یادوں کے جھروکے سے

بارہ بجے پی ٹی وی پرفلم آیاکرتی تھی۔ پڑوسیوں کا بلیک اینڈوائی ٹی وی تھا لیکن اباجی کی طرف سے ٹی وی دیکھنے کی شدید ممانعت تھی۔ اس لیے سردیوں کی کوئی فلم یاد نہیں لیکن گرمیوں کی ساری فلمیں یاد ہیں جو ہم نے اپنی چھت سے دیکھی تھیں۔چھت سے پڑوسیوں کا صحن صاف دِکھتاتھا۔وہ ہمارے لیے مناسب زاویے پر ٹی وی رکھ دیتے تھے، ایک سادہ سے میزپر۔ جس پر سندھی کڑاھی والا سفید رنگ کا میز پوش ہوتا اور اس پر ٹی وی۔’’پھول اور شعلے‘‘ میں نے اُسی دورمیں دیکھی۔ اس کے سارے گانے آج بھی مجھے ازبر ہیں۔ خاص طور،

او تواڈی ایسی تیسی غنڈیو! ڈَزن بِزن ٹھاہ

او تلنگیو! او پِتنگیو!

اُن دنوں ہل اور تلوار والا الیکشن ہونا تھا۔ اُن دنوں بھی خوب سیاسی شورتھا ہرطرف۔ دادا جی کے پاس نیشنل کا ریڈیو تھا، جس پر چمڑے کا کور چڑھا ہوا تھا۔ وہ روزانہ صبح سِدھو بھائی  کے پروگرام تک بی بی سی سنتے تھے اور رات کو ٹھیک آٹھ بجے سیربین۔سیربین کا ساز آج بھی میرے اندرکے مورکو ناچنےپر مجبورکردیتاہے۔جس شب ضیأ الحق نے ’’نوّے دن  میں الیکشن کرواؤنگا‘‘ والا وعدہ کیا تھا، اس رات دادا جی نے زندگی میں پہلی بار ٹی وی دیکھنے کی خواہش کا اظہارکیا۔ مجھ سے کہا، ’’جاؤ! خواجہ احسان کے گھر جاؤ! اُن سے کہو کہ میرے دادا جی ضیأ الحق کی تقریر سننے کے لیے آنا چاہتے ہیں‘‘ میں اُن کے ساتھ تھا۔ ہم سب بچے زمین پر بیٹھے تھے۔ خوب رش لگ گیاتھا۔ ضیاالحق نے بھٹو کو گرفتار کرنے کے بعد جو پہلی تقریر کی تھی، یہ  وہی تھی۔

غرض ٹی وی کے گھر میں آجانے کا تو تصور ہی نہیں تھا۔ یہ تو میری شادی ہوئی تو میں چارانچ سکرین والا ایک چھوٹا سا  بلیک اینڈ وائٹ  ٹی وی خرید لایا اور وہ بھی چھپا کر۔ چھوٹا اسی لیے تو لیا تھا کہ چھپایا آسانی سے جاسکتا تھا۔ بیگم کے جہیز میں شوکیس نام کی ایک چیز آئی تھی جس میں کم کم استعمال ہونے والے برتن  سجے رہتے۔ اسی شوکیس کے بائیں طرف کے نچلے کونے میں ایک الگ خانہ تھا ، جو جُوتے رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔جس میں وہ ٹی وی رکھاجاتااور پھرتالہ لگا دیا جاتاتھا۔ شوکیس کے اس چھوٹے سے خانے میں شیشے کا نہیں بلکہ لکڑی کا ایک ننھا سا دروازہ لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے ٹی وی دن بھر اباجی اورامی لوگوں سے چھپا رہتا۔ رات کو ہم میاں بیوی نہایت مدھم آواز میں چلایا کرتے ۔ اینٹینا نہیں تھا۔ میں  نےٹیوب لائیٹ کے راڈ سے ایک ایٹینا خود بنا کر اپنے ہی کمرے کی چھت پر ایسے رکھا تھا کہ اماں ابا کو نظر نہ آئے۔کبھی کبھار ٹی وی صاف نہ چلتا لیکن پھر بھی ہم دیکھتے رہتے۔ صرف مکھیاں اور خرا ب آواز مگر ہم دیکھتے۔ پتہ نہیں ہم کیا دیکھتے تھے۔

اُن دنوں دیواروں پر ’’وی سی آر ایک لعنت ہے‘‘ کی چاکنگ عام ہوا کرتی تھی۔ کوئی شریف خاندان وی سی آر گھر لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ شادی سے  بہت پہلے،  جب دوست وی سی آر کا پروگرام بناتے تو وہ پورا ایک معرکہ ہوتا تھا۔ لینے کون جائیگا۔ کس قسم کی چادر میں لپیٹاجائے۔ کون سے دوست کے گھر میں چلائیں گے۔ راستے میں اُٹھائے گا کون اور سب سے بڑی بات کہ سب دوست برابر برابر حصہ ڈالیں گےکرایہ دینے کے لیے۔ان تمام مراحل میں ایک مرحلہ جس سے میری جان جاتی تھی وہ یہ تھا کہ وی سی آر والی دکان پر جاکر اس کے رجسٹر سے فلم تلاش کرکے بتانا کہ کون کون سی فلمیں لائی جائیں۔

یہ امیتابھ بچن کے عروج کا زمانہ تھا۔’’ نصیب‘‘ میں ہیمامالنی کو دیکھ کر میں تو اُسے دل ہی دے بیٹھا تھا۔ یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ نین نقش کی خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔۱۹۸۸ میں جب کوٹ اَدو’’اوجی ڈی سی‘‘ میں اسسٹنٹ فورمین کی جاب  کی،تو میں نے اپنے کمرے میں ہیمامالنی کی قدِ آدم تصویر لگارکھی تھی۔اس زمانے میں اوجی ڈی سی ہوتا تھا نہ کہ ’’اوجی ڈی سی ایل‘‘۔یہ سب تو شادی سے پہلے پہلے تھا اور لڑکپن میں تھا۔ شادی کے بعد تو میں ایک بڑے سے رومال میں باندھ، بغل میں دبا، رات کی تاریکی میں کبھی کبھار وی سی آرلے آیا کرتا تھا۔ ’’راج تِلک‘‘ اسی زمانے میں تو دیکھی تھی۔ یہ تو شکر تھا کہ اس زمانے میں بیگم صاحبہ اتنی زیادہ مذہبی نہیں تھیں ورنہ کہاں میں اپنے یہ سارے شوق پورے کرسکتاتھا۔ایک مُدت تک تو گھر والوں کو پتہ نہ چلا کہ میں نے ٹی وی لے رکھاہے لیکن پھر وہ کیا ہے کہ، پیٹ میں بات تو رہتی نہیں عورتوں کے۔ آہستہ آہستہ اباجی کو پتہ چل گیا۔ پہلے پہل تو بہت غصہ ہوئے اور بعد میں خود بھی کبھار آجاتے تھے دیکھنے۔ لیکن ان کی طرف سے شدید شرط نافذ کی گئی کہ کبھی کسی اہلِ محلہ کو پتہ نہ لگنا چاہیے کہ ہمارے گھر میں ٹی وی ہے۔

وی سی آر کے حوالے سے معاشرے میں قدرے تبدیلی اس وقت آنا شروع ہوئی جب انڈین فلموں سے متاثر ہوکر ہمارے ہاں شادی بیاہ کی رسمیں فلمائی جانے لگیں اور تمام تر نئی رسمیں انہی فلموں کے ذریعے درآمد کرلی گئیں تو شادی بیاہ کی فلمیں دیکھنے کے چکر میں شرفأ کے گھروں میں بھی کبھی کبھار وی سی آر آنے لگے۔شادی بیاہ کی فلموں کا رجحان بڑھنے لگا۔ لوگ اپنے وی سی آر خریدنے لگے۔ وی سی آر کی لعنت میں کچھ کمی آئی اور قریب تھا کہ اِس پر سے فتوے اُٹھ جاتے لیکن عین اسی زمانے میں ڈِش آگئی۔اورجب ڈِش کی بابت کانوں کان یہ خبر پھیلی کہ اس پر بہت ہی گندے گندے چینل ہروقت چلتے رہتے ہیں تو ویسے بھی وی سی آر پر اُٹھنے والا غیض و غضب اپنا رُخ تبدیل کرنے لگا۔ ڈش اینٹنا پہلے پہل بہت مہنگا تھا۔ میں نے تو خیر نہ کبھی وی سی آر خریدا اور نہ ہی ڈِش ۔ لیکن میرے کئی دوستوں کے گھروں میں ڈش تھی۔اب کے دیواروں پر چاکنگ تو نہ ہوئی لیکن منبرومسجد نے ڈش کی تباہ کاریوں کے خلاف اپنی مہمات جاری رکھیں۔

ابھی یہ سب کچھ چل رہا تھا کہ یکایک پہلے ’’تینتیس دس‘‘  اور’’ موٹوررولا‘‘ نے انٹری ماری۔ ہم میں تو حاجت ت نہ تھی لیکن دوستوں نے فون خرید لیے۔ اُس زمانے میں آؤٹ گوئنگ کال کے ساتھ ساتھ اِن کمنگ کالز کے بھی پیسے لگتے تھے۔ساتھ ہی انٹرنیٹ کے کلب کھل گئے جو دنیا کی سب سے بدنام اور بُری جگہ سمجھی جاتی تھی۔ میں منہ لپیٹ کر جایا کرتاتھا۔ یاہُو سے پہلے ’’ایم آئی آر سی‘‘ کے ذریعے چیٹ ہوا کرتی تھی۔ میری انٹرنیٹ پر سب سے پہلی خاتون دوست ایک بیالیس سالہ جاپانی تھی۔ اس زمانے میں کسی سے چیٹ کرنے کے لیے دوست ہونا ضروری نہیں ہوتاتھا۔ بس کسی کو آ ن لائن دیکھا اور یہ میسج سینڈکردیا۔

Hi.m/30/pak

اس کا مطلب ہوتا تھا کہ ’’ہائے! میں میل  (مرد) ہوں، تیس سال کا ہوں اور پاکستانی ہوں‘‘۔ پاکستانیوں سے کم کم ہی لوگ دوستی کرتے تھے کہ اس زمانے میں امریکہ کے مقاصد افغانستان میں پورے ہوچکے تھے، افغانستان میں سول وار جاری تھی اور پاکستان کو منشیات اور اسلحے کے حوالے سے بدنام کیا جارہاتھا۔میں نے اگرچہ کمپیوٹر تو ’’تھری ایٹی سکس‘‘ کے زمانے سے استعمال کرنا شروع کردیاتھا۔ ابھی پچھلے دنوں ہی میرا وہ دوست فوت ہوا جس کا کالا کمپیوٹر میں استعمال کرتا تھا لیکن تب ونڈوز نہیں ہوتی تھی اور کچھ بھی رنگین نہیں تھا کمپیوٹر کی دنیا میں۔ یہ تو جب میں محکمہ زکوٰۃ میں آڈیٹر لگا ہوا تھا تب ایک دن باس کے کمرے میں پہلی بار ونڈونائٹی فائیو استعمال کی تھی۔ نائٹی فائیو کے سال ہی میرا بیٹا اسد پیدا ہوا۔ تب گھر میں رنگین ٹی وی تھا، اورین کمپنی کا۔ اور وی سی آر کی جب کبھی ضرورت ہوتی آسانی سے لایا جاسکتا تھا۔ اب زمانہ بدل چکا تھا۔ اب ابا جی نوبجے والا خبرنامہ سننے کے لیے خود ہمارے کمرے میں آیا کرتے تھے۔

دوہزار ایک میں ، میں اپنے گھر پی ون لے آیا۔ پکچر آئی ٹی کے سوا کوئی پروگرام چلانا نہیں آتا تھا۔ البتہ فلمیں بہت دیکھیں۔ تب انٹرنیٹ چلانے کے لیے دھماکے والا کارڈ لینا پڑتاتھا۔ دس روپے کا کارڈ ایک گھنٹہ چلتا تھا اور سپیڈ نہ ہونے کے برابر۔ کئی سال تک یہی سلسلہ رہا۔مجھے یاد ہے جب میری ایک منٹ کی پہلی ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ ہوئی تھی تو اس کی اپلوڈنگ میں سارا دن لگ گیا تھا۔ بار بار ٹوٹ جاتی تھی۔وہ ویڈیو آج بھی ہے یوٹیوب پر۔جونہی ویڈیو کی اپلوڈنگ مکمل ہوئی میں چھلانگ لگا کر چارپائی سے اُترا اور باہر صحن میں جاکر بھنگڑا ڈالنا شروع کردیا۔کمپیوٹر کے لیے ٹیبل اور چیئر تو تھی نہیں میرے پاس۔ اس لیے خود چارپائی پر بیٹھتا اور کمپیوٹر کو ایک سٹول پر رکھتاتھا۔ اس زمانے میں، میں مایا سافٹ وئر کی ٹریننگ کی ویڈیوز بنایا کرتاتھا۔

وقت کی رہداری سے ہم گزرتے رہے اور ماضی کو پیچھے چھوڑتے گئے اور پھر آج وہ وقت بھی ہے کہ اِدھر خیال آیا اور اُدھر یوٹیوب یا گوگل سے چیز سیکھ لی۔ کتابیں الماریوں میں پڑی پڑی سُوکھ گئی ہیں لیکن فیس بک ہے  کہ ہروقت سامنے کھلی رہتی ہے۔

 

 

مذکورہ بالا مضموں مدیر: قاسم یادؔ نے شائع کیا۔

قاسم یاد گزشتہ بیس سال سے ادریس آزاد کے ساتھ مختلف علمی ادبی سرگرمیوں میں یوں موجود رہے ہیں جیسے درخت کےساتھ مالی۔انہوں نے ادریس آزاد کے قلم کی سیاہی کو کبھی خشک نہیں ہونے دیا۔ وہ خود ایک نہایت باذوق انسان ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ ادریس آزاد کے بقول اُن کی تمام کُتب کی اوّلین کتابت قاسم یاد نے کی ہے ۔ یعنی ادریس آزاد نے اپنی کُتب خود نہیں لکھیں بلکہ اِملا کروائی ہیں۔ اصل نام قاسم شہزاد۔ قلمی نام قاسم یاد۔ قاسم یاد اب نہیں لکھتے، لیکن کبھی لکھا کرتے تھے۔ استفسار پر فرماتے ہیں، ’’میرے ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھنے کے نہیں‘‘۔ تحریر: محمد ریاض امین