہم غور کریں تو یہی وظیفہ خود فلسفہ کا بھی رہا ہے۔پوسٹ ماڈرنزم اس نظریہ کا مبلغ ہے کہ،

’’کہیں کوئی مطلق سچائی نہیں ہے‘‘

“There is no absolute truth anywhere”

اور وہ بنیادی ڈھانچے جن پر ہم نے تہذیب و تمدّن کی عمارتیں کھڑی کررکھی ہیں، فقط سماجی تعاملات کے نتائج ہیں۔ان سماجی تعمیرات میں طاقت، جینڈر، طبقات جیسی تمام قوتوں کا کردار ہوتاہے۔پوسٹ ماڈرنزم ان بنیادوں کی نہ صرف چھان بین کرتاہے بلکہ ان کی بُنتر اور بناوٹ کو لخت لخت کرتا اور دعویٰ کرتاہے کہ یہ تمام اجزأ نہ صرف یہ کہ سچ نہیں بلکہ فی الحقیقت بھانت بھانت کے جھوٹ ہیں۔یعنی ہم نے کلچر اور سوسائٹی کے نام سے جو کچھ بھی جمع کررکھاہے اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس کی بنیاد مذہب میں ہے اور نہ ہی مٹی میں۔ ثقافت ایک ارتقائی عمل ہے اور غور پر کرنے معلوم ہوتاہے کہ ثقافت کی تدوین میں ہمیشہ، مذہب، معاشرت، سماجی روابط اور تعلقات کے علاوہ طاقت اور طبقات نے بے پناہ کردار ادا کیا ہے۔

خیر! تو آمدم برسرمطلب کہ پوسٹ ماڈرنزم خیروشر کے تصور کو بھی تباہ کردیتاہے۔ پوسٹ ماڈرنزم کے مدلولات میں ’’خیروشر‘‘کا تصور بنیادی حیثیت رکھتاہے۔اچھائی برائی کیا ہے؟ اچھائی اور برائی سماج جال کے بنیادی تانے بانے ہیں۔ یہ دراصل ایک ری ایکشن تھا۔ ہائپر ریشنلزم اور ماڈرینٹی کے خلاف۔ یہ وہ زمانہ ہے جب لوگ اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ بعض سائنسی یا یہاں تک کہ مذہبی نظریات یا اصول ایسے ہوسکتے ہیں جو ہر بات کی وضاحت کرنے کے اہل ہوں۔اسی طرح ماڈرنزم کا خیال تھا کہ کوئی شئے بھی مکمل طور پر معروضی نہیں ہوتی۔ بہرحال جو کوئی بھی ، جس طرف سے بھی آرہا تھا وہ سب ایک بات پر متفق تھے کہ ان کے دامن میں جو کچھ ہے یہ سب کا سب ان کے کلچر کا صدقہ ہے۔مختصر یہ کہ ہر وہ تصور جو اقدار کو چیلنج کرتاہے پوسٹ ماڈرن تصور کہلاتاہے۔اور اس اندازِ فکر میں جو طریقہ سب سے نمایاں رہتاہے وہ ہے بائنری کے سٹرکچر کو ختم کرنا یعنی جدلیات کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے علقیت پر قدغن لگانا اور طے شدہ اُصولوں کی بیخ کنی کرنا۔فلہذا پوسٹ ماڈرنزم چیلنج ہے مخصوص سٹرکچرز کے لیے۔چونکہ پوسٹ ماڈرنزم کو الگ کرکے دیکھنے کا کوئی طے شدہ اُصول نہیں، اس لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم باہر نکلیں، تعمیرات کو دیکھیں، تحریروں کو پڑھیں یہاں تک کہ میوزک کو دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوجائیگا کہ کہاں کہاں اقدار سے بغاوت کی گئی ہے اورہر وہ تعمیر یا تحریر یا تقریر پوسٹ ماڈرن ہے جس میں اقدار کے خلاف بغاوت موجود ہے۔

پوسٹ ماڈرنزم چونکہ پوسٹ ہے، اس لیے یقیناً یہ ماڈرنزم کے بعد وارد ہوتاہے اور اس لیے ایک لمحے کو رک کر یہ دیکھنا ضروری ہوجاتاہے کہ ماڈرنزم کیا ہے؟ ماڈرنزم تاریخ معاشرت میں سائنسی انقلاب کے دور کو کہا جاتاہے۔جب نیا دور آیا تو وہ دور کب آیا؟ نیا دور کب سے شروع ہوتاہے۔ بابائے مادیات نیوٹن کے اکتشافات کے بعد سے سائنسی ایجادات کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے دنیا کے بارے میں انسان کے سوچنے کے انداز کو بہت بری طرح سے بدلنا شروع کردیا تھا بالفاظ دگر ماڈرن کرنا شروع کردیا تھا۔ اس تبدیلی کی زد میں سب سے زیادہ مذہب آیا۔اسی دور میں عقلیت بھی عروج پر تھی چنانچہ سائنٹفک میتھڈ کے آتے ہی عقلیت اور تجربیت کے درمیان ایک جنگ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔اسی جنگ نے ابتدائی پوسٹ ماڈرنزم کو جنم دیا۔

قصہ کوتاہ! اب اگر غور سے دیکھا جائے تو پوسٹ ماڈرن طرزِ فکر خود ایک کلیشے کی صورت اختیار کرچکاہے۔ مہابیانیوں کا خاتمہ کرنے والا پوسٹ ماڈرنزم خود ایک مہابیانیہ بن چکاہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ سامراج کی طرف سے عطا کی گئی زبان کو چھوڑ کر کوئی اور بولی بول سکے۔ سب کے منہ میں ’’فرانسیسی‘‘ زبان ہے اور ہم کہنے کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ پوسٹ ماڈرنزم فقط نیا مہابیانیہ ہی نہیں بلکہ سامراج کی ’’فرینچ کِس‘‘ ہے جبکہ سامراج کی ’’زبان‘‘ دنیا بھر کے لکھاریوں کے منہ میں ہے۔

…………….
نوٹ: اگرکبھی کوئی سکالر مندرجہ ذیل مضمون پر تھیسز کرے تو مجھے بڑی خوشی ہوگی۔

“Deconstruction of the political narratives of Einstein”

ادریس آزاد

معنی کہاں واقع ہے؟

(ڈی کنسٹرکشنزم یعنی ردِّ تشکیلیت کے مفہوم تک پہنچنے کی کوشش)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی لفظ یا فقرے میں ’’معنی‘‘ فی الحقیقت کہاں واقع ہے؟ یہ مختلف مقامات پر ہوسکتاہے۔

۱۔ لکھاری کے ذہن میں
۲۔ لکھی ہوئی تحریر میں
۳۔ یا پڑھنے والے کے ذہن میں

’’نیو کرٹسِزم‘‘ بھی ادبی تنقید میں ایک تحریک کا نام ہے۔ یہ تحریک پرانی طرز کی تنقید کے برخلاف یہ کہتی ہے کہ تحریر کو مصنف سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے۔ جبکہ پرانی طرز کی تنقید اپنی تمام تر توجہ مصنف پر مرکوز رکھتی تھی۔ چنانچہ نیوکرٹی سِزم کی تحریک سے وابستہ نقاد فقط تحریر پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہیں اِس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ مصنف کیا کہنا چاہتاتھا۔ نہ وہ اِس بات کو درخور اعتنأ سمجھتے ہیں کہ پڑھنے والا کیا سمجھ سکتاہے۔ ان کی توجہ ہرحال میں فقط تحریر پر رہتی ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ تحریر کیا کہہ رہی ہے۔ بظاہر یہ بات کسی حدتک غلط محسوس ہوتی ہے کہ آخر وہ مصنف کو کیوں نظر انداز کررہے ہیں۔ مصنف کے بغیر کسی تحریر کے اصل معانی تک کیسے پہنچا جاسکتاہے؟ لیکن اصل میں وہ غلط نہیں کہہ رہے ہوتے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ لکھاری کے ذہن میں کیا تھا کسی تحریر سے اس کا انداز لگانا ممکن ہی نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض مصنفین اپنی تحریروں کے ساتھ وضاحتی نوٹس لکھ دیتے ہیں۔ نیوکرٹسِزم کے مطابق وہ وضاحتی نوٹ خود محتاجِ تشریح ہونے کی وجہ سے لکھاری کی اصل ’’مُراد‘‘ پیش کرنے کا اہل نہیں ہے۔ چنانچہ فقط تحریر پر ہی توجہ مرکوز کرنا سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔ لیکن کسی تحریر پر مکمل طور پر توجہ کیسے مرکوز کی جاسکتی ہے، تاکہ بات کا اصل معنی حاصل کیا جاسکے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تحریر کو ’’اور زیادہ توجہ کے ساتھ پڑھا جائے‘‘۔ اگر معنی فقط تحریر میں ہی موجود ہے تو ہمارے لیے ضروری ہوجاتاہے کہ ہم تحریر کو اچھی طرح سےسمجھیں، تاکہ معنی تک پہنچ پائیں۔ اگر ہم توجہ سے نہیں پڑھیں گے تو ہم تحریر کا اصل معنی پانے میں کوتاہیاں کرسکتےہیں۔ چنانچہ پڑھنے کے تین طریقے ہوسکتے ہیں،

۱۔ عام قرات یعنی یونہی پڑھنے کے لیے پڑھنا
۲۔ توجہ سے پڑھنا
۳۔ سمجھنے کی شدید طلب کا ذہنی دباؤ لے کر پڑھنا

نیوکرٹی سِزم تیسری قسم کے پڑھنے کی قائل ہے۔ وہ تحریر کے ایک ایک لفظ کو پوری توجہ سے پڑھتے ہیں۔ ہر لفظ کے ہر ہر معنی کو پوری توجہ سے جانچتے ہیں۔ اُن کا کہناہے کہ ’’کیا پتہ کسی ایک لفظ کے معنی کو ٹھیک سے متعین نہ کرنا ساری تحریر کے معانی پر اثر ڈال دے‘‘۔ نیوکرٹی سِزم کے نزدیک تحریر ایک جال کی طرح سے ہوتی ہے۔ جس کا ہر ہر دھاگہ دوسرے دھاگوں کے ساتھ مل کر اپنا وجود قائم رکھتاہے۔ان کے بقول، الفاظ کے اس پورے جال میں کہیں معنی موجود ہے جو فقط اِسی ایک طریقے سے اخذ کیا جاسکتاہے۔

اس موضوع پر ’’کلیَنتھ بروکس‘‘ (Cleanth Brooks) کا ایک نہایت دلچسپ مضمون موجود ہے جس کا عنوان ہے، ’’بیان کی بدعت‘‘ (The Heresy of Paraphrase)۔ اس مضمون میں برُوکس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ہم کسی بھی بیان کو بیان نہیں کرسکتے، کیونکہ جب ہم اُسے بیان کرنے لگتے ہیں تو اس کے اصل معانی گم ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ معنی نہ تو تحریر کے مواد میں موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی بناوٹ یعنی ساخت میں، بلکہ کسی تحریر کا معنی اِن دونوں یعنی تحریر کا مواد اور اس کی ساخت کے باہمی امتزاج سے متعین ہوتاہے۔

بُروکس جیسی باریک بینی سے کسی بیان کے معنی کو جاننے کی کوشش اس بات کی یقینی طور پر متقاضی ہے کہ ہم کسی بہت بڑی تحریر کو پڑھیں۔ مختصر تحریر کا کام نہیں ہے کہ وہ اپنے اصل معانی اپنے قاری تک پہنچا سکے۔ یوں گویا ہمیں کسی ایک لفظ کو سمجھنے کے لیے ایک ناول جتنا پڑھناچاہیے۔ چنانچہ آپ کسی کتاب پر تنقید لکھتے ہوئے اس کے کسی ایک حصے کو معیار نہیں مان سکتے۔

لیکن نیوکرٹی سزم یہ تسلیم کرتاہے کہ ہم کسی کتاب کو مختلف اجزأ میں تقسیم کرکے اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اس کا طریقہ بھی یہ ہوگا کہ پہلے ہم پوری کتاب کو تمام تر توجہ کے ساتھ پڑھینگے اور پھر اس کے کسی ایک جزو کو لے کر اُس کا تجزیہ کرینگے۔ یا ہم مکمل مطالعہ کے بعد کتاب کے کسی مخصوص پہلو پر اپنی توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔

نیو کرٹی سِزم صرف باریک بینی سے پڑھنے کی ہی ہدایت نہیں کرتا بلکہ نیو کرٹی سزم کے بقول ایک کتاب میں ایک خاص قسم کی گہرائی ہوتی ہے۔ ایک کتاب میں ایک خاص قسم کی پیچیدگی اور تناؤ پایا جاتاہے۔ یہ عوامل کسی کتاب کے مجموعی مزاج کو تخلیق کرتے ہیں۔ کسی کتاب میں ’’تناؤ‘‘ کس طرح سے پایا جاتاہے۔ کسی بھی تحریر میں موجود تناؤ وہ لاینحل تضادات (متضاد اجزأ) ہوتے ہیں جو تحریر کے اجزأ کے درمیان معمّوں کی صورت پائے جاتے ہیں۔ ایسے تضادات کسی تحریر کے معانی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دو متضاد اشیأ کی موجودگی میں کسی معنی کا تعین آسان ہے نسبتاً بلامقابلہ موجود الفاظ یا جملوں کے۔ بلامقابلہ سے میری مراد کسی تحریر میں موجود ایسے الفاظ یا جملے ہیں جو اپنا معنی بیان کرنے کے لیے اپنے متضاد لفظ یا جملے کی موجودگی سے محروم ہوں۔ تضادات یعنی تحریر میں موجود متضاد اجزأ قاری کے لیے آسانی پیدا کرتے اور اس کے لیے کتاب کے متن کو قابلِ فہم بناتے ہیں۔ لیکن اِن تضادات کی مدد سے معنی کی تخلیق بھی لکھاری کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی تحریر میں ایسے تضادات موجود ہیں لیکن لکھاری میں اُن تضادات سے پیدا ہونے والا معنی متعین کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تو تحریر بیکار ہے۔ ایسی تحریر کا قاری کتاب یا تحریر کا مکمل اور مجموعی معنی جاننے سے قاصر رہتاہے۔

اِس خاص امر کی مثال ہمیں فیمنزم میں نظر آتی ہے۔ فیمنزم ادبی تنقید میں ایک خاص تحریک کا نام ہے جو اپنی ماہیت میں نیو کرٹی سزِم سے ملتی جلتی ہے کیونکہ اس تحریک کے نزدیک کسی بھی کتاب یا تحریر میں بنیادی طور پر مرد اور عورت کے درمیان موجود تضاد کا جائزہ لینا ہوتاہے۔ یعنی ہمارے ادب میں یا دنیا کے ادب میں لکھاریوں نے عورت کو بمقابلہ مرد کس مقام پر رکھا؟ کیا عورت کو ادیب نے دبا دیا اور مرد کے کردار کو غالب بنادیا؟ کیا لکھاری نے دونوں کرداروں کو برابر برابر رکھا؟ کیا لکھاری نے عورت کے کردار کو غالب کردیا؟ مثلاً اگر ہم رحیم گل کی کتاب ’’جنت کی تلاش‘‘ کا گہرا تنقیدی جائزہ لیں تو ہمیں پہلی قرات میں نظر آئے گا کہ عورت غالب ہے کیونکہ امتل ناول کا نہ صرف مرکزی کردار ہے بلکہ امتل کی ذہانت ناول میں موجود تمام مردوں سے زیادہ ہے، امتل کی بہادری ناول میں موجود تمام مردوں سے زیادہ ہے، امتل کی قادرالکلامی ناول میں موجود تمام مردوں پر بھاری ہے۔ پوری ناول میں فقط امتل ہی امتل دکھائی دیتی ہے۔ امتل ہرطرف چھائی ہوئی۔ پوری طرح سے ناول پر حاوی امتل فی الحقیقت رحیم گُل کے پٹھان قلم سے بچ نہیں پائی۔ امتل کو ہرمقام پر فقط مردوں کی وجہ سے ہی برتری بلکہ تحفظ کا ملتے رہنا ثابت کرتاہے کہ اصل میں امتل سب کی پسندیدہ ہے لیکن ناول میں وہ پھر بھی ایک دبی ہوئی مشرقی عورت ہے۔ اسی طرح رحیم گل کے فاشسٹ قلم سے نسل پرستی کی بُو ناول کی آخری سطر تک آتی رہتی ہے، اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ رحیم گل خود کو کمیونسٹ کے طور پر پیش کرتے تھے۔

غرض فیمنزم کی ادبی تحریک میں بھی نیو کرٹی سِزم کی طرح یہی دیکھنا ہوتاہے کہ مصنف نے متضاد قوتوں کا استعمال معنی کے تعین کے لیے کس کامیابی اور چابکدستی کے ساتھ کیا۔ مصنف نے اگر عورت کے لیے ایسی اصطلاحات، الفاظ، حروف، کامے،علامات، نقطے وغیرہ استعمال کیے جو اس کی سماجی حیثیت کو مردوں کے مقابلے میں ذرا بھی کم تر دکھارہے ہوں؟ قطع نظر اس کے کہ مصنف دانستہ ایسا کررہا تھا یا نادانستہ کیونکہ نیو کرٹی سزم میں مصنف کو نظر انداز کرکے تحریر کو دیکھا جاتاہے، سو اگر مصنف نے دانستہ یا نادانستہ عورت کے لیے الفاظ کا مخصوص چناؤ کیا تو اس نے بھلے کلچرل پریشر کے زیر اثر کیا وہ اصل لکھاری نہیں ہے اور اس کی تحریر معنی سے خالی رہیگی۔ فقط اس وجہ سے کہ متخالف اجزأ یعنی تضادات کا استعمال درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔

تھوڑی سی مزید وضاحت کرتا چلوں کہ فیمنزم کی تحریک ادب میں ایسے الفاظ کو زیادہ دھیان سے ڈھونڈتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم ایک ناول پڑھ رہے ہیں اور اس میں ایک فقرہ آیا،

’’سٹیج پر کشمیرکی بہادر بیٹی کسی شیر کی طرح گرج رہی تھی‘‘

اس فقرے میں ’شیر‘‘ نَرہے۔ ایک فیمنسٹ نقاد اس لفظ پر گرفت کرسکتاہے۔ وہ سوال اُٹھاسکتاہے کہ شیر بہادری کی علامت ہے تو کیا ’شیرنی‘‘ بہادری کی علامت نہیں ہے؟ لکھاری کے لیے انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ وہ جملہ اس طرح لکھتا،

’’’’سٹیج پر کشمیرکی بہادر بیٹی کسی شیرنی کی طرح گرج رہی تھی‘‘

یہ ایک بہت سادہ سی مثال ہے۔ فیمنسٹ نقاد کا کام ہے ہر ایک لفظ پر گرفت کرنا جس میں سے مردانگی کی بُو آتی ہو۔ خیر! فیمنزم پر ہم کسی اور مضمون میں تفصیلی بات کرینگے۔ ابھی واپس اپنے پہلے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔

ہم نے بات شروع کی کہ،

’’ کسی تحریر میں معنی کہاں واقع ہے‘‘

کیا یہ مصنف کے پاس ہے؟ کیا یہ تحریر میں موجود ہے؟ کیا یہ قاری کے پاس ہے؟ کسی لفظ، جملے یا تحریر کا معنی کہاں واقع ہوتاہے؟

تنقیدی ادب میں ایک بڑی تحریک ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ اِسے اردو میں ’’ردِ تشکیل‘‘ کہتے ہیں۔ کیا ڈی کنسٹرکشن کسی معنی کے محلِ وقوع کو دریافت کرنے کی دعوے دار ہے؟ نہیں۔ اس کے بالکل برعکس۔ ڈی کنسٹرکشن معنی کو تباہ کرنے کی دعوے دار ہے۔

ادبی تنقید میں جسے ہم ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ کے نام سے جانتےہیں، اس بات کی مدعی ہے کہ کسی بھی تحریر میں معنی کہیں بھی موجود نہیں ہوتا۔ ڈی کنسٹرکشن جیسا کہ لفظ سے ظاہرہے کہ کسی لفظ کے موجود معانی کو ’’ڈی کنسٹرکٹ‘‘ کرنے کا عمل ہے۔ یعنی بظاہر اگر ایک تحریر کے معانی تشکیل شدہ ہیں تو ڈی کنسٹرکشن کا کام ہے کہ وہ اس کے معنی کو مکمل طور پر تباہ کردے۔ وہ لکھاری، تحریراور قاری، تینوں کے پاس موجود معانی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ ڈی کنسٹرکشن کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ کسی تحریر کو بہت زیادہ توجہ سے دیکھیں تواُس کے معنی خلاؤں میں کھوجاتے ہیں۔ بالفاظ دگر ڈی کنسٹرکشن تحریر کی قاتل ہے۔ کوئی تحریر ڈی کنسٹرکشن کی موجودگی میں اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ڈی کنسٹرکشن کسی تحریر کے معنی کو مکمل طور پر تباہ کیوں کردیتی ہے؟

اس سوال کا بنیادی طور پر یہ جواب ہے کہ ڈی کنسٹرکشن تاریخ ِ تنقید میں ’’سٹرکچرلزم‘‘ کے بعد نمودار ہوئی ہے۔ سٹرکچرلزم جسے اردو نقاد ’’ساختیت‘‘ کے نام سے جانتے ہیں بنیادی طور پر ساخت کرنے کا عمل ہے، یعنی کسی بھی لفظ، جملے یا تحریر کے معانی ساخت کرنا۔ آسان الفاظ میں کسی لفظ کے معنی پیدا کرنا۔ اس لفظ میں معنی ڈالنا۔ سٹرکچرلزم خود ایک بہت بڑی تحریک تھی جو کسی تحریر کی ساخت پر توجہ مرکوز کرتی تھی۔ سٹرکچرلزم یہ دیکھتا تھا کہ کسی تحریر کی ساخت کس انداز میں معنی مہیا کررہی ہے۔ لیکن ڈی کنسٹرکشن اس کے برعکس سوچتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ سٹرکچرلزم کو بظاہر جو معنی دکھائی دیتے ہیں وہ فی الحقیقت اُسی تحریر کے عمیق تر مطالعہ سے فنا ہوجاتے ہیں۔ ڈی کنسٹرکشنزم کا کہنا ہے کہ ہم فی الاصل زبان کے استعمال سے کسی بھی قیمت پر اپنے معنی اپنے قاری تک پہنچا ہی نہیں سکتے۔ ہم جتنی بھی کوشش کرلیں، ہم ہر بار ناکام ہونگے۔ فلہذا کوئی بھی بات جو ہم نے پڑھی دراصل لکھنے والے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ہم ایک لفظ لکھتے ہیں،

’’گائے‘‘

تو کیا ہوگا کہ آپ فوری طور پر اپنے دماغ میں ایک گائے کا تصور لے آئینگے۔ لیکن لکھنے والے کے ذہن میں جس گائے کا تصور تھا وہ تصور پڑھنے والے کے ذہن میں موجود ہونا ناممکن ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم جانتے ہیں کہ گائے کیا ہوتی ہے لیکن لکھنے والے نے جس طرح کی گائے کو ذہن میں رکھ کر لکھا، ہم کبھی نہیں جان سکتے تاوقتیکہ ہم ایسی گائے کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور جب دیکھ لینگے تو تحریر کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ لکھنے والا اپنی مخصوص ’’گائے‘‘ کو مخصوص صفتوں کے ساتھ لکھ سکتاہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتاہے،

’’پیلی گائے‘‘

اس طرح کہنے سے ہمارے ذہن میں ایک تصور قدرے واضح ہوگا لیکن تب بھی وہ گائے جو لکھنے والے کے ذہن میں تھی ہم کبھی نہ دیکھ پائینگے۔ ژاک دریدا جو ’’ڈی کنسٹرکشنزم‘‘ کا بانی ہے، کہتاہے،

’’ہم مسلسل اپنے زبان کو تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ معنی کے زیادہ سے زیادہ نزدیک پہنچ سکیں۔ لیکن ہم جتنا بھی نزدیک چلے جائیں، ہم کبھی اصل معانی تک نہیں پہنچ پاتے۔

غرض ڈی کنسٹرکشن ایک طریقہ کار ہے جو مسلسل معنی میں موجود خلا کی نشاندہی کرتا رہتاہے۔ ڈی کنسٹرکشنزم کی ایک ہلکی سی مثال روز مرہ زندگی سے یوں لی جاسکتی ہے، مثال کے طور پر دو دوست ہیں۔ ایک بالکل نارمل انسان ہے اور دوسرا نفسیاتی طور پر قدرے زیادہ حسّاس ہے۔ اور دونوں آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ تو ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ ایک دوست جو نارمل ہے، جو بھی بات کرتا ہے دوسرا دوست جو کہ نفسیاتی طور پر زیادہ حسّاس ہے اُس کی ہربات کو غلط معنی پہنا دیتاہے۔ مثال کے طور پر نارمل دوست کہتاہے،

’’ارے! آج تو بڑے خوبصورت لگ رہے ہو‘‘

حسّاس دوست جواب میں کہتاہے،

’’اوہ! تمہارا مطلب ہے کہ میں پہلے بُرا لگتاتھا۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ کیا میں پہلے کبھی خوبصورت نہیں لگا تمہیں؟‘‘

یعنی اُن معانی کو لینے کی بجائے جونارمل شخص نے منتقل کرنا چاہے، سننے والے نے الٹا انہیں ناکام بنا دیا۔ ڈی کنسٹرکٹ کردیا۔ تباہ کردیا۔ ڈی کنسٹرکشن میں بذاتِ خود جو سب سے بڑا نقص ہے وہ خود ڈی کنسٹرکشن کا ہی پیدا کردہ ہے۔ یعنی اگر کسی کتاب یا تحریر پر کوئی تنقید لکھی جائے اور تنقید نگار ڈی کنسٹرکشن کے عمل سے گزرکر تنقید کرے تو پھر بھی وہ جو کچھ لکھے گا، اس کا لکھا ہوا بھی ایک تحریر ہوگا اور اس کے ہر ہر جزو کو اسی طرح ڈی کنسٹرکٹ کیا جاسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک بذاتِ خود کسی بھی تنقید کومطلق سنجیدگی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتی۔ یعنی یوں کہا جاسکتاہے کہ ڈی کسنٹرکشن کی خود بخود ڈی کنسٹرکشن ہوجاتی ہے۔ فلہذا ہم کیسے طے کرینگے کہ ڈی کنسٹرکشن کا عمل بنیادی طور پر کس طرح کام کرتاہے؟ چنانچہ تنقید کے معاملے میں ہمیں پھر واپس ’’نیوکرٹی سِزم‘‘ کی جانب لوٹنا پڑتاہے۔ اگر ہم کسی لفظ کے معنی تباہ کرتے رہےرہینگے تو ہم کسی طور کسی تحریر کو بامعنی قرار نہ دے پائینگے۔ ایک ہی صورت ہے کہ ڈی کنسٹرکشن کا عمل بھی اس اردے کی بجائے کہ تحریر کے معانی کو تباہ کرنا ہے اس ارادے سے انجام دیا جائے کہ تحریر میں سے معنی تلاش کرنے ہیں۔

چنانچہ یہ عمل نیوکرٹی سزم کے طریقوں پر ہی انجام دیا جاسکتاہے۔ اور نیوکرٹی سزم کا طریقہ ہم جان چکے ہیں کہ ہمیں تحریر میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ہم معنی دریافت کرنے کے عمل میں، تحریر میں موجود متضاد اجزأ کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لانے کا کام انجام دینے کے قابل ہیں؟ اگر ہم اِس قابل ہیں تو تحریر میں ’’تناؤ‘‘ موجود ہے اور یہی تناؤ ہمیں ’’تقریبا اصلی‘‘ (approximately absulte) معنی کی جانب لے جاتاہے۔ اسی طرح ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا متضاد اجزأ کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والا معنی تحریر کے مجموعی تاثر کی نمائندگی کرتاہے؟ اگر کرتاہے تو پھر تحریر معیاری ہے۔ لیکن یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوجاتاہے کہ جن اجزأ کو ہم متضاد سمجھ رہے ہیں آیا وہ فی الحقیقت ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بنیادی طور پر ایک دوسرے کے مشابہہ یا مماثل ہوں؟ ایسے سوالات اُٹھانے سے بعض اجزأ مشابہہ نکل آتے ہیں اور پھروہ معنی جو متعین ہونے کے قریب تھا ڈی کنسٹرکٹ ہوجاتاہے۔ یہ بات قدرے گھنجلک ہے اِس لیے اسے سٹیون لِن (Steven Lynn) نے اپنی کتاب ’’ٹیکسٹ اینڈ کنٹیکسٹ‘‘ میں ایک مثال سے سمجھایا ہے۔

ایک لِفٹ کے دروازے پر ایک بورڈ آویزاں ہیں جس پر لکھاہے،

Seeing eyes dogs only

ظاہر ہے اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ وہ کُتے جو کسی نابینا شخص کی رہنمائی کرتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور قسم کا کُتا لفٹ میں لانا منع ہے۔ لیکن اس جملے کے معنی، تحریر کو دیکھ کر متعین کرنا ناممکن ہے۔ ہم اس تحریر میں دیکھ سکتے ہیں کہ تحریر میں واضح طور پر متضاد اجزأ موجود ہیں۔ یعنی ایک وہ چیزیں جو لفٹ میں آسکتی ہیں اور دوسری وہ چیزیں جو لفٹ میں نہیں آسکتیں۔ اسی طرح ایک اور تضاد موجود ہے کہ ’’وہ جو دیکھ سکتے ہیں اور وہ جو نہیں دیکھ سکتے‘‘۔ لیکن جب ہم اسی جملے کو مزید غور سے دیکھتے ہیں تو کئی اور معنی برآمد ہونے لگتے ہیں ۔ جیسا کہ آیا صرف وہی کتے جو نابنیاؤں کو راستہ دکھارہے ہیں، انہی کو آنے کی اجازت ہے؟ اور دیگر تمام کتے اور تمام انسان اور تمام جانوروں کا داخلہ ممنوع ہے؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح کے بے شمار معنی بنتے ہیں۔ اور تو اور یہ اشتہار کن کے لیے آویزاں کیا گیا؟ نابینا لوگوں کے لیے؟ لیکن نابینا لوگ تو اشہتار پڑھ ہی نہیں سکتے۔ غرض جملے کو ڈی کنسٹرکٹ کرتے چلے جائیں تو ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی معاملہ ہے تو فقط اس پر گہرا، مزید گہرا اور مزید گہرا غورکرنے کا۔ مختصر یہ کہ اگر اس جملے کو ڈی کنسٹرکٹ کیے چلے جائیں تو آخر یہ جملہ مکمل طور پر بے معنی قرار دیاجائے گا۔

قصہ مختصر ڈی کسنٹرکشن کے مطابق کسی بھی لفظ، جملے، تحریر، علامت، غرض کسی بھی کمیونیکشن کا بنیادی طور پر کوئی معنی نہیں ہے۔ سب بیان معنی سے خالی ہیں۔

لیکن بقول تھامس فوسٹر (Thomas Foster) ڈی کنسٹرکشن کے فوائد بھی ہیں۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب،

’’ہاؤ ٹو ریڈ لٹریچر لائیک اَ پروفیسر‘‘
How to Read Literature Like a Professor

میں لکھا کہ،

’’ ڈی کنسٹرکشن کے عمل سے ہمیں یہ ضرور پتہ چل جاتاہے کہ کوئی کتاب اپنے وقت کے اقدار اور تعصب کے کس قدر زیرتسلط رہ کر لکھی گئی‘‘

یعنی کوئی کتاب جب بھی لکھی جاتی ہے تو اس کا لکھنے والا ہمیشہ کسی نہ کسی سماجی حیثیت کا حامل ہوتاہے۔ اس کی تاریخ، جغرافیہ، حالات، معاشرت، یہ سب اس کی تحریر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سو جب ڈی کنسٹرکشن کا عمل شروع ہوتاہے تو معنی چاہے کہیں دُور کھو جائیں لیکن کتاب کی اصلیت کا پتہ ضرور چل جاتاہے۔

(حاصل ِ مطالعہ)

ادریس آزاد

گمشدہ جامِ جمشید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جب کائنات، سیّارۂ زمین یا انسانیت سے متعلق کوئی بھی سوال ذہن میں اُٹھتاہے تو ہم فوراً اُسے گوگل میں ڈالتے ہیں۔ ہرطرح کے آرٹیکلزنِکل آتے ہیں۔ آرٹیکلز سے بات سمجھ نہ آئے تو گوگل امِجز کو کلک کرتے ہیں اور اپنے متعلقہ موضوع پر ہم ہزارہا قسم کی تصاویر دیکھ لیتے ہیں۔ گوگل امیجز سے بھی سمجھ نہ آئے تو یوٹیوب پر جاکر ڈھونڈتے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ویڈیو مل جاتی ہے جو متعلقہ سوال یا مسئلے کو لے کر اتنی تفصیل سے حل بتاتی ہے کہ عقل کی فوری تشفی ہوجاتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ ہے۔

کسی قدر حیرت کی بات ہے کہ آج سے صدیوں پہلے بالکل ایسی ہی ڈیوائس کا تصورموجود تھا جسے اردو ادب کے لوگ ’’جامِ جمشید‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ جمشید بادشاہ کے پاس ایک جام تھا جس میں وہ شراب ڈالتا اور پھر اُس شراب میں وہ جو چاہتا دیکھ لیتا۔ پوری زمین کا ہر راز اس کے سامنے تصویروں اور ویڈیوز سمیت عیاں ہوجایا کرتاتھا۔

ان دونوں یعنی انٹرنیٹ اور جامِ جمشید کا ذکر فقط اِس لیے ایک ساتھ کیا کہ میری دانست میں گزشتہ کل میں انسان نے جس جس شئے کی تمنّا کی اور اُسے متصور کیا، آج کے حال میں وہ مشہود ہوکر موجود ہے۔ یہ بات تو تقریباً سبھی کو معلوم ہے کہ ’’لیونارڈو ڈہ ونچی‘‘ نے آج سے پانچ سو سال پہلے ایسے راکٹوں کی تصویریں بنائی تھی جو چاند کا سفر کرتاہے۔ صدیوں بعد جب انسان چاند پر گیا تو بالکل ویسا ہی راکٹ بنایا جیسا ڈہ ونچی نے تصورکیا تھا۔ لیونارڈو نے راکٹوں کے علا وہ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں، توپوں اور دیگر کئی مشینوں کی پینٹگز بھی بنائیں۔ انسان کا ہواؤں میں اُڑنے کا خواب ہزاروں سال پراناہے اور انسان نے بالآخر اِسے پورا کرکے دِکھایا۔

تصور، زمانے میں آگے آگے اور تخلیق اُس کے پیچھے پیچھے سفر کرتی ہے۔ آج جدید فزکس، جدید بیالوجی، روبوٹس اور کمپیوٹرز کی موجودگی میں انسان کی تصور کرنے کی صلاحیت ماضی سے کئی گنا ترقی یافتہ ہے۔ آج کی فزکس سٹرنگ تھیوری کی منطق کی موجودگی میں مختلف ڈائمینشنوں اور بایں ہمہ متعدد کائناتوں کو تصور کرتی ہے۔ آج کی جدید بیالوجی انسانی ڈی این اے میں تبدیلیاں کرکے ایسی ایسی طاقتورمخلوقات کو پیدا کرنے کی اہل ہے جن کو ماضی کا انسان فقط تصورات میں دیکھا کرتا تھا۔

وکی پیڈیا جس کی حیثیت ابھی دوسرے انسائیکلو پیڈیاز کی نسبت ذرا بھی معتبر بھی نہیں ایک لحاظ سے دنیا کا سب سے معتبر انسائیکلو پیڈیا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وکی پیڈیا کو تمام انسان مل کر ایڈٹ کرتے ہیں۔ اگر میں ابھی وکی کے کسی پیج کو ایڈٹ کرکے غلط بات لکھ دوں تو کل شام تک وہ دوبارہ ایڈٹ ہوجاتاہے اور کہیں اور سے کوئی اور اس غلط بات کو دوبارہ درست کردیتاہے۔ یہ سلسلہ اِسی تسلسل سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب وکی پیڈیا دنیا کی واحد کتاب ہوگا۔ اگر کل کو ایک ایسا روبوٹ بنایا گیا جس کا دماغ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو یعنی ورلڈ وائیڈ ویب سے جڑا ہو اور جو ہرسیکنڈ میں اَپ ڈیٹ ہوتی ہوئی معلومات کے اِس عظیم بھنڈار یعنی انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے ہر عمل کرتاہو۔ اس پر مستزاد اگر اس روبوٹ کا جسم لوہے کا بنا ہوا نہ ہو بلکہ جاپانی کمپنیاں ایسا روبوٹ بنادیں جو ہُوبہو انسانی شکل کا ہو تو وہ کیا چیز ہوگا؟ ذرا تصور کریں! ذرا تصور کریں کہ آپ کو ایک شخص ملتاہے جو ہوبہو آپ کے جیسا انسان ہے اور آپ بالکل فرق نہیں کرپاتے کہ وہ اصلی انسان ہے یا روبوٹ۔ آپ اُسے انسان سمجھتے ہیں۔ اب تصورکریں کہ اس کے پاس معلومات کتنی ہیں؟ اس کا جی پی ایس سسٹم سیّارہ زمین کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہوگا اور وہ زمین کے کسی بھی کونے پر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی آن ِ واحد میں ڈھونڈ لے گا۔ اس میں فیس بک کا تمام ڈیٹاہوگا۔ موبائل کی مختلف ایپس، فیس بک اور دیگر ایسی ڈیوائسز جن میں ہماری تصویریں ڈیٹا کے طور پر اپ لوڈ کی گئیں، ان سب کی مدد سے وہ زمین کے ہر انسان کے نام، شکل وصورت، کام کاج، خاندان حتیٰ کہ ارادوں تک سے واقف ہوگا۔ ایسا کوئی روبوٹ تصور کرتے چلے جائیں۔ ایک وقت آئے گاکہ معاذاللہ آپ کو خدا جتنا علیم و بصیر و خبیر روبوٹ اِسی دنیا میں، انسانی شکل میں مل جائیگا۔

صدیوں پہلے جب ایسے تصورات کسی ذہن میں جگہ پاتے تھے تو بہت مشکل ہوتا تھا کہ ان کو خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے الگ کرکے حقائق کی دنیا میں دیکھا جاتا لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج کے تصورات فقط تصورات نہیں بلکہ یہ ’’الٹی میٹ کانسی کوئنسز‘‘ ہیں۔ ریاضی ہے، ڈیٹا اور انفارمیشن ہے۔ گویا ایسے تمام انہونے تصورات آج بہت منطقی ہیں۔ میں سوچتاہوں اور سوچتا چلا جاتاہوں کہ مستقبل کیسا عجیب و غریب ہوگا۔ اور یہ مستقبل کچھ اتنا زیادہ بھی دور نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ہماری اولادیں جو اِس وقت ہمارے ساتھ ہیں کل کو ایسے ہی کسی مستقبل میں رہ رہی ہوں۔ بہرحال سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ حکایت کے مطابق جمشید بادشاہ کے پاس جتنی طاقت تھی، آج ہرانسان کے پاس اُتنی طاقت آگئی ہے۔ اس کے نتائج تو آنے والے کل میں ہی نکلیں گے نا۔ سو کل بہت ہی پراسرار اور عجیب و غریب ہے۔